20 سالہ نوجوان نے دنیا کا دوسرا چھوٹا ترین ملک بنالیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
آسٹریلیا سے سیاحت پر آئے ایک 20 سالہ نوجوان نے دنیا کا دوسرا سب سے چھوٹا ملک قائم کر دیا ہے۔
اس نئے ملک کا نام Free Republic of Verdis ہے جس کے قائم کرنے کا اعلان ڈینیل جیکسن نامی نوجوان نے کیا۔
یہ ملک کروشیا اور سربیا کے درمیان دانوب شہر کے کنارے واقع ایک متنازع اور بغیر کسی ملک کے ماتحت ہے۔ یہ علاقہ تقریباً 0.
یہ ملک دنیا کا دوسرا سب سے چھوٹا ملک قرار دیا گیا ہے۔ پہلے نمبر پر ویٹیکن سٹی ہے۔ فری ریپبلک آف ڈیویس کا باقاعدہ اپنا پرچم، حکومت، کابینہ، کرنسی اور پاسپورٹ ہیں۔
اس کی سرکاری زبانوں میں انگریزی، کروشیائی اور سربیائی زبانیں شامل ہیں اور کرنسی کے طور پر یہاں یورو استعمال ہوتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں شہریوں کی تعداد تقریباً 400 ہے جن کا انتخاب ڈینیل نے 15,000 سے زیادہ درخواست دہندگان میں سے کیا ہے۔
اس ملک کا منصوبہ سال 2019 میں شروع ہوا جب ڈینیل صرف 14 سال کے تھے۔ انہوں نے اس خیال کو دوستوں کے ساتھ ایک "تجربے" کے طور پر شروع کیا۔ سنہ 2019 میں مخصوص قوانین اور پرچم کے قیام کے بعد رسمی اعلان کر دیا گیا۔
تاہم اس اعلان کے بعد بین الاقوامی ردعمل و تنازعات نے جنم لیا ہے جس کے نتیجے میں کروشیا کے حکام نے ڈینیل کے ملک بنانے کے اعلان کو اپنی سالمیت کیلئے خطرہ قرار دیا۔ کروشین حکام نے ڈینیل کو گرفتار کر کے ملک بدر کر دیا ہے اور زندگی بھر کے لیے ان کا کروشیا میں داخلہ بند کردیا ہے۔
ڈینیل کے مطابق کروشیا کے برعکس سربیا کے حکام نے زیادہ نرم رویہ اختیار کیا ہے اور وہ اس سے مستقبل میں تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
امریکا میں آپریشن چیک میٹ کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری سخت کریک ڈاؤن کی لپیٹ میں ہیں۔
دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کے لیے وبال جان بن چکے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکا نے وفاقی امیگریشن نافذ کرنے کی مہم ’آپریشن چیک میٹ‘ کے تحت سخت کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا ہے۔
امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے مطابق آپریشن چیک میٹ کے تحت گرفتار کیے گئے 36 ٹرک ڈرائیوروں میں سے کم از کم 30 بھارتی شہری تھے۔
خود بھارتی جریدے ٹائمز آف انڈیا کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ متعدد افراد کے پاس درست ڈرائیونگ لائسنس تک موجود نہیں تھے ۔ تمام افراد کیخلاف امریکی قانون کے تحت کارروائی کر کے امریکا سے نکالنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
یوما سیکٹر کے قائم مقام چیف پٹرول ایجنٹ ڈسٹن کاڈل نے کہا ہے کہ غیر قانونی طور پر موجود بھارتی ڈرائیورعوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں ۔
سعودی عرب، کینیڈا اور امریکا سمیت بیشتر ممالک جعلی دستاویزات اورفراڈ سمیت متعدد وجوہات کی بنیاد پر بڑی تعداد میں بھارتی شہریوں کو ملک بدر کر چکے ہیں ۔ بھارتی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق2021 سے 2025 کے دوران 52 مختلف ممالک سے 171,150 بھارتی شہریوں کو ملک بدر کیا گیا ہے۔
عالمی ماہرین کے مطابق مودی کے نام نہاد شائننگ انڈیا کے دعووں کے باوجود بھارتی شہریوں نےغیر قانونی طور پر ملک سے بھاگ کر بھارت کا پول کھول دیا ہے۔ مختلف ممالک میں ریاست مخالف سرگرمیوں اور سنگین جرائم میں ملوث بھارتی تارکین عوامی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔