کارگل جنگ کے عظیم ہیرو حوالدار لالک جان کا آج یومِ شہادت منایا جا رہا ہے۔ وطن کی خاطر ان کی قربانی کو کسی بھی محاذ پر آخری لمحے تک بہادری و دفاع کی اعلیٰ ترین مثال قرار دیا جاتا ہے۔

مئی1999میں دشمن پڑوسی بھارت ایک بڑی جارحانہ کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہا تھا  اور حوالدار لالک جان کمپنی ہیڈ کوارٹر میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے جنگ کے اگلے محاذ پر لڑنے کے لیے اپنی خدمات رضاکارانہ طور پر پیش کیں ۔

مٹھی بھر ساتھیوں کے ہمراہ حوالدار لالک جان نے نہ صرف اپنی پوسٹ کا کامیابی سے دفاع کیا بلکہ دشمن کے متعدد حملوں کو ناکام بنا کر اُسے بھاری جانی نقصان بھی پہنچایا۔

7جولائی کو دشمن تمام دِن حوالدار لالک جان کی پوسٹ پر گولوں سے آگ بر ساتارہا اور پھر اُسی رات 3 مختلف اطراف سے حملہ بھی کر دیا، جس میں حوالدار لالک جان شدید زخمی ہو گئے، تاہم انہوں نے اس کے باوجود محاذِ جنگ سے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا۔ حوالدار لالک جان کے جوابی حملے میں دشمن کو بھاری نقصان کے ساتھ منہ کی کھانا پڑی۔

بعد ازاں حوالدار لالک جان دفاع وطن کا عظیم فریضہ سر انجام دیتے ہوئے زخموں کی تاب نہ لا کر شہید ہو گئے۔

دُشمن کی بے شمار تحریریں بھی اس با ت کا بر ملا اعتراف کرتی ہیں کہ ’’یہ کسی بھی محاذ پر آخری فرد تک بہادری کے ساتھ دفاع کی اعلیٰ ترین مثال تھی۔‘‘

صدر مملکت، وزیراعظم اور وزیر داخلہ کا خراجِ عقیدت

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے حوالدار لالک جان شہید (نشانِ حیدر) کو خراجِ عقیدت  پیش کرتے ہوئے شہید کی بے مثال بہادری، جرأت اور قربانی کو سلام  پیش کیا ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ قوم آج کارگل جنگ کے عظیم ہیرو حوالدار لالک جان شہید (نشانِ حیدر) کی جرأت اور عظیم قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔ لالک جان شہید نے شدید زخمی ہونے کے باوجود دشمن کے حملے روکے اور مادرِ وطن کے دفاع کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ۔

صدر زرداری نے کہا کہ شہید کی بہادری اور حب الوطنی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ لالک جان شہید کی قربانی آئندہ نسلوں کے لیے جرأت و عزم  کی روشن مثال ہے۔ ہم اپنے بہادر سپوت لالک جان شہید کی عظیم قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں ۔

انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ قوم کو اپنے عظیم سپوت لالک جان شہید کی قربانی پر فخر ہے ۔ لالک جان شہید کی قربانی پاکستان کی تاریخ میں سنہری الفاظ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی ۔

دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف نے  بھی کارگل جنگ کے دوران وطن عزیز کی حفاظت کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے حوالدار لالک جان شہید (نشان حیدر) کے یوم شہادت پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا اور وطن کی خاطر عظیم قربانی دی۔

وزیراعظم نے اپنے  بیان میں کہا کہ دشمن کے حملے حوالدار لاک جان شہید کے حوصلے پست نہ کر سکے۔ ان کی بہادری، شجاعت اور فرض شناسی نسل نو کے لیے ایک قابل تقلید مثال ہے۔ پاکستانی قوم اپنے شہدا کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ افواج پاکستان کے شہدا اور ان کے اہل خانہ مجھ سمیت پوری قوم کا فخر ہیں۔ وطن عزیز کی حفاظت کے غیر متزلزل عزم میں پوری قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

علاوہ ازیں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے بیان میں کہا کہ حوالدار لالک جان شہید نے  بے مثال جرات سے دفاع وطن کا روشن باب رقم کیا۔  لالک جان کی داستان شجاعت رہتی دنیا تک قوم کا فخر اور تاریخ کا اثاثہ رہے گی۔

انہوں نے کہا کہدشمن کے سامنے سینہ سپر رہنے والا یہ سپاہی مادرِ وطن کی سرحدوں کا ناقابل فراموش نگہبان بن کر ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔  اگلے مورچوں پر جا کر دشمن کے سامنے ڈٹ جانے والے اس  جوان نے بہادری اور حب الوطنی کی اعلیٰ ترین مثال قائم کی۔

ملک بھر میں قرآن خوانی اور دعاؤں کا اہتمام

دوسری جانب حوالدار لالک جان شہید (نشان حیدر) کے 26ویں یومِ شہادت  پر ملک بھر کی مساجد میں قران خوانی اور دعاؤں کا اہتمام کیا گیا۔  اس موقع پر علمائے کرام نے شہید کے درجات کی سربلندی کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا۔

علمائے کرام نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ زندہ قومیں اپنے محسنوں کے احسانات کو فراموش نہیں کرتیں۔ شہدا کا لہو اور قربانیاں ہم پر قرض ہیں۔ اپنے شہدا کی تکریم ہر ایک پر لازم ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہید کا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ شہید ہمیشہ زندہ ہوتے ہیں اور اپنے رب کی بارگاہ سے رزق پاتے ہیں۔ شہدا کی قربانیاں درس دیتی ہیں کہ وطن کی حفاظت اور محبت میں جانوں کا نذرانہ دینا بھی خوش نصیبی ہے۔ شہید حوالدار لالک جان دھرتی کا بہادر بیٹا تھا جو ہمیشہ ہر دل میں زندہ رہے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: حوالدار لالک جان شہید ترین مثال کی قربانی قربانی کو انہوں نے نے اپنے دفاع کی دشمن کے کی اعلی وطن کی کے لیے کہا کہ جنگ کے

پڑھیں:

لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ

ترجمان اتحاد اُمت فورم کے مطابق کانفرنس کے دوران ’’استقبال محرم‘‘ کے عنوان سے ایک نشست شامل کی گئی ہے، جس میں ملک بھر سے ماتمی سنگتوں کو دعوت دی گئی ہے، جو استقبال محرم کی اس نشست میں ماتم اور نوحہ خوانی کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ لاہور میں 13 جون کو مینار پاکستان گراؤنڈ میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ترجمان اتحاد اُمت فورم کے مطابق کانفرنس کے دوران ’’استقبال محرم‘‘ کے عنوان سے ایک نشست شامل کی گئی ہے، جس میں ملک بھر سے ماتمی سنگتوں کو دعوت دی گئی ہے، جو استقبال محرم کی اس نشست میں ماتم اور نوحہ خوانی کریں گے۔ ترجمان کے مطابق ملک بھر سے معروف نوحہ خواں حضرات کو بھی خصوصی طور پر دعوت دی گئی ہے جبکہ ماتمی سنگتیں بھی دُختر رسولؑ کو پرسہ دیں گی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے باقاعدہ ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو نوحہ خواں حضرات اور ماتمی انجمنوں کے سالاروں سے رابطے کر رہی ہے اور اس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ماتمی سنگتوں کے سالاروں اور نوحہ خواں حضرات نے اظہار تشکر کیا ہے کہ انہیں بھی اس عظیم اجتماع میں شرکت کا موقع دیا جا رہا ہے۔ کانفرنس میں نوحہ خواں حضرات نوحہ خوانی کیساتھ شہیدِ امت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو بھی اپنے اپنے انداز میں خراج عقیدت پیش کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ