قوم کے عظیم سپوت کیپٹن کرنل شیر خان شہید کی برسی آج
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
پشا ور(ڈیلی پاکستان آن لائن) قوم کے عظیم سپوت، نشانِ حیدر حاصل کرنے والے کیپٹن کرنل شیر خان شہید کی برسی آج عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ وطن پر قربان ہونے والے اس بہادر سپاہی نے کارگل کے محاذ پر دشمن کو دندان شکن جواب دیا تھا۔
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق وطن کی مٹی پر جان نچھاور کرنے والے کیپٹن کرنل شیر خان شہید، جنہوں نے کارگل کے محاذ پر دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔5 جولائی 1999 ء کو دشمن کی فائرنگ سے شہید ہوئے مگر ان کا حوصلہ، عزم اور شجاعت رہتی دنیا تک ایک مثال بنی رہے گی۔
کرنل شیر خان یکم جنوری 1970، نواں کلی (اب کرنل شیر خان کلی)، ضلع صوابی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم پوسٹ گریجویٹ کالج، صوابی سے حاصل کی 1989 میں پاکستان ایئر فورس میں ایئر مین بھرتی ہوئے، 1992 میں پاک فوج کے افسر بن گے اور 14 اکتوبر 1994 کو 27 ویں سندھ رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔
کرنل شیر خان کارگل آپریشن کے دوران 12 ویں ناردرن لائٹ انفنٹری میں تعینات تھے۔ 1999 میں گلٹری، ٹائیگر ہل کے علاقے میں 17,000 فٹ بلندی پر دفاعی پوسٹس قائم کیں، جہاں بھارتی فوج کے مسلسل 8 حملے ناکام بنائے۔
5 جولائی کو 2بٹالینز نے محاصرے کے بعد حملہ کیا۔ شیر خان نے شاندار جوابی حملہ کیا اور پوسٹ واپس حاصل کی، لیکن مشین گن فائر سے شہید ہوگئے۔بھارتی لیفٹیننٹ جنرل موهندر پوری نے ان کی بہادری کو سراہا۔
کارگل کی جنگ کے دوران انہوں نے اپنی پوسٹ کو دشمن کے متعدد حملوں سے بچایا، زخمی ہونے کے باوجود سپاہیوں کی قیادت جاری رکھی اور آخری دم تک لڑتے رہے۔ان کی شجاعت کا اعتراف خود بھارتی فوج نے بھی کیا اور انہی کے بیان پر پاکستان نے انہیں سب سے بڑا فوجی اعزاز نشانِ حیدر عطا کیا۔
کیپٹن کرنل شیر خان شہید کی قربانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ وطن کے دفاع کے لیے کوئی بھی قیمت زیادہ نہیں۔ آج بھی قوم ان کے ایثار اور بہادری کو سلام پیش کرتی ہے۔
کیپٹن کرنل شیر خان شہید (نشانِ حیدر)کے یومِ شہادت پر ملک بھر میں مساجد میں قرآن خوانی اور دعاؤں کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ آج دن کا آغاز مساجد میں قرآن خوانی اور دعاؤں کے ساتھ ہوا، جہاں علمائے کرام نے شہید کے درجات کی سربلندی کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا۔
اس موقع پر علمائے کرام نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ 'وطن کی حفاظت کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پاک فوج کے جوان عزت و احترام کے مستحق ہیں۔ شہدا کا لہو ہم پر قرض ہے۔ پاکستان کے شہدا کی عظیم قربانیوں کی بدولت آج ہمارا ملک قائم و دائم ہے۔ زندہ قومیں اپنے محسنوں کے احسانات کو فراموش نہیں کرتیں۔
علمائے کرام کا مزید کہنا تھا کہ جو قومیں اپنے شہدا کی تکریم نہیں کرتیں وہ ذلیل و رسوا ہو جاتی ہیں۔ شہید ہمیشہ زندہ ہوتے ہیں۔ کیپٹن کرنل شیر خان شہید قوم کا بہادر بیٹا تھا جو ہمیشہ ہر دل میں زندہ رہے گا۔
قوم کے شہدا کی قربانیاں ملکی استحکام اور عظمت کی نشانیاں ہوتی ہیں جس پر قوم بجا طور پر فخر کرتی ہیں۔
ایشین جونیئر سکواش چیمپئن شپ میں پاکستان نے بھارت کو شکست دے دی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کیپٹن کرنل شیر خان شہید
پڑھیں:
پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔
اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
مزید :