معرکہ حق کی فتح، آزادی کا جشن بھارت کیلئے واضح پیغام، عطا تارڑ: شہباز شریف کے وژن سے پاکستانی معیشت بہتر ہوئی، چینی سفیر
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ پاک چین دوستی ملک کی آزمائشوں پر پوری اتری، نسل در نسل منتقل ہوئی۔ سی پیک میری نظر میں صرف ایک راہداری نہیں خوابوں اور امیدوں کا اشتراک ہے۔ پاکستان اور چین کی صرف سرحد یکساں نہیں ہے۔ پاکستان اور چین کے پہاڑ‘ دریا اور مستقبل کی امنگیں بھی اکٹھی ہیں۔ سی پیک خطے میں ترقی، روزگار، تحفظ اور خوشحالی کا ضامن ہے۔ سی پیک دہائیوں پر محیط تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ ہے۔ سی پیک روزگار، زراعت خصوصی اقتصادی زونز، صنعت اور ثقافت شامل ہیں۔ سی پیک کے تحت تجارت اور سرمایہ کاری میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ وزیراعظم کا ہدف گوادر کو پاکستان کا جدید ترین اور محفوظ شہر بنانا ہے۔ گوادر پورٹ کو سرمایہ کاروں اور تاجروں کیلئے بین الاقوامی معیار کا بنایا جا رہا ہے۔ سی پیک ہماری معیشت کی لائف لائن اور خطے کیلئے گیم چینجر ہے۔ علاوہ ازیں وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ معرکہ حق کی فتح اور پاکستان میں آزادی کا جشن بھارت کے لیے واضح پیغام ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ معرکہ حق کی فتح سے آزادی کا جشن دوبالا ہو گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے معرکہ حق میں دشمن کو مات ہوئی۔ قوم نہ صرف یوم آزادی کا جشن بلکہ معرکہ حق کی فتح کا جشن بھی منا رہی ہے۔ اس وقت ہم سب پاکستانی ہیں اور بحیثیت پاکستانی اپنا جشن منا رہے ہیں۔ یہ جشن بھارت کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہے کہ زندہ قومیں اپنی آزادی کا تحفظ اور فتح کی خوشی کس طرح مناتی ہیں۔ دریں اثناء سفیر نے سی پیک سے متعلق سیمینار سے خطاب میں کہا ہے کہ سکیورٹی کے مسائل تعاون کے فروغ کے ساتھ بتدریج حل ہو جائیں گے۔ پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف مضبوط کارروائی کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔ پاکستان نے دہشتگردی کے خاتمے میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ پاکستان نے انسداد دہشتگردی کی جد وجہد میں بڑا کردار ادا کیا۔ پاکستان کا دہشتگردی کی جنگ سے نمٹنے کیلئے پختہ عزم ہے۔ حالیہ عرصے میں پاکستان کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا وژن صرف اور صرف کام کرنا ہے۔ اسی جذبے سے پاکستان کی معیشت اور معاشرت میں نمایاں بہتری آئی۔ جب میں آیا تو پاکستان کی جی ڈی پی منفی شرح پر تھی۔ گزشتہ مالی سال کے اختتام پر جی ڈی پی کی شرح 2.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: معرکہ حق کی فتح ا زادی کا جشن پاکستان کی سی پیک
پڑھیں:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔
یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔
ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ
جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ