ایف بی آر سے کرپٹ ترین عناصر کو نکال پھینکا،ایجنسیوں کی معلومات مستند تھیں،سفارشیں بھی آئیں مگر وہ کیا جس کی مثال نہیں ملتی،شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایف بی آر سے کرپٹ ترین عناصر کو نکال پھینکا ہے۔ اس ضمن میں بہت سی سفارشیں بھی آئیں کہ ایسا نہ کریں، فلاں بندے کو نہ نکالیں۔
آزاد اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک تقریب سے گفتگو میں وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آئی آر میں موجود ایسے کرپٹ عناصر کو جو ہمیں نہیں چاہیئں تھے ، کو نکالتے وقت بھی میرے خیال میں یہ بات موجود تھی کہ ابھی دائیں بائیں ہر طرف سے ان لوگوں کے حق میں سفارشوں اور ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔
آزاد اردو کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں ابھی اس حوالے سے اقدامات اٹھائے ہی جاتے ہیں کہ ملک بھر سے سفارشوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن ہم نے اس کی پرواہ نہ کی، میں اس سے نمٹنے کے لیے ذہنی طور پر تیار نہ تھا ، ہمارے پاس ایجنسیوں کی مدد سے حاصل ہونے والی مستند معلومات تھیں جن کی بنیاد پر وہ اقدامات اٹھائے جن کی اس سے قبل مثال نہیں ملتی۔
پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی ارکان کی نا اہلی، حکومت اور اپوزیشن کے پارلیمانی مذاکرات آج
ہم نے ایف بی آر سے کرپٹ ترین عناصر کو باہر نکال پھینکا مجھے بہت سفارشیں آئیں کہ ایسا نہ کریں لیکن ہمارے پاس ایجنسیوں کی مستند معلومات موجود تھی، وزیر اعظم شہباز شریف pic.
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: عناصر کو سے کرپٹ ایف بی
پڑھیں:
ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
ویب ڈیسک :مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، گلگت بلتستان کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا،پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
میاں نوازشریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ،ہم نےگلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں بچھائی تھیں۔
چاہتا ہوں جی بی میں ترقی اور لوگوں کو روزگار ملے، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک تعمیر کی گئی تھی ،گلگت کے عوام کا پیسہ ان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ہم نے ہائیڈرل پاور منصوبے شروع کیے، اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئے؟