غیر قانونی قیام کیس: سری لنکن خاتون کی درخواست پر ایف آئی اے سے جواب طلب
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
کراچی:
سندھ ہائیکورٹ نے پاکستان میں غیر قانونی رہائش اختیار کرنے والی سری لنکن خاتون کی ایف آئی اے کیخلاف درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کردیے۔
ہائیکورٹ میں پاکستان میں غیر قانونی رہائش اختیار کرنے والی سری لنکن خاتون کی ایف آئی اے کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔
درخواستگزار کے وکیل ضیاء اعوان ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ نیم رسیا شیرف خاتون کی 15 سال پہلے سعودی عرب میں پاکستانی جاوید اقبال سے شادی ہوئی تھی۔ شوہر کی بیماری کے باعث خاتون پاکستان میں تھی اس کا ویزہ ختم ہوگیا۔
وکیل نے کہا کہ خاتون بیمار شوہر کے ساتھ رہائش پزیرتھی، ایف آئی اے نے سری لنکا جانے سے روک دیا ہے۔ ایف آئی اے نے خاتون پر 18 لاکھ روپے جرمانہ کردیا ہے، سیکڑوں لوگ پاکستان میں غیر قانونی طورپر رہ رہے ہیں۔
درخواستگزار کے وکیل نے مزید کہا کہ عدلیہ پہلے بھی اس طرح کے جرمانے معاف کرچکی ہے۔ خاتون اپنے 3 بچوں کے پاس سری لنکا جانا چاہتی ہے۔ جرمانہ معاف کر کے خاتون کو سری لنکا جانے کی اجازت دی جائے۔
عدالت نے ایف آئی اے اور دیگر کو 11 ستمبر کے لیئے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان میں ایف آئی اے خاتون کی
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔