خیبرپختونخوا بدامنی کی لپیٹ میں، وزیراعلی سیاسی نمائش میں مصروف ہیں،اپوزیشن لیڈر کے پی ڈاکٹر عباد اللہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
خیبرپختونخوا بدامنی کی لپیٹ میں، وزیراعلی سیاسی نمائش میں مصروف ہیں،اپوزیشن لیڈر کے پی ڈاکٹر عباد اللہ WhatsAppFacebookTwitter 0 13 July, 2025 سب نیوز
پشاور(سب نیوز)خیبرپختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا ہے کہ پورا صوبہ بدامنی، دہشتگردی اور عوامی بے یقینی کی حالت میں ہے جبکہ وزیراعلی خیبرپختونخوا اپنے لا لشکر کے ساتھ پنجاب ایم پی ایز سے اظہارِ یکجہتی کے نام پر لاہور میں سیاسی شو کر رہے ہیں۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عباد اللہ کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام کے جان و مال کی کوئی اہمیت نہیں رہی اور ایسے وقت میں جب صوبے کے عوام مسائل کا شکار ہیں، وزیراعلی کا لا لشکر لے کر لاہور جانا عوامی احساسات کے ساتھ مذاق ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی اعلان کیلئے سرکاری خزانے سے لاکھوں روپے خرچ کئے جا رہے ہیں جو سراسر ناانصافی ہے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہزاروں گاڑیوں پر مشتمل قافلہ کس قانون اور انصاف کے تحت روانہ کیا گیا؟۔
ڈاکٹر عباد اللہ نے الزام عائد کیا کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا کا یہ طرزعمل عوامی خدمت نہیں بلکہ سیاسی نمائش ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت کو عوامی مشکلات سے کوئی سروکار نہیں۔اپوزیشن لیڈر کے پی اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو بدامنی، مہنگائی اور بے یقینی سے نکالنے کیلئے عملی اقدامات کئے جائیں اور حکومت اپنی ترجیحات درست کرے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروفاق کی پالیسیوں کے باعث سندھ کی توانائی کے شعبے کی ترقی شدید متاثر ہو رہی ہے، شرجیل انعام میمن وفاق کی پالیسیوں کے باعث سندھ کی توانائی کے شعبے کی ترقی شدید متاثر ہو رہی ہے، شرجیل انعام میمن پنجاب میں پہلی بار بارش کو خودکار پیمانے سے ماپنے کا فیصلہ عمران خان کے بیٹوں نے قانون ہاتھ میں لیا تو گرفتاری ہو گی ، گورنر خیبرپختونخوا مسلح جدوجہد کشمیریوں کا حق ہے، بھارت حرکتوں سے بازنہ آیا تو اسے مزید ہزیمت اٹھانا پڑیگی، وزیراعظم آزاد کشمیر ملک بھر میں مون سون کا نیا اسپیل داخل، ممکنہ سیلاب کا الرٹ جاری علی امین گنڈاپور کا مولانا فضل الرحمن کو اپنے بھائی سے الیکشن لڑنے کا چیلنجCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر عباد اللہ اپوزیشن لیڈر
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ