Jasarat News:
2026-06-03@04:48:35 GMT

فاروق اعظم کے عظیم کارنامے

اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

علامہ عبدالخالق آفریدی
رسول اکرمؐ نے اپنا ایک خواب صحابہ کرام کے سامنے بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک کنوئیں کی منڈھیر پر کھڑا ہوں پانی کا ڈول ہاتھ میں لیکر پانی نکالتا ہوں اس کے بعد میں نے یہ ڈول ابوبکر صدیق کو دیدیا انہوں نے چند ڈول پانی کے نکالے ہوں گے مگر ان کی چال میں کچھ کمزوری تھی اللہ ان کی مغفرت فرمائے پھر ابوبکر کے ہاتھ سے یہ ڈول عمر بن خطاب کے ہاتھ میں پہنچا انہوں نے جس تیزی جانفشانی کے ساتھ پانی نکالا میں نے اتنا مضبوط مستحکم شخص کبھی نہیں دیکھا، کھیت پانی سے اتنے بھر گئے کہ کناروں تک پانی پہنچ گیا، تمام چوپائے اور انسان سیراب ہوئے۔ آپؐ نے اس خواب کی تعبیر خدمت اسلام سے فرمائی۔ اشارہ تھا محمد الرسول اللہ کے بعد خلافت کا تاج ابوبکر صدیقؓ کے سر پر سجے گا۔ خدمت اسلام کی نگرانی ان کو میسر آئے گی اس کے بعد خلیفہ عمر فاروق ہوں گے۔ اسلام کے جھنڈے کو چار دانگ عالم میں لہرانے کا اعزاز ان کو حاصل ہوگا۔ عمر بن خطاب نے نہ صرف اس خدمت اسلام کو بڑی جرأت و بہادری کے ساتھ انجام دیا بلکہ رسول ثقلین کے پونے دو لاکھ صحابہ میں یہ اعزاز صرف ان کو ملا کہ سارے صحابہ مرید مصطفی ہیں لیکن عمر بن خطاب مراد مصطفی ہیں۔

مکی زندگی میں مسلمان جب کفار کے مظالم سے بہت تنگ تھے اور متعدد بار اس کا اظہار حبیب کبریا کے سامنے کرچکے تھے مسلمانوں کی تعداد بھی صرف 39 تھی ایک رات رسول امین نے اپنے رب کی بارگاہ عالی میں ہاتھ اٹھائے اور التجا فرمائی اے اللہ! عمر بن خطاب یا عمرو بن ہشام کو اسلام کی دولت سے مالا مال فرما کر اسلام کو قوت و شوکت عطا فرما اگلے ہی روز عمر بن خطاب نے دار ارقم میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا ان کے قبول اسلام کے وقت صحابہ کرام نے اتنے زور سے نعرہ تکبیر بلند فرمایا کہ مکہ کے دشت و جبل گونج اٹھے۔ ظہر کی نماز کا وقت ہو چلا تھا سیدنا عمر رسول گرامی سے التماس کرتے ہیں یا رسول اللہ اب نماز خانہ کعبہ میں اعلانیہ ادا فرمائیے۔ آپ امامت فرمالیں گے اور خطاب کا بیٹا عمر صحابہ کی چوکیدار کرے گا۔ چنانچہ صحابہ دو صفوں میں نکلے ایک کے ساتھ شیر خدا سیدنا حمزہ اور دوسری صف کے ساتھ عمر بن خطاب موجود تھے اور خانہ کعبہ میں علی الاعلان نماز ادا فرمائی، کفار اس وقت دارالندوہ میں موجود تھے مگر کسی کی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ مسلمانوں کو روکنے کی جرأت کرسکے۔

غزوہ خندق کے موقع پر نبی کریمؐ نے جو پیش گوئی کی تھی وہ بھی سیدنا عمر فاروق کے دور خلافت میں پوری ہوئیں۔ سیدنا عمر 13 ہجری 22 جمادی الثانی کو تخت خلافت پر تشریف فرماہوئے آپؓ نے رسول اکرمؐ کی پیش گوئی کو سامنے رکھتے ہوئے ملک فارس کو فتح کرنے کے لیے صحابہ کرام کا لشکر جرار تیار فرمایا اور اس کی کمان اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے جلیل القدر صحابہ سے مشورہ کیا سیدنا علی اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف نے مشورہ دیا کہ خلیفہ وقت کو مدینہ میں ٹھیر کر کسی اور کو روانہ کرنا چاہیے چنانچہ سعد بن ابی وقاص کو سالار لشکر بنا کر روانہ کیا گیا صرف ایک سال کے بعد سعد ابن وقاص نے فارس کے بہت بڑے لشکر میدان قادسیہ میں شکست فاش سے دوچار کیا اور آگے بڑھ کر دریائے دجلہ کو عبور کیا کسریٰ کے تاریخی محل قصر ابیض کو فتح کیا محل میں اعلیٰ قسم کے نوادرات قیمتی قالین اور غالیچوں کو دیکھ کر بے ساختہ قرآن مجید کی سورۃ دخان کی آیات 25 تا 27 زبان پر آگئیں جن کا ترجمہ یہ ہے ’’کتنے ہی باغات اور چشمے چھوڑ گئے کھیتیاں اور اعلیٰ ٹھکانے وہ نعمتیں جن سے عیش کررہے تھے ہم نے ان کا وارث دوسروں کو بنایا ان پر نہ زمین و آسمان روئے نہ ان کو مہلت ملی‘‘۔ سیدنا سعد نے ایک قاصد کو جب مدینہ منورہ روانہ فرمایا قاصد جب مدینہ پہنچا تو سیدنا عمرنے بڑے بڑے صحابہ کو جمع فرمایا اور اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوگئے فرمانے لگے بڑائی اور کبریائی اس ذات اقدس کے لیے جس نے اپنے ایک ادنیٰ سے غلام عمر بن خطاب کو اپنے حبیب کی پیش گوئی پوری کرنے کی توفیق عطافرمائی یہ واقعہ محرم 14ہجری کا ہے۔فاروق اعظم نے سرکار دوعالم کی دوسری پیش گوئی کو پورا کرنے کے لیے سیدنا ابوعبیدہ کو سالار لشکر بناکر ملک شام کی طرف روانہ فرمایا ابوعبیدہ ملک روم کا کے مختلف شہروں کو فتح کرتے ہوئے بیت المقدس تک پہنچ گئے عیسائیوں نے صلح کے ذریعہ بیت المقدس کو مسلمانوں کے حوالے کرنے کا عندیہ ظاہر کیا صلح کی شرائط میں اہم ترین شرط یہ تھی کہ صلح کی دستاویز پر خود امیر المومنین بنفس نفیس بیت المقدس تشریف لا کر دستخط فرمائیںگے۔

سیدنا عمر کا سفر فلسطین سادگی اور قناعت کی ایک منفرد مثال ہے آپ مدینہ سے روانہ ہوئے ساتھ ایک اونٹ سواری کے لیے ایک غلام رفاقت کے لیے ایک ستوئوں کا تھیلہ زاد راہ کے طور پر ایک لکڑی کا سادہ پیالہ ستو گھولنے کے لیے جسم پر جو کرتا تھا اس پر چودہ پیوند لگے ہوئے دوران سفرکبھی خود اونٹ پر سوار ہوتے اور غلام پیدل چلتا کبھی غلام کو اونٹ پر بٹھاتے اور خود پیدل چلتے جب بیت المقدس کی حدود میں داخل ہوئے بڑے بڑے عیسائی پادری اپنی مقدس کتاب انجیل ہاتھوں میں لیے ہوئے اونچی عمارتوںکی چھتوں پر بیٹھے امیرالمومنین کے ان اوصاف کو ملاحظہ کررہے تھے جو اللہ نے پہلے سے توراۃ و انجیل میں بیان فرمادیے تھے قرآن مجید کی سورۃفتح کی آخری آیت میں اللہ کا ارشاد ہے محمد الرسول اللہ کے ساتھی کافروں پر سخت آپس میں رحمدل ہیں تو ان کو دیکھے گا رکوع اور سجدے میں اللہ کی رضا مندی تلاش کررہے ہیں ان کی یہ مثال توارۃ اور انجیل میں بھی ہے پادریوں نے اونٹ پر سوار شخص کی نشانیاں دیکھیں باہمی مشورہ کے بعد اس رائے پر متفق ہوئے کہ یہ وہ شخص نہیں جس کے اوصاف انجیل میں ہیں اب میر لشکر ابوعبیدہ سے پوچھا خلیفۃ المسلمین کہاں ہیں انہوں نے جواب دیا جو اونٹ کی مہار تھامے پیدل چل رہا ہے وہ امیر المومنین ہے انہوں نے دوبارہ کتاب کو کھولا دیکھا تو سارے اوصاف اس میں موجود تھے باہمی اتفاق رائے سے بادشاہ کو مشورہ دیا کہ ملک کی چابیاں ان کے حوالے کردو یہ وہی امیر ہے جو دنیا کو فتح کرے گا اس طرح محض تین سال کے عرصے میں 16 ہجری رجب کے مہینے میں آپ نے بیت المقدس کو اسلام کی سلطنت کی حدودمیں داخل فرما کر رسول امینؐ کی دوسری پیش گوئی کو عملی جامہ پہنایا۔

آپ نے ساڑھے بائیس لاکھ مربع میل کا علاقہ فتح کیا آپ نے چار ہزار شہر فتح کیے چار ہزارمسجدیں تعمیر کیں چار ہزار بت خانے توڑے اور بیشمار خزانے اسلامی بیت المال میں داخل ہوئے 26 ذوالحجہ فجر کی نماز کے وقت ایک مجوسی غلام ابولولو فیروز نے خنجر کے وار سے آپ کو زخمی کیا اور یکم محرم 24 ہجری کو آپ جام شہادت نوش کرگئے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بیت المقدس پیش گوئی انہوں نے کے ساتھ کے لیے کے بعد کو فتح

پڑھیں:

امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ

اسلام ٹائمز: یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جسکے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جسکی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ تحریر: مجتبیٰ شجاعی

بیسویں صدی کی تاریخ میں ایسی عظیم اور غیر معمولی شخصیات نے جنم لیا، جنہوں نے اپنے افکار، کردار اور جدوجہد کے ذریعے دنیا کی سیاسی، سماجی اور فکری سمتوں کا رُخ موڑ دیا اور زمانے کی تقدیر بدل دی۔ حضرت امام خمینیؒ انہی نابغۂ روزگار اور درخشاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف ایران کی سیاسی تاریخ کو ایک نیا رخ عطا کیا، بلکہ پورے عالم اسلام کی فکری، ثقافتی اور سیاسی زندگی پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ ان کی قیادت میں برپا ہونے والا اسلامی انقلاب محض ایک سیاسی تبدیلی نہ تھا بلکہ ایک ایسی فکری اور تہذیبی تحریک تھی، جس نے عالم اسلام میں دین، سیاست، آزادی، بیداری اور اجتماعی شعور کے بارے میں نئی بحثوں کو جنم دیا۔

بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ نے جب اپنی تحریک کا آغاز کیا، اس وقت عالم اسلام کا بیشتر حصہ سیاسی استبداد، بیرونی طاقتوں کے اثر و نفوذ، معاشی پسماندگی اور تہذیبی بحران کا شکار تھا۔ نوآبادیاتی دور کے اثرات ابھی تک مسلم معاشروں پر نمایاں تھے اور بہت سی اقوام اپنی تاریخی شناخت اور فکری خود اعتمادی سے محروم دکھائی دیتی تھیں۔ ایسے ماحول میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے مسلم دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسلام صرف عبادات اور انفرادی زندگی تک محدود مذہب نہیں، بلکہ ایک زندہ اور متحرک نظام حیات ہے، جو معاشرے کی تنظیم، ریاست کی تشکیل اور اجتماعی مسائل کے حل کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

انقلاب اسلامی کی کامیابی کا سب سے بڑا اثر یہ تھا کہ اس نے مسلمانوں میں خود اعتمادی اور خود شناسی کے ایک نئے احساس کو جنم دیا۔ ایک طویل عرصے تک یہ تصور عام رہا تھا کہ ترقی اور جدیدیت کا راستہ صرف مغربی نمونوں کی تقلید سے ہو کر گزرتا ہے، لیکن امام خمینیؒ نے اس نظریئے کو عملاً چیلنج کیا۔ انہوں نے امت مسلمہ کو اپنی تہذیبی میراث، دینی اقدار اور داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کی دعوت دی۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ مسلمان اگر اپنی فکری بنیادوں سے وابستہ رہیں تو وہ نہ صرف اپنی آزادی اور وقار کا تحفظ کرسکتے ہیں بلکہ ترقی اور استحکام کی نئی منازل بھی طے کرسکتے ہیں۔

اسی فکری بیداری کے ساتھ امام خمینیؒ نے وحدت اسلامی کے تصور کو بھی غیر معمولی اہمیت دی۔ ان کے نزدیک عالم اسلام کو درپیش اکثر مسائل کی جڑ باہمی انتشار اور فرقہ وارانہ تقسیم تھی۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ فقہی اور مسلکی اختلافات کو دشمنی کا سبب بنانے کے بجائے مسلمانوں کو اپنے مشترکہ عقائد، مشترکہ تاریخ اور مشترکہ مقاصد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اسلامی وحدت کو اپنی سیاسی اور فکری جدوجہد کا بنیادی ستون قرار دیا اور امت مسلمہ کو ایک وسیع تر اسلامی اخوت کے تصور سے روشناس کرایا۔

وحدت اسلامی کے اس تصور کے ساتھ ساتھ امام خمینیؒ نے مظلوم اقوام کی حمایت کو بھی اپنی فکر کا اہم حصہ بنایا۔ ان کے نزدیک ظلم خواہ کسی بھی شکل میں ہو اور مظلوم کسی بھی خطے، مذہب یا مسلک سے تعلق رکھتا ہو، اس کی حمایت اور مدد ایک انسانی اور اسلامی فریضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ ان کی فکر میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کو صرف ایک قومی مسئلہ نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا مشترکہ مسئلہ قرار دیا۔ "یومِ القدس" کا اعلان دراصل اسی سوچ کا مظہر تھا، جس کے ذریعے انہوں نے مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔

امام راحل حضرت امام خمینیؒ کی قیادت اور انقلاب اسلامی کے تجربے نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کو بھی متاثر کیا۔ مختلف ممالک میں سرگرم دینی اور سیاسی حلقوں نے انقلاب اسلامی کو ایک ایسی مثال کے طور پر دیکھا، جس نے عوامی طاقت، مذہبی قیادت اور سیاسی عزم کے امتزاج سے ایک مضبوط نظام کو شکست دی۔ اگرچہ ہر ملک کے حالات اور تقاضے مختلف تھے، تاہم انقلاب اسلامی نے یہ احساس ضرور پیدا کیا کہ عوامی شعور اور نظریاتی استقامت کے ذریعے بڑی سیاسی تبدیلیاں ممکن ہیں۔

فکری سطح پر حضرت امام خمینیؒ کا ایک اہم کارنامہ دین اور سیاست کے تعلق کو ازسرنو موضوعِ بحث بنانا تھا۔ جدید دور میں یہ تصور بڑی حد تک رائج ہوچکا تھا کہ مذہب کو صرف انفرادی اور روحانی معاملات تک محدود رہنا چاہیئے، لیکن امام خمینیؒ نے اسلام کی جامعیت پر زور دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ دین انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان کے اس نظریئے نے مسلم دنیا میں حکومت اسلامی، عوامی شرکت، دینی قیادت اور ریاست کے اسلامی تشخص کے بارے میں وسیع علمی مباحث کو جنم دیا۔

سیاسی میدان میں امام خمینیؒ کی فکر کا ایک نمایاں پہلو استعمار اور عالمی بالادستی کے خلاف مزاحمت تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ سیاسی آزادی اسی وقت معنی خیز ہوسکتی ہے، جب اس کے ساتھ فکری، ثقافتی اور معاشی آزادی بھی موجود ہو۔ ان کے نزدیک کسی بھی قوم کی عزت اور خود مختاری کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنی داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرے اور بیرونی طاقتوں کے تسلط سے آزاد رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا استقلال اور خود انحصاری کا پیغام دنیا کے مختلف مسلم معاشروں میں وسیع پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔

ثقافتی اعتبار سے بھی امام خمینیؒ نے مسلم معاشروں میں اسلامی شناخت کے احیاء میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے بارہا اس بات کی نشاندہی کی کہ تہذیبی خود فراموشی اور فکری مرعوبیت کسی بھی قوم کو اس کی اصل طاقت سے محروم کر دیتی ہے۔ اس لیے وہ اسلامی اقدار، دینی تعلیمات اور تہذیبی ورثے کی حفاظت کو ترقی اور بیداری کے لیے ناگزیر قرار دیتے تھے۔ ان کے یہ افکار خصوصاً نوجوان نسل میں ایک نئے فکری رجحان کا باعث بنے اور انہیں اپنی تہذیبی شناخت پر فخر کرنے کا حوصلہ ملا۔

بانی انقلاب کی شخصیت صرف ایک سیاسی رہبر تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک ممتاز فقیہ، عارف، فلسفی اور مفکر بھی تھے۔ ان کی علمی اور فکری کاوشوں نے انہیں عالم اسلام کے دانشور طبقے میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ ان کی فقہی، عرفانی اور سیاسی تصانیف مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئیں اور دنیا بھر کے علمی مراکز میں ان پر تحقیق کا سلسلہ جاری رہا۔ اس طرح ان کے افکار محض سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ علمی اور فکری دنیا میں بھی وسیع اثرات کے حامل ثابت ہوئے۔

4 جون 1989ء میں حضرت امام خمینیؒ کی رحلت نے پورے عالم اسلام کو سوگوار کر دیا۔ ان کے جنازے میں لاکھوں انسانوں کی شرکت اس حقیقت کا واضح ثبوت تھی کہ امام خمینیؒ کسی مخصوص طبقہ، کسی مخصوص مسلک یا صرف ایک ملک کے رہنما نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی اسلامی شخصیت کی حیثیت اختیار کرچکے تھے۔ آج ان کی رحلت کے کئی عشروں بعد بھی ان کے افکار، نظریات اور سیاسی تصورات عالم اسلام کی فکری اور سیاسی زندگی میں زندہ ہیں۔ استقلال، وحدت اسلامی، دفاع مظلوم، عوامی شرکت اور اسلامی تشخص جیسے موضوعات اب بھی مسلم دنیا کے اہم مباحث میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاصر عالم اسلام کی سیاسی و فکری تاریخ کا مطالعہ امام خمینیؒ کے کردار اور اثرات کے جائزے کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔

مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جس کی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ (مضمون نگار صحافی اور ریسرچ اسکالر ہیں)

متعلقہ مضامین

  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان