خدا نے مجھے محافظ بنایا ہے، شہادت میری سب سے بڑی خواہش ہے،فیلڈ مارشل
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
خدا نے مجھے محافظ بنایا ہے، شہادت میری سب سے بڑی خواہش ہے،فیلڈ مارشل WhatsAppFacebookTwitter 0 16 August, 2025 سب نیوز
معروف صحافی سہیل وڑائچ نے اپنے کالم میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ہونیوالی ملاقات کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ میری اورآرمی چیف جنرل عاصم منیر کی پہلی باضابطہ ملاقات بلجیم کے شہر برسلز میں ہوئی۔ انہوں نے اس ملاقات کو ایک عاجز صحافی اور ایک “فیلڈ مارشل” کی صاف و شفاف نشست قرار دیا، جس میں کھردرے سوالات پوچھے گئے اور جنرل منیر نے کھلے دل سے جوابات دیے۔ یہ ملاقات تقریباً دو گھنٹے جاری رہی۔
گفتگو کا آغاز سیاست اور حالیہ افواہوں سے ہوا جن میں صدرِ پاکستان اور وزیراعظم کو ہٹانے کی باتیں گردش کر رہی تھیں۔ اس پر جنرل عاصم منیر نے دو ٹوک مؤقف اختیار کیا کہ یہ تمام خبریں بے بنیاد ہیں اور حقیقت سے کوئی تعلق نہیں رکھتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی افواہوں کے پیچھے وہ عناصر ہیں جو حکومت اور ریاستی اداروں کے مخالف ہیں اور ملک میں سیاسی انتشار پھیلانا چاہتے ہیں۔
جنرل عاصم منیر نے جلسے کے اسٹیج پر بھی اور ذاتی نشست میں بھی واضح الفاظ میں کہا کہ “خدا نے مجھے اس ملک کا محافظ بنایا ہے، مجھے کسی اور عہدے کی خواہش نہیں۔ میں ایک سپاہی ہوں اور میری سب سے بڑی تمنا شہادت ہے۔”
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے کردار اور محنت کو سراہتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران وزیراعظم اور کابینہ نے جس جرات اور عزم کا مظاہرہ کیا، اس پر انہیں خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف روزانہ 18 گھنٹے خلوص کے ساتھ قوم کے لیے کام کر رہے ہیں۔
سیاسی مفاہمت کے سوال پر جنرل منیر نے کہا کہ “اصل صلح تب ممکن ہے جب دل سے معافی مانگی جائے۔” انہوں نے اس موقع پر قرآن مجید کی آیات پڑھ کر سنائیں جن میں حضرت آدمؑ کی تخلیق اور شیطان کے کردار کا ذکر ہے۔ جنرل منیر نے کہا کہ “فرشتوں نے معافی مانگی تو وہ اللہ کے قریب ہوئے، مگر ابلیس نے انکار کیا اور شیطان قرار پایا۔” ان کے مطابق ملک میں بھی سیاسی مصالحت اسی وقت ممکن ہوگی جب دل سے معافی مانگی جائے گی۔
معاشی بحران پر بات کرتے ہوئے جنرل منیر نے ایک تفصیلی روڈ میپ پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پانچ سے دس برسوں میں پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کرنے کی منصوبہ بندی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریکوڈک منصوبے سے اگلے سال سے سالانہ دو ارب ڈالر کا خالص منافع ہوگا، جو وقت کے ساتھ بڑھتا جائے گا۔ جنرل منیر کے مطابق پاکستان کے پاس نایاب معدنی وسائل ہیں جن کی بدولت نہ صرف ملکی قرضہ اتر سکتا ہے بلکہ پاکستان جلد خوشحال ترین معاشروں میں شامل ہو سکتا ہے۔
بین الاقوامی تعلقات پر جنرل منیر نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ چین اور امریکہ کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل کرتا آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہم ایک دوست کے لیے دوسرے کو قربان نہیں کریں گے۔” انہوں نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن کے اقدامات کو خلوص پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے سب سے پہلے ٹرمپ کے لیے نوبل انعام کی سفارش کی، جس کی پیروی اب دنیا کر رہی ہے۔
یہ ملاقات نہ صرف سیاسی و عسکری افواہوں کی وضاحت کے حوالے سے اہم تھی بلکہ اس میں پاکستان کے مستقبل کے معاشی اور عالمی روڈ میپ کا بھی واضح خاکہ سامنے آیا۔
کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس خبر کے لیے کلک ایبل ہیڈلائنز بھی بنا دوں؟
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرقابل تجدید توانائی میں نیا عالمی ریکارڈ؛ چین بجلی پیدا کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا عمران خان کے وکیل نے 9 مئی مقدمات میں ضمانت کیلئے اضافی دستاویزات عدالت میں جمع کرادیں سابق وزیراعظم آزاد کشمیر عبدالقیوم نیازی کو عدالت سے بڑا ریلیف مل گیا مالاکنڈ میں فائرنگ سے رہنما جے یو آئی مفتی کفایت اللہ اور اہلیہ زخمی، بیٹا، بیٹی جاں بحق پختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے نقصانات کی تفصیلات جاری، 307 افراد جاں بحق، ریسکیو آپریشن جاری پی ٹی آئی کارکنوں کی 5 اگست احتجاج کیس میں ضمانت کی درخواستیں منظور پاکستان کا نیا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ کامیابی سے مدار میں پہنچ گیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
شہدا ء کا مقام اور فضیلت
جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔
ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔
1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔
اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔
احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔