پشاور ہائیکورٹ نے ای سی ایل سے اعظم سواتی کا نام نکالنے کا حکم دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی سینیٹر کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا، عدالت نے پی ٹی آئی سینیٹر کو 5 کروڑ بانڈ جمع کرانے کا بھی حکم دیا۔ پشاور ہائیکورٹ کے مطابق 5 کروڑ روپے کے مچلکے جمع کرنے پر نام ای سی ایل سے نکالا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی سینیٹر اعظم سواتی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے دائر درخواست پر محفوظ فیصلہ جاری کر دیا۔ عدالت نے اعظم سواتی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا، عدالت نے اعظم سواتی کو 5 کروڑ بانڈ جمع کرانے کا بھی حکم دیا۔ پشاور ہائیکورٹ کے مطابق 5 کروڑ روپے کے مچلکے جمع کرنے پر نام ای سی ایل سے نکالا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نام ای سی ایل سے پشاور ہائیکورٹ اعظم سواتی کا نام
پڑھیں:
این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ
فائل فوٹو۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے تحریری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، ملازمین کے خلاف کسی بھی تادیبی کارروائی سے روکنے کا حکم امتناع برقرار ہے۔
عدالت عالیہ کے جسٹس اعظم خان نے متاثرہ افسران کی درخواست پر سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔ این سی سی آئی کے کانٹریکٹ ملازمین نے مستقلی کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔
عدالت عالیہ کے مطابق این سی سی آئی اے حکام کی جانب سے جواب داخل کرانے کیلئے مزید مہلت کی استدعا کی گئی۔
حکم نامہ کے مطابق درخواست گزاروں کے وکلا نے فریقین کو جواب داخل کرانے کیلیے مزید مہلت دینے کی مخالفت کی، وکیل نے کہا 13 فروری کو پہلی سماعت کے بعد سے جواب جمع کرانے کے متعدد مواقع دیے گئے۔
تحریری حکم نامے کے مطابق فریقین کے وکلا نے ہر سماعت پر مختلف حیلے بہانوں سے التوا کی درخواست کی، وکیل نے کہا کہ تاخیری حربوں کے باعث درخواست گزاروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔
عدالت عالیہ کے مطابق این سی سی آئی اے حکام کو 30 جولائی سے قبل جواب جمع کرانے کی مہلت دی جاتی ہے، آئندہ سماعت تک جواب داخل نہ کرایا گیا تو دستیاب ریکارڈ پر کیس کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔
تحریری حکم نامے کے مطابق اتنے پڑھے لکھے اور تجربہ کار افراد کو کام سے روکنا زیادتی ہے، فریقین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ درخواست گزار افسران کے قانون کے مطابق کام میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 30 جولائی تک ملتوی کر دی۔