سپریم کورٹ کا فیصلہ اور اراکین کی معطلی: کیا پی ٹی آئی پنجاب میں سیاسی تنہائی کی طرف جا رہی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
سپریم کورٹ کے 27 جون 2025 کے فیصلے نے پنجاب اسمبلی میں بھی سیاسی منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا۔ اس فیصلے کے تحت پنجاب اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مخصوص نشستوں سے محروم کر دیا گیا ہے، جبکہ مسلم لیگ ن کی حکومت کو ایوان میں دو تہائی اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔
اس فیصلے کے بعد پنجاب اسمبلی میں ایک اور واقعہ پیش آیا جس نے صورت حال مزید بدل دی۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی تقریر کے دوران مبینہ طور نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر اپوزیشن کے 26 ارکان کی رکنیت اگلے 15 اجلاسوں کے لیے معطل کر دی گئی، جس سے اپوزیشن کی سیاسی طاقت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اب اپوزیشن پنجاب اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے درکار 93 اراکین کی ریکوزیشن بھی جمع نہیں کرا سکتی۔
سپریم کورٹ کے 10 رکنی آئینی بینچ نے جولائی 2024 کے اپنے سابقہ فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے پی ٹی آئی سے 22 قومی اور 55 صوبائی اسمبلیوں کی مخصوص نشستیں واپس لے لیں۔
پنجاب اسمبلی میں 27 مخصوص نشستیں مسلم لیگ ن کو دی گئی ہیں، جس سے ان کی اکثریت مضبوط ہو گئی۔ اس فیصلے کے بعد مسلم لیگ ن کی قیادت میں اتحادی حکومت قومی اسمبلی میں بھی دو تہائی اکثریت کے قریب پہنچ گئی ہے۔
پی ٹی آئی نے اس فیصلے کو ’آئین اور جمہوریت کا قتل‘ قرار دیا اور احتجاج کا اعلان کیا۔ پارٹی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’یہ فیصلہ عوامی مینڈیٹ اور عدلیہ کی آزادی کے خلاف سازش ہے۔
تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ پی ٹی آئی کی اپنی قانونی کمزوریوں کا نتیجہ ہے، کیونکہ پارٹی نے مخصوص نشستوں کے انتخاب کے قواعد و ضوابط کی مکمل پیروی نہیں کی۔
پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کی معطلی
وزیراعلیٰ مریم نواز کی تقریر کے دوران پی ٹی آئی نے احتجاج کیا جس کے بعد 26 ارکان کو مبینہ طور پر نازیبا زبان استعمال کرنے پر سنیچر کو سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے 15 اجلاسوں کے لیے معطل کر دیا۔ اس سے اپوزیشن ارکان کی تعداد 105 سے کم ہو کر 79 رہ گئی ہے۔ اس کے باعث اپوزیشن اب اجلاس بلانے کے لیے ضروری 93 ارکان کی ریکوزیشن جمع نہیں کرا سکتی۔
لیکن یہ بات یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ پیر کو اسمبلی اجلاس سے پہلے اپوزیشن کے چار اہم اراکین کو قائمہ کمیٹیوں کی سربراہی سے ہٹا دیا گیا۔ ان میں صائمہ کنول، محمد مرتضیٰ اقبال، محمد انصر اقبال اور احسن علی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ سپیکر نے 16 جون کے اجلاس میں ہنگامہ آرائی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے پر 10 ارکان پر جرمانہ بھی عائد کیا۔
دوسری طرف اپوزیشن رہنما ملک احمد بھچر نے معطل اراکین کے ہمراہ اسمبلی گیٹ پر احتجاج کیا، لیکن پولیس کی موجودگی کی وجہ سے احتجاج منتشر ہو گیا۔ پی ٹی آئی نے اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اپوزیشن لیڈر نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اسمبلی کو یرغمال بنا لیا گیا ہے، اور اب طاقت اور دھونس کا استعمال ایوان تک پہنچ گیا ہے۔ اپوزیشن اگر ایوان کے اندر احتجاج بھی ریکارڈ نہیں کروا سکتی ہے تو پھر ہمارے پاس اور کیا آپشن بچتا ہے؟ ہم سپیکر کے اس عمل کے خلاف عدالت جا رہے ہیں۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے مطابق ’پی ٹی آئی کی سخت گیر سیاسی حکمت عملی اسے تنہائی کی طرف لے جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی ہمیشہ ہر محاذ پر لڑتی ہے، چاہے اسمبلی ہو یا سڑکیں، لیکن اس کی یہ حکمت عملی اسے پارلیمانی عمل سے باہر کر رہی ہے۔ سنہ 2022 میں قومی اسمبلی سے استعفوں نے پارٹی کو قانون سازی سے دور کر دیا، اور اب پنجاب اسمبلی میں احتجاج نے اس کی آواز کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ میرے خیال میں انہیں اب سوچنے کی شدید ضرورت ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’نعرے بازی اور ہنگامہ آرائی سے عوام کی توجہ تو ملتی ہے، لیکن پارلیمانی اثر پذیری ختم ہو جاتی ہے۔ اور اب جس طرح کے حالات ہیں ان کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔‘
دوسری جانب سینیئر صحافی مجیب الرحمن شامی سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی سیاست عوامی جذبات پر مبنی ہے، جو اس کی طاقت بھی ہے اور کمزوری بھی۔
وزیراعلٰی مریم نواز کی تقریر کے دوران مبینہ طور نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر اپوزیشن کے 26 ارکان کی رکنیت اگلے 15 اجلاسوں کے لیے معطل کر دی گئی۔ (فوٹو: این این آئی)
انہوں نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سپریم کورٹ کا فیصلہ اور معطلیاں دونوں ایسے واقعات ہیں جن کے باعث ایوانوں کے اندر تحریک انصاف کمزور ہوئی ہے۔ لیکن پی ٹی آئی کو چاہیے کہ وہ اپنی توجہ احتجاج کے بجائے قانونی اور پارلیمانی جنگ پر مرکوز کرے۔‘
مجیب الرحمن شامی نے مزید کہا کہ ’پی ٹی آئی کی ماضی میں بھی ایسی حکمت عملی رہی ہے جیسے استعفے دے کر اسمبلیوں سے باہر آ گئے تھے، لیکن بہت بعد میں خان صاحب یہ کہتے پائے گئے کہ وہ فیصلہ درست نہیں تھا۔ آج بھی صورت حال ویسی ہی لگ رہی ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ یہ سزا بھی تھوڑی زیادہ سخت ہے۔ حکومت اور سپیکر کو چاہیے کہ وہ زیادہ برداشت کا مظاہرہ کریں، یہی جمہوریت کا حسن ہے۔
پی ٹی آئی کی سیاسی تاریخ اس کی جارحانہ حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہے۔ سنہ 2022 میں قومی اسمبلی سے استعفے دینے کے بعد پارٹی قانون سازی کے عمل سے باہر ہو گئی، جس سے مسلم لیگ ن اور اس کے اتحادیوں کو پارلیمنٹ میں برتری حاصل ہوئی۔ اب پنجاب اسمبلی میں احتجاج اور نازیبا زبان کے استعمال کی وجہ سے 26 ارکان کی معطلی نے اپوزیشن کی سیاسی طاقت کو مزید کمزور کر دیا ہے۔
ماہر قانون ڈاکٹر عثمان علی کہتے ہیں کہ ’پی ٹی آئی کی پارلیمانی حکمت عملی جذباتی ہے، نہ کہ حکیمانہ۔ وہ اپنے ووٹ بینک کو متحرک کر لیتی ہے، لیکن پارلیمانی قوت کو نظر انداز کرتی ہے، جو طویل مدتی نقصان کا باعث بنتا ہے۔
’انہیں سنجیدگی سے سوچنا ہو گا کہ اب نئے رولز آف گیمز کیا ہیں۔ انہیں اپنی توجہ اپنی سیاست پر مرکوز کرنی چاہیے۔ اور جہاں تک 15 اجلاسوں کی معطلی کی بات ہے میرا خیال ہے کہ یہ تھوڑا زیادہ ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے اور اپوزیشن کی معطلی کے بعد پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی حکومت کو قانون سازی کے لیے بغیر کسی رکاوٹ کے دو تہائی اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔ 26 اراکین کی معطلی اور قائمہ کمیٹیوں سے اپوزیشن اراکین کی برطرفی نے ان کی قانون سازی پر اثراندازی کو محدود کر دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پنجاب اسمبلی میں پی ٹی ا ئی کی اس فیصلے کے اپوزیشن کی سپریم کورٹ مسلم لیگ ن حکمت عملی اراکین کی ارکان کی کی معطلی کے بعد گئی ہے ہو گئی رہی ہے کے لیے کر دیا
پڑھیں:
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جمعہ سے پاکستان، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) نافذ کر رہی ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا۔ یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت جمعہ کو ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے۔ ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف: عالمی مارکیٹ میں کس ملک کو کتنا نقصان ہوا؟
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
پاکستان سمیت کن ممالک پر 10 فیصد ٹیرف؟حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
عالمی ردعملآسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
قانونی ماہرین کی رائےتجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف اسٹاک مارکیٹ لے بیٹھا، کملا ہیرس کی پیشگوئی سچ ثابت
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تجارتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا، سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھانا اور درآمدی تجارت پر سخت نگرانی برقرار رکھنا ہے، تاہم ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اس سے عالمی تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ اور امریکی صارفین کے لیے درآمدی اشیا مہنگی ہونے کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹرمپ ٹیرف