کراچی میںڈونلڈ ٹرمپ کیخلاف مقدمے کی درخواست مسترد
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سیشن عدالت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر مقدمہ درج کرنے کے لیے دائر درخواست کو خارج کردیا۔کراچی کی سیشن عدالت نے درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے ابتدائی سماعت پر ہی خارج کردی اور جج نے کہا کہ عالمی قوانین اور ویانا کنونشن 1961 کے تحت ریاست کے سربراہ کو استثنا حاصل ہے۔سیشن عدالت میں سرکاری وکیل نے مؤقف اپنایا کہ امریکی صدر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست قابل سماعت نہیں، درخواست گزار صرف ملک کی مشکلات میں اضافہ کرانا چاہتے ہیں، بم گرا ایران میں اور مقدمہ درج
کرانا چاہتے ہیں پاکستان میں؟درخواست بدنیتی کی بنا پر سستی شہرت کے لیے دائر کی گئی ہے۔ سرکاری وکیل کے دلائل پر درخواست گزار جمشید علی خواجہ کے وکیل جعفر عباس جعفری نے عدالت سے استدعا کی کہ ثابت کرچکے درخواست قابل سماعت ہے، مقدمے کی سیکشن بھی بتادی، لاکھوں پاکستانی ٹرمپ کے اقدام سے متاثر ہوئے ہیں، ہم گرفتاری نہیں چاہ رہے صرف مقدمہ درج کیا جائے۔بعد ازاں سیشن عدالت نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد ٹرمپ پر مقدمے کی درخواست خارج کردی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سیشن عدالت
پڑھیں:
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے خلاف سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کے معاملے پر اے این پی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے نیشنل سائبرکرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں درخواست جمع کرادی۔
ایک شخص کےخلاف آئی جی اور سیکرٹری داخلہ کو بھی درخواست دی گئی ہے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق میاں افتخار کا کہنا ہے کہ اے این پی کے خلاف سوشل میڈیا پر مذہبی بنیادوں پر نفرت انگیز اور اشتعال انگیز مہم قابل مذمت ہے، پارٹی کے خلاف نفرت پھیلا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اے این پی آئین کی بالادستی، جمہوریت، عدم تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد کی علمبردار ہے۔
امریکی فورسز نے متعدد ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کو تباہ کر دیا: سینٹکام
میاں افتخار نے مطالبہ کیا ہےکہ این سی سی آئی اے، آئی جی اور سیکرٹری داخلہ فوری اور شفاف تحقیقات کرائیں، نفرت انگیز مواد پھیلانے اور جھوٹے بیانیے تشکیل دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
مزید :