اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ پاک چین دوستی ملک کی آزمائشوں پر پوری اتری، نسل در نسل منتقل ہوئی۔ سی پیک میری نظر میں صرف ایک راہداری نہیں خوابوں اور امیدوں کا اشتراک ہے۔ پاکستان اور چین کی صرف سرحد یکساں نہیں ہے۔ پاکستان اور چین کے پہاڑ‘ دریا اور مستقبل کی امنگیں بھی اکٹھی ہیں۔ سی پیک خطے میں ترقی، روزگار، تحفظ اور خوشحالی کا ضامن ہے۔ سی پیک دہائیوں پر محیط تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ ہے۔ سی پیک روزگار، زراعت خصوصی اقتصادی زونز، صنعت اور ثقافت شامل ہیں۔ سی پیک کے تحت تجارت اور سرمایہ کاری میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ وزیراعظم کا ہدف گوادر کو پاکستان کا جدید ترین اور محفوظ شہر بنانا ہے۔ گوادر پورٹ کو سرمایہ کاروں اور تاجروں کیلئے بین الاقوامی معیار کا بنایا جا رہا ہے۔ سی پیک ہماری معیشت کی لائف لائن اور خطے کیلئے گیم چینجر ہے۔ علاوہ ازیں وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ معرکہ حق کی فتح  اور پاکستان میں آزادی کا جشن بھارت کے لیے واضح پیغام ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ معرکہ حق کی فتح سے آزادی کا جشن دوبالا ہو گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے معرکہ حق میں دشمن کو مات ہوئی۔ قوم نہ صرف یوم آزادی کا جشن بلکہ معرکہ حق کی فتح کا جشن بھی منا رہی ہے۔ اس وقت ہم سب پاکستانی ہیں اور بحیثیت پاکستانی اپنا جشن منا رہے ہیں۔ یہ جشن بھارت کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہے کہ زندہ قومیں اپنی آزادی کا تحفظ اور فتح کی خوشی کس طرح مناتی ہیں۔ دریں اثناء سفیر نے سی پیک سے متعلق سیمینار سے خطاب میں کہا ہے کہ سکیورٹی کے مسائل تعاون کے فروغ کے ساتھ بتدریج حل ہو جائیں گے۔ پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف مضبوط کارروائی کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔ پاکستان نے دہشتگردی کے خاتمے میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ پاکستان نے انسداد دہشتگردی کی جد وجہد میں بڑا کردار ادا کیا۔ پاکستان کا دہشتگردی کی جنگ سے نمٹنے کیلئے پختہ عزم ہے۔ حالیہ عرصے میں پاکستان کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا وژن صرف اور صرف کام کرنا ہے۔ اسی جذبے سے پاکستان کی معیشت اور معاشرت میں نمایاں بہتری آئی۔ جب میں آیا تو پاکستان کی جی ڈی پی منفی شرح پر تھی۔ گزشتہ مالی سال کے اختتام پر جی ڈی پی کی شرح 2.

68 فیصد ہو گئی۔ پاکستان میں سی پی آئی 38 فیصد سے کم ہو کر 4.1 فیصد پر آ گئی۔ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 9 ارب ڈالر سے بڑھ کر 20 ارب ڈالر سے زائد ہو گئے۔ پاکستانی معیشت میں بہتری اور عوامی زندگی میں دباؤ کم ہو رہا ہے۔ اعداد و شمار میں یہ تبدیلی پاکستان کی ترقی کی صلاحیت میں اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ سی پیک میں اب تک 24.4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے۔ راہداری منصوبے نے 2 لاکھ 36 ہزار روزگار کے مواقع پیدا کئے ہیں۔ راہداری منصوبہ عوام کو حقیقی فائدہ پہنچا رہا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: معرکہ حق کی فتح ا زادی کا جشن پاکستان کی سی پیک

پڑھیں:

حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

 حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔ 

متعلقہ مضامین

  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
  • حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری