وفاقی حکومت نے بیرونِ ملک سے آن لائن منگوائی جانے والی اشیا اور ڈیجیٹل سروسز پر عائد 5 فیصد ڈیجیٹل ٹیکس ختم کردیا ہے۔ اس فیصلے کا باضابطہ نوٹیفکیشن فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جاری کردیا گیا، جس کے مطابق ٹیکس میں چھوٹ کا اطلاق یکم جولائی 2025 سے نافذالعمل ہو چکا ہے۔

واضح رہے کہ یہ ٹیکس اُن بین الاقوامی کمپنیوں کی مصنوعات اور سروسز پر عائد کیا گیا تھا جن کا پاکستان میں کوئی دفتر یا قانونی نمائندہ موجود نہیں ہے، ان میں نہ صرف اسٹریمنگ، سافٹ ویئر اور سبسکرپشن سروسز شامل تھیں بلکہ وہ تمام آن لائن خریداری بھی متاثر ہوتی تھی جو پاکستانی صارفین بیرونِ ملک پلیٹ فارمز سے کرتے ہیں، جیسا کہ علی ایکسپریس، ٹیمو، ایمازون وغیرہ۔ اس کے علاوہ اور دیگر چینی و مغربی ویب سائٹس بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بیرونِ ملک سے پاکستان آن لائن خریداری پر لاگو ٹیکس معطل کرنے کا فیصلہ

ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے ملک میں آن لائن خریداری کرنے والے لاکھوں صارفین کو براہِ راست ریلیف ملے گا، جو عالمی مہنگائی اور مقامی معاشی دباؤ کے باعث پہلے ہی اضافی قیمتیں ادا کررہے تھے۔

’5 فیصد اضافی ٹیکس عام خریدار کی پہنچ سے چیزوں کو مزید دور کر رہا تھا‘

معاشی تجزیہ کار راجا کامران نے ’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یہ صرف سافٹ ویئر یا ایپس کا معاملہ نہیں، پاکستان میں ایک بہت بڑا طبقہ ہے جو ٹیمو، ایمازون اور علی بابا جیسی آن لائن خریداری کی ویب سائٹس سے کپڑے، جوتے، گھریلو اشیا، گیجٹس اور دیگر سامان منگواتا ہے۔ ان پر 5 فیصد اضافی ٹیکس عام خریدار کی پہنچ سے چیزوں کو مزید دور کر رہا تھا، اب جب یہ ٹیکس ہٹا دیا گیا ہے، تو عام لوگ کم قیمت پر وہی اشیا منگوا سکیں گے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ اگر کوئی خریدار علی ایکسپریس سے ایک لاکھ روپے کی گھڑی یا موبائل منگوا رہا تھا تو اسے اضافی 5 ہزار روپے ٹیکس دینا پڑتا تھا، جو اب ختم ہوگیا ہے، یعنی براہِ راست اس کی قیمت میں 5 فیصد کی کمی ہو جائی گی۔

’حکومت کا یہ فیصلہ عملی ریلیف ہے‘

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے آن لائن بزنس مین فیصل بٹ، جو چین سے درآمد کردہ گھریلو مصنوعات اور الیکٹرانکس پاکستان میں فروخت کرتے ہیں، اس فیصلے کو عملی ریلیف کہتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پچھلے سال انہوں نے جو اسٹاک علی بابا سے منگوایا، اس پر انہیں لاکھوں روپے صرف 5 فیصد ٹیکس کی مد میں دینا پڑے۔

’جب آپ 10 یا 20 لاکھ کا سامان منگواتے ہیں تو یہ رقم معمولی نہیں رہتی، اب یہ ٹیکس ختم ہونے سے ہم کم لاگت پر مال منگوا سکتے ہیں اور گاہک کو بھی سستی چیز فراہم کر سکتے ہیں، جس سے سیل بھی بڑھے گی اور مارکیٹ کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔‘

فیصل بٹ کا کہنا تھا کہ چھوٹے آن لائن ریٹیلرز کے لیے ہر روپیہ اہم ہوتا ہے اور یہ فیصلہ اُن کے لیے بڑی سہولت ہے۔

’یہ فیصلہ مارکیٹ کی بحالی ہے تاہم ٹیکس ریونیو میں کی ہو سکتی ہے‘

ڈیجیٹل مارکیٹنگ کنسلٹنٹ مریم چوہدری کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ صرف خریداروں کے لیے نہیں، بلکہ فری لانسرز، چھوٹے کاروبار، یوٹیوبرز اور آن لائن اسٹورز چلانے والوں کے لیے بھی ایک سہولت ہے۔

’یہ فیصلہ مارکیٹ کی بحالی ہے، جو لوگ ٹیمو یا علی بابا سے چیزیں خرید کر آگے بیچتے ہیں، اُن کے لیے قیمتوں میں یہ کمی ایک کاروباری فائدہ بن سکتی ہے، نتیجتاً مارکیٹ میں مقابلہ بڑھے گا اور صارف کو بہتر قیمت پر اشیا ملیں گی۔‘

یہ بھی پڑھیں: آن لائن خریداری کرنے والے محتاط رہیں، پی ٹی اے کی وارننگ

مریم کا کہنا تھا کہ اگرچہ حکومت کو اس فیصلے سے فوری طور پر ٹیکس ریونیو میں کچھ کمی محسوس ہو سکتی ہے، لیکن درمیانی مدت میں بڑھتی خریداری اور مارکیٹ ایکٹیویٹی اس نقصان کو پورا کر سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آن لائن خریداری ایف بی آر براہِ راست ریلیف بین الاقوامی کمپنیاں ٹیکس کا خاتمہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو مصنوعات وفاقی حکومت وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا ن لائن خریداری ایف بی ا ر براہ راست ریلیف بین الاقوامی کمپنیاں ٹیکس کا خاتمہ فیڈرل بورڈ ا ف ریونیو مصنوعات وفاقی حکومت وی نیوز آن لائن خریداری ن لائن خریداری اس فیصلے یہ فیصلہ سکتی ہے کے لیے

پڑھیں:

ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر

کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔

ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟

یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔

چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔

آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔

’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘

کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔

ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔

بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔

قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟

سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔

سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔

دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔

50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹر

چند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔

بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔

یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیے

ایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔

عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟

مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘

ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔

شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل

متعلقہ مضامین

  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ