سوات کے علاقے شانگلہ میں سیلابی ریلے سے گاؤں شائی درہ مکمل تباہ ہوگیا۔
نجی ٹی وی کے مطابق سیلاب کے راستے میں آنیوالے گاؤں شائی درہ میں مکانات، مارکیٹ اور لڑکیوں کا واحد پرائمری اسکول بھی سیلاب کی نذر ہوگیا جبکہ رابطہ سڑک تباہ ہونے سے امدادی سامان بھی نہیں پہنچ سکا۔
مقامی لوگوں کو کہنا ہے کہ سیلاب کو 10 روزگزرنے کے باوجود زاہد آباد کے کئی مکانات اور گلیاں اب تک صاف نہیں کی جاسکیں، حکومتی ادارے اور مقامی رضاکار صفائی میں مصروف ہیں۔
ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب کے باعث جاں بحق افراد کی تعداد 800 تک پہنچ گئی
دوسری جانب ضلع غذر میں سیلاب کے باعث چٹورکھنڈ اورگاؤں دائن کو ملانے والا پل گرنے سے مقامی آبادی کا گاہکوچ اور گلگت سے رابطہ 2 ہفتے سے منقطع ہے جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
غذر میں گلیشئر پھٹنے سے متاثرہ تالی داس راوشن سیمت دیگر علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں تاہم گلگت شندور روڈ بند ہونے کی وجہ بالائی علاقوں کے لئے ٹریفک بند ہے۔
اس حوالے سے ترجمان جی بی حکومت کا کہنا ہے کہ تالی داس گاؤں کے مکینوں کی آباد کاری کا واحد حل متبادل گاؤں کا قیام ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ جی بی حکومت متاثرین کے لئے وفاق کیساتھ مل کر متبادل گاؤں بنائے گی، دائن چٹورکھنڈ آر سی سی پل کی تعمیر کیلئے بھی وفاقی حکومت کا تعاون درکار ہے۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • شانگلہ:چھت منہدم‘6بچے‘گاڑی کھائی میں جا گرنے پر 6مسافر گلگت میں جاںبحق
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق