وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال  نے کہا ہے کہ پاکستان میں  ہر سال آبادی میں 61 لاکھ کا اضافہ ہوتا ہے،جبکہ 68 فیصد بیماریاں گندا پانی پینے سے پھیلتی ہیں۔

وفاقی وزیر صحت بنیادی مرکز صحت  گولڑہ شریف میں بگ کیچ اپ راؤنڈ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تقریب بچوں کو بارہ جان لیوا بیماریوں سے بچانے کیلئے ہے، جوبچے کوویڈ کے زمانے میں روٹین ویکسی نیشن سے محروم رہے یہ ان کیلئے ہے، مہم میں آئندہ بارہ دن تک بچوں کی ویکیسی نیشن کرینگے۔

مصطفی کمال نے کہا کہ پاکستان کا نظام صحت خود بیمار ہے، ہیلتھ کئیر سسٹم میں خرابیان ہیں، پمز اسپتال  ہزاروں لوگوں کے لئے بنا تھا، اب لاکھوں لوگ آگئے تو مریض کہاں جائیں گے، اسپتال میں جائیںں تو لگتا ہے ابھی جلسہ ختم ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اربوں روپے لگا کر ہسپتال بنارہے ہیں ،مزیدکتنے ہسپتال بنائیں گے؟ 70 فیصد لوگ بڑے اسپتالوں میں غیر ضروری جاتے ہیں۔ پاکستان کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

پاکستان میں آبادی 3.

6 فیصد کے حساب سے بڑھ رہی ہے،پاکستان میں  ہر سال آبادی میں 61 لاکھ کا اضافہ ہوتا ہے، ایران اوربنگلہ دیش اسے 2%تک کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

پاکستان کی آبادی دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے، ہیپاٹٹس کے مریضںوں میں پاکستان سب سے آگے ہے، 2 کروڑ 60 بچے اسکول سے باہر ہیں جبکہ پاکستان کے 40 فصد بچے غزائیت کی قلت کے باعث کمزور ہیں، ان کی نشوونما نہیں ہوپاتی۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی

رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔

مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔

دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔

اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

متعلقہ مضامین

  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی