ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ پر دوبارہ نیل، صحت پر سوالات اٹھ گئے
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دائیں ہاتھ پر ایک بار پھر سیاہ اور نیلا پیچ دیکھا گیا ہے، جس نے ان کی صحت کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دیا۔ یہ منظر اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ سے ملاقات کر رہے تھے۔
ملاقات کے دوران ٹرمپ نے رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے بار بار اپنا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ پر رکھا، جیسے وہ نشانات چھپانے کی کوشش کر رہے ہوں۔ چند دن قبل بھی ٹرمپ کے ہاتھ پر میک اپ لگا دیکھا گیا تھا جو باقی جلد سے مختلف رنگ کا تھا، جس کے بعد قیاس آرائیاں بڑھ گئی تھیں کہ صدر کچھ چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس اور ڈاکٹرز کی وضاحت
پریس سیکریٹری کیرولائن لیوٹ نے کہا کہ “صدر ٹرمپ عوامی شخصیت ہیں، روزانہ سیکڑوں لوگوں سے ملاقات کرتے ہیں اور ہاتھ ملاتے ہیں۔ ان کا عزم اور توانائی سب کے سامنے ہے۔”
صدر کے معالج ڈاکٹر شین باربابیلا نے ایک خط جاری کیا ہے جس میں وضاحت کی گئی کہ ہاتھ پر یہ نشانات زیادہ ہاتھ ملانے اور ایسپرین کے استعمال کی وجہ سے ہیں۔ ایسپرین دل کی صحت کے لیے احتیاطی طور پر دی جاتی ہے۔
ڈاکٹر نے مزید بتایا کہ ٹرمپ کو “کرونک وینس انسفیشنسی” ہے، یعنی رگوں میں خون کا بہاؤ دل تک واپس آنے میں سست ہوتا ہے۔ یہ بڑی عمر کے افراد میں عام بیماری ہے اور زیادہ خطرناک نہیں۔ ان کی ٹانگوں میں ہلکی سوجن بھی نوٹ کی گئی تھی، لیکن مکمل جانچ کے بعد کسی بڑی بیماری جیسے ڈیپ وین تھرومبوسس (DVT) یا شریانوں کی بیماری کی کوئی علامت سامنے نہیں آئی۔
پس منظر
یاد رہے کہ رواں سال فروری میں فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون سے ملاقات کے دوران بھی ٹرمپ کے ہاتھ پر ایسا ہی نیل دیکھا گیا تھا، جس نے اس وقت بھی ان کی صحت پر سوالات کھڑے کیے تھے۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔