پاک بحریہ کے پی این ایس شمشیر کی امریکی بحری جہاز کے ساتھ مشترکہ مشق
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس شمشیر اور امریکی بحریہ کے جہاز یو ایس ایس فٹز جیرالڈ کی مشترکہ مشق کا مقصد دونوں بحری افواج کے درمیان تعاون کو فروغ دینا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس شمشیر کی شمالی بحر ہند میں امریکی بحریہ کے جہاز یو ایس ایس فٹز جیرالڈ کے ساتھ مشترکہ تربیتی مشق کی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر کے مطابق ) پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس شمشیر اور امریکی بحریہ کے جہاز یو ایس ایس فٹز جیرالڈ کی مشترکہ مشق کا مقصد دونوں بحری افواج کے درمیان تعاون کو فروغ دینا تھا۔
ترجمان پاک فوج نے مزید بتایا کہ مشق میں کئی پیشہ ورانہ سرگرمیاں شامل تھیں جن کا مقصد باہمی ہم آہنگی کو بڑھانا تھا، اس طرح کی مشقیں میری ٹائم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے لیے دونوں بحری افواج کے مشترکہ عزم کو مزید تقویت فراہم کرتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پی این ایس شمشیر بحریہ کے جہاز پاک بحریہ کے امریکی بحری
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔