زرعی شعبے کی پیداوار میں بہتری، ویلیو ایڈیشن اور زرعی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 08 جولائی2025ء) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک میں زرعی پیدوار میں اضافے اور زرعی اصلاحات کیلئے جامع لائحہ عمل طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ زرعی شعبے کی پیداوار میں بہتری، ویلیو ایڈیشن اور زرعی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے،زرعی اجناس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کیلئے زرعی شعبے کے تحقیقی مراکز کو مزید فعال بنایا جائے۔
منگل کو وزیراعظم افس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت زرعی شعبے کی کارکردگی اور جاری اصلاحات پر جائزہ اجلاس یہاں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیرِ غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، زرعی شعبے کے ماہرین اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔(جاری ہے)
اجلاس کو ربیع و خریف کی بڑی فصلوں کی گزشتہ برس پیداوار، کسانوں کو درپیش مسائل، آئندہ کا لائحہ عمل اور تجاویز پیش کی گئیں۔
اجلاس کو حکومتی اصلاحات کے نفاذ پر پیشرفت اور زراعت پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے بارے بھی آگاہ کیا گیا۔ زرعی شعبے پر قائم ٹاسک فورس کی طرف سے بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ جدید زرعی مشینری، معیاری بیج، فصلوں کی جغرافیائی منصوبہ بندی اور کسانوں کو آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کیلئے اقدامات کا طویل و قلیل مدتی جامع لائحہ عمل پیش کیا جائے،زرعی اجناس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کیلئے زرعی شعبے کے تحقیقی مراکز کو مزید فعال بنایا جائے،زرعی تحقیقی مراکز میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت جدید تحقیق کو یقینی بنایا جائے،زراعت میں مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کیلئے بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرین کی خدمات سے استفادہ کیا جائے،زرعی اجناس کی ویلیو ایڈیشن سے برآمدی اشیاء کی تیاری کیلئے چھوٹے اور درمیانے درجے کی زرعی صنعت کی ترقی کے حوالے سے اقدامات کا لائحہ عمل بھی پیش کیا جائے،منافع بخش فصلوں کی کاشت اور پاکستان کو غذائی تحفظ کے حوالے سے خود کفیل بنانے کیلئے کسانوں کو ہر قسم کی رہنمائی فراہم کرنے کے اقدامات کئے جائیں ،کسانوں اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے ساتھ تجاویز کیلئے مشاورتی عمل کو یقینی بنایا جائے،زرعی شعبے کی ترقی کیلئے صوبائی حکومتوں سے روابط و تعاون مزید مربوط بنایا جائے،موسمیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات سے بچاؤ کیلئے کلائیمیٹ رزسٹینٹ بیج اور زراعت کے جدید طریقہ کار اپنانے میں کسانوں کی معاونت کی جائے،بارشوں اور دیگر موسمیاتی تبدیلیوں کی پیش نظر نئے موزوں علاقوں بالخصوص سندھ اور بلوچستان میں کپاس کی کاشتکاری کیلئے صوبائی حکومت سے تفصیلی مشاورت کے بعد جامع منصوبہ بندی کی جائے،نباتاتی ایندھن کو ملک کے انرجی مکس میں شامل کرنے کیلئے تحقیق اور منصوبہ بندی کی جائے اور زرعی شعبے میں مزید اصلاحات کیلئے جامع لائحہ عمل جلد پیش کیا جائے۔\932.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے زرعی شعبے کی پیداوار میں بنایا جائے لائحہ عمل کیا جائے اور زرعی پیش کی
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔