وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہمارا دشمن (بھارت) پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، پڑوسی ملک کو ابھی بین الاقوامی عدالت میں سبکی کا سامنا کرنا پڑا، عدالت نے فیصلہ دیا کہ بھارت 1960 کے معاہدے کے تحت نہ تو اسے معطل کر سکتا اور نہ ہی ختم، بدقستمی سے اُن کے عزائم ناپاک اور خطرناک ہیں۔

اسلام آباد میں نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر میں وزیراعظم شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے خلاف جو اقدامات اٹھانا چاہتا ہے، اس حوالے سے حکومت پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے دیامر بھاشا ڈیم سمیت دیگر منصوبوں میں پانی کو ذخیرہ کرنے کی گنجائش کو بڑھائیں گے، ایسے منصوبوں پر کام کریں گے جو کہ غیر متنازع ہوں۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ حالیہ سیلاب کے دوران سوات میں بہت سی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، سیاست کو ایک طرف رکھتے ہوئے ہمیں ان حادثات کا ایماندارانہ طریقے سے جائزہ لینا ہوگا، این ڈی ایم اے نے اگر اس پر رپورٹ نہیں بنائی تو فوری طور پر واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے رپورٹ تیار کی جائے۔

49 لوگ ان واقعات میں جاں بحق ہوئے اور متعدد زخمی ہوئے، افسوس ناک واقعات پر پوری قوم اشک بار تھی، ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے پی ڈی ایم ایز اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ملکر مربوط حکمت عملی بنائی جائے تاکہ اس طرح کے سانحات سے بچاؤ ممکن ہو سکے۔

وزیراعظم نے کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کثیرالمقاصد اہم قومی ادارہ ہے، 2022 کےسیلاب کے بعد این ڈی ایم اے کو جدید خطوط پراستوارکیا گیا، 2022 کے بدترین سیلاب سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں اور لاتعداد مکانات کو نقصان پہنچا۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ ہمارا گرین ہاؤسز گیسز کے اخراج میں حصہ بہت کم ہے، موسمیاتی تبدیلی کو مدنظر رکھ کر انفرا اسٹرکچر کی تعمیر ضروری ہے، موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں این ڈی ایم اے پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سماجی اور معاشی ترقی کے اہداف کے حصول کیلئے کوششیں تیزکرنا ہوں گی، قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے قومی ادارے کی استعداد میں اضافہ کریں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ موسمیاتی تغیرات کے تناظر میں این ڈی ایم اے کی صوبوں سے ہم آہنگی ضروری ہے، ہمیں مستقبل کے چیلنجز کو مدنظر رکھ کر خود کو تیار کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان کا شمار موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ملکوں میں ہوتاہے، این ڈی ایم اے کی جدید ٹیکنالوجی کےحصول اور بروقت معلومات کی فراہمی کے لیے اقدامات قابل تعریف ہیں۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: شہباز شریف نے ڈی ایم اے نے کہا کہ

پڑھیں:

پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ

اسلام آباد:

پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔

بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری