امریکہ اور بھارت کا تجارتی تنازعہ شدت اختیار کرگیا، ٹرمپ نے مذاکرات منسوخ کردیئے
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
نئی دہلی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اگست 2025ء ) امریکہ اور بھارت کا تجارتی تنازعہ شدت اختیار کرچکا ہے اور صدر ٹرمپ نے مذاکرات منسوخ کردیئے ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق امریکہ نے بھارت کے ساتھ تجارتی مذاکرات معطل کر دیئے ہیں اور تجارتی مذاکرات کاروں کا اس ماہ کے آخر میں نئی دہلی کا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا گیا، یہ دورہ 25 اگست سے 29 اگست کے درمیان متوقع تھا لیکن اب اسے دوبارہ شیڈول کیے جانے کا امکان ہے، دونوں ممالک رابطے میں ہیں لیکن بات چیت کے نئے شیڈول پر ابھی فیصلہ نہیں ہوا۔
بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی برآمدات پر 25 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کی ہے اور اس کے ساتھ مزید 25 فیصد ڈیوٹی روس سے تیل خریدنے پر بطور سزا نافذ کرنے کا اعلان کیا جو 27 اگست سے فعال ہونے کی توقع ہے، بھارت پر عائد ٹرمپ کا مجموعی 50 فیصد ٹیرف شرح امریکہ کے کسی بھی تجارتی شراکت دار پر سب سے زیادہ میں سے ایک ہے اور اس پر نئی دہلی کی جانب سے سخت ردعمل آیا۔(جاری ہے)
بھارت کا کہنا تھا کہ اسے ناانصافی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس حوالے سے بھارتی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ یہ بات قابلِ غور ہے کہ وہی ممالک جو بھارت پر تنقید کر رہے ہیں خود روس کے ساتھ تجارت میں مصروف ہیں، ہمارے معاملے کے برعکس ان کی یہ تجارت کوئی قومی مجبوری بھی نہیں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں