معذوری کے باوجود ہمت نہ ہارنے والی ڈاکٹر انعم نجم کی دلچسپ کہانی
اشاعت کی تاریخ: 25th, August 2025 GMT
مظفرآباد آزاد جموں و کشمیر کی باہمت خاتون ڈاکٹر انم نجم نے ثابت کردیا ہے کہ حوصلہ اور عزم کسی جسمانی معذوری کے محتاج نہیں ہوتے۔ ایک حادثے کے نتیجے میں معذور ہونے اور وہیل چیئر پر زندگی گزارنے کے باوجود ڈاکٹر انم نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں جاری رکھیں۔
آج وہ سی ایم ایچ مظفرآباد میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ روزانہ درجنوں مریضوں کا علاج کرتی ہیں اور ان کے لیے امید کی کرن ثابت ہوتی ہیں۔
ان کی زندگی کا سفر خواتین اور مردوں کے لیے یکساں طور پر ایک مثال ہے کہ مشکلات انسان کو رکنے پر مجبور نہیں کر سکتیں۔
ڈاکٹر انم نجم کی جدوجہد اور خدمتِ خلق کا جذبہ معاشرے کے لیے ایک روشن پیغام ہے کہ حوصلے، ایمان اور محنت کے ساتھ ہر رکاوٹ کو عبور کیا جا سکتا ہے۔ مزید جانیے ثاقب علی کی اس رپورٹ میں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews خدمت خلق ڈاکٹر انعم نجم سی ایم ایچ کامیابی کی کہانی مظفرآباد معذوری وہیل چیئر وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر انعم نجم سی ایم ایچ کامیابی کی کہانی وہیل چیئر وی نیوز کے لیے
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔