ناروے میں دنیا کا پہلا تجارتی کاربن ڈائی آکسائیڈ قبرستان قائم
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
ناروے کے ساحل کے قریب دنیا کی پہلی تجارتی کاربن اسٹوریج سروس نے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو شمالی سمندر کی تہہ میں محفوظ کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سائنسدانوں نے فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے کاربن کیپچر ٹیکنالوجی متعارف کرا دی
’نادرن لائٹس‘ نامی یہ منصوبہ تیل کی بڑی کمپنیوں ایکوینور، شیل اور ٹوٹل انرجیز کی شراکت سے قائم ہے، جو یورپ بھر کے کارخانوں سے اخراج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جمع کر کے زمین کے اندر دفن کرے گا۔
The Northern Lights project has just begun storing CO2 deep below the Norwegian seabed.
— Interesting Engineering (@IntEngineering) August 25, 2025
نادرن لائٹس کے منیجنگ ڈائریکٹر ٹم ہائجن کے مطابق منصوبے کے تحت پہلا کاربن ڈائی آکسائیڈ کامیابی سے ذخیرہ کر دیا ہے، اور اب ہمارے جہاز، تنصیبات اور کنویں مکمل طور پر فعال ہیں۔
منصوبے کے تحت کاربن کو پہلے صنعتی دھویں سے الگ کیا جاتا ہے، پھر اسے مائع شکل میں جہازوں کے ذریعے ناروے کے مغربی ساحل پر برگن کے قریب اوئیگارڈن ٹرمینل تک پہنچایا جاتا ہے۔‘
مزید پڑھیں:ناسا کا مصنوعی سیارہ خلا میں گرین ہاؤس گیسوں کے ذرائع کی نشاندہی کیسے کرے گا؟
بعد ازاں کاربن کو بڑے ٹینکوں میں منتقل کر کے 110 کلومیٹر طویل پائپ لائن کے ذریعے سمندر کی تہہ میں 2.6 کلومیٹر گہرائی تک انجیکٹ کیا جاتا ہے، جہاں اسے مستقل طور پر محفوظ کر لیا جائے گا۔
اس ٹیکنالوجی کو اقوامِ متحدہ کے انٹرگورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج اور انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف ایک مؤثر ہتھیار قرار دیا ہے۔
پہلا کاربن ڈائی آکسائیڈ انجیکشن جنوب مشرقی ناروے میں واقع جرمنی کی ہائیڈلبرگ میٹریلز سیمنٹ فیکٹری سے حاصل ہونے والے اخراجات کا کیا گیا، ماہرین کے مطابق یہ اقدام یورپ میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے کی ایک تاریخی پیش رفت ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ انجیکٹ پائپ لائن شمالی سمندر کاربن اسٹوریج سروس کاربن ڈائی آکسائیڈ نادرن لائٹس ناروے
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ انجیکٹ پائپ لائن شمالی سمندر کاربن اسٹوریج سروس کاربن ڈائی آکسائیڈ نادرن لائٹس ناروے کاربن ڈائی آکسائیڈ
پڑھیں:
ایمریٹس کپتان دنیا کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے پائلٹس میں شامل
مشرقِ وسطیٰ کی سب سے بڑی فضائی کمپنی ایمریٹس ایئرلائن (Emirates Airline)نے 2026 میں بھی دنیا کی سب سے زیادہ پرکشش اور زیادہ تنخواہیں دینے والی ایئرلائنز میں اپنی مضبوط پوزیشن برقرار رکھی ہے۔
تازہ رپورٹس کے مطابق ایمریٹس نہ صرف اپنے پائلٹس کو خطیر تنخواہیں فراہم کر رہی ہے بلکہ انہیں متعدد اضافی مراعات بھی دی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے دنیا بھر کے تجربہ کار پائلٹس اس ایئرلائن میں ملازمت کو ترجیح دیتے ہیں۔ اعلیٰ معیارِ زندگی، ٹیکس فری آمدن اور بہتر کیریئر مواقع اسے عالمی سطح پر ایک نمایاں ایئرلائن بناتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ایمریٹس میں کام کرنے والے فرسٹ آفیسرز کی سالانہ آمدن تقریباً 4 لاکھ 20 ہزار سے 6 لاکھ 20 ہزار درہم کے درمیان ہوتی ہے، جو امریکی کرنسی میں تقریباً 1 لاکھ 14 ہزار سے 1 لاکھ 69 ہزار ڈالر کے برابر بنتی ہے۔ تنخواہ کا انحصار طیارے کی قسم اور تجربے پر ہوتا ہے، خاص طور پر بوئنگ 777 اور ایئربس A380 جیسے طویل فاصلے کے طیاروں پر تعینات پائلٹس زیادہ آمدن حاصل کرتے ہیں۔
دوسری جانب کپتانوں کی تنخواہیں اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2026 میں ایمریٹس کے کپتان سالانہ 9 لاکھ سے 14 لاکھ 50 ہزار درہم تک کما سکتے ہیں، جو تقریباً 2 لاکھ 45 ہزار سے 3 لاکھ 95 ہزار امریکی ڈالر کے برابر ہے۔ الٹرا لانگ ہال طیاروں جیسے ایئربس A380 کے کپتان اضافی الاؤنسز اور فلائنگ ڈیوٹی کی وجہ سے اس سے بھی زیادہ آمدن حاصل کر سکتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے پر عزم ہیں،شہباز شریف
ایمریٹس کی سب سے بڑی کشش اس کی ٹیکس فری تنخواہ ہے، جس کے باعث پائلٹس کی خالص آمدن دیگر مغربی ممالک کی ایئرلائنز کے مقابلے میں زیادہ ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی اپنے ملازمین کو رہائش یا ہاؤسنگ الاؤنس، سفری الاؤنس، میڈیکل اور انشورنس سہولیات، اہل خانہ کے لیے سفری رعایتیں، بچوں کی تعلیم میں مدد اور بیرون ملک قیام کے دوران ہوٹل و کھانے کے اخراجات جیسی مراعات بھی فراہم کرتی ہے۔
بیڑے کے حوالے سے ایمریٹس دنیا کے سب سے بڑے وائیڈ باڈی طیاروں کے آپریٹرز میں سے ایک ہے، جس میں 116 ایئربس A380، 118 بوئنگ 777-300ER، 10 بوئنگ 777-200LR اور 19 ایئربس A350-900 شامل ہیں۔ کمپنی نے مستقبل کے لیے مزید 359 طیاروں کے بڑے آرڈرز بھی دیے ہیں جن میں بوئنگ 777-9، بوئنگ 777-8، بوئنگ 787 اور ایئربس A350 شامل ہیں۔
پائلٹ بننے کے لیے ایمریٹس میں سخت معیار مقرر ہیں۔ فرسٹ آفیسر کے لیے کم از کم 2 ہزار فلائنگ آورز جبکہ کپتان کے لیے 7 ہزار سے زائد فلائنگ آورز کے ساتھ ساتھ ہزاروں گھنٹوں کا کمانڈ تجربہ لازمی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی سول ایوی ایشن کے لائسنس، میڈیکل سرٹیفکیٹ اور انگریزی زبان میں مہارت بھی بنیادی شرائط میں شامل ہیں۔