FIA نے اپنے نام سے جعلی ایف آئی آرز سے خبردار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, August 2025 GMT
ایف آئی اے کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے جس میں ادارے کے نام سے جعلی ایف آئی آرز سے عوام کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کو ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ جرائم پیشہ عناصر ایف آئی اے کے نام سے واٹس ایپ پر جعلی اور من گھڑت ایف آئی آر ارسال کرکے ہراساں کرتے ہیں۔
جعلی ایف آئی آر میں شہریوں کو نامزد کرکے خوف و ہراس میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں، یہ عناصر فرضی اور گمراہ کن نام استعمال کر کے خود کو ایف آئی اے اہلکار ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایسے پیغامات میں شہریوں کو ’’سائبر کرائمز اور دہشتگردی‘‘ جیسے سنگین الزامات لگا کر بلیک میل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ ایف آئی اے کسی بھی فرد کو اس نوعیت کے پیغام واٹس ایپ کے ذریعے نہیں بھیجتا۔
ایف آئی اے کی جانب سے عوام سے گزارش کی گئی ہے کہ کسی بھی مشکوک پیغام یا رابطے کی شکایت نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو درج کرائیں جو کہ سائبر کرائم کی تحقیقات کےلیے مجاز ایجنسی ہے۔
جعلی پیغامات سے ہوشیار رہیں، اور اپنے ذاتی و مالیاتی معلومات کو ہرگز شیئر نہ کریں۔ مزید معلومات کےلیے ایف آئی اے ہیلپ لائن 1991 پر رابطہ کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا
پروپیگنڈا اور گمراہ کن دعوؤں کے برعکس بھارتی نوجوان نے شکست خوردہ مودی حکومت کو آئینہ دکھا دیا۔
دہلی میں بھارتی مظاہرین نے آپریشن سندور میں شکست اورناکامی کو چھپانے کیلئےفوجیوں کی ہلاکت کو دبانے کے پاکستانی مؤقف کی تائید کر دی۔ دہلی میں مظاہرین نے تشدد کرنےوالے پولیس اہلکاروں کو مخاطب کر کے کہاکہ حکومت نے آپریشن سندور میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت اور ان کی قربانیوں کو عوام سے چھپایا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ جو حکومت اپنے فوجیوں کی قربانیوں کو نظر انداز کرے، وہ کسی بھی اہلکار کے ساتھ ایسا کر سکتی ہے ، حکومت کو پولیس اور فوجی جوانوں کی زندگیوں اور قربانیوں کی کوئی پروا نہیں ہے۔
آپریشن سندور میں ہلاک ہونے والے فوجی جوانوں کے نام اور قربانیوں کو حکومتی سطح پر نظر انداز کیا گیا، تم حکومت کا ساتھ دیتے ہو،لیکن یہی حکومت تمہاری موت کے بعد تمہاری شناخت تک چھپا دیتی ہے۔
بھارتی عوام کا مودی کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ان کے پوسٹر پھاڑ رہے ہیں اور ان کی تصویر پر چپلیں برسا رہے ہیں۔