صحافیوں میں بڑھتے نفسیاتی امراض، ایک تحقیقاتی جائزہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
پاکستان ٹیلی ویژن کوئٹہ سینٹر میں شام کے اوقات میں 5,5 منٹ کے بلیٹن تین زبانوں میں پونے 5 بجے ہوا کرتے تھے۔ جس میں بلوچستان یونیورسٹی کے پروفیسرز اور ادیب دانشور یہ کام سرانجام دیا کرتے تھے۔
پی ٹی وی کوئٹہ سینٹر نہ صرف اپنی عمارت کی خوبصورتی کی وجہ سے مشہور ہے، بلکہ اپنے ڈراموں آرٹسٹ اور فنکاروں کی وجہ سے بخوبی جانا پہنچانا جاتا ہے، جس کا آغاز 1974 میں کیا گیا تھا۔
سینئر نیوز ایڈیٹر پی ٹی وی انگلش عبدالسلام جوگیزئی بتاتے ہیں کہ جب ہم نے کام شروع کیا تھا اس وقت بہت سینئر لوگ ہوا کرتے تھے، جن سے کئی بار سوچنے کے بعد سنبھل کر الفاظ کا انتخاب کرتے ہوئے کوئی بات پوچھی اور لکھی جاتی تھی، مجھے یاد ایک لفظ پر لوگوں کو چارج شیٹ بھی کیا جاتا تھا۔
اس قدر پی ٹی وی کی پالیسی سخت ہوا کرتی تھی۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اب نہ نیوز میں پروڈیوسر ہے، نہ ایڈیٹر اور نہ ہی سپر وائزر جو ایک وقت میں 4 افراد ایک ڈیسک پر کام کیا کرتے تھے، اب ایک فرد پر آکر رک گیا ہے۔
مزے کی بات یہ ہے وہ ہی شخص اس بلیٹن کو تیار کرکے نیوز کاسٹر کے طور پر بھی کام کرتا ہے، ایسے میں انسان کی ذہنی کیفیت کیا ہوگی؟ آپ اس کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔
سینئر صحافی اور صحافیوں کی نمائندہ جماعت پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سابقہ صدر شہزاد ذوالفقار کہتے ہیں کہ جب الیکٹرونک میڈیا کا انقلاب برپا ہوا تو کوئٹہ میں کم لوگ تھے جو کیمرہ کے سامنے آکر بات کریں۔
کوئٹہ چھوٹا شہر ہونے کی وجہ سے یہاں شروع سے اسٹاف کم دیا جاتا رہا ہے۔ جیو نیوز کا آغاز کیا گیا تب بھی 3 سے 4 افراد رپورٹنگ پر اور ایک شخص اسائنمنٹ پر ہوا کرتا تھا، جو ڈیسک پر بیٹھا رہتا تھا اور سارے ٹکرز اور نیوز فائل کرتا رہتا تھا، بعد میں اے آر وائے نیوز آیا، پھر آہستہ آہستہ باقی چینل آتے گئے اور کام چلتا گیا۔
دنیا نیوز جب شروع ہوا تو 2008 میں تو جو نان لینیر ایڈیٹر تھے انہی سے اسائنمنٹ اور کاپی کا کام لیا جاتا رہا اور بعد میں جو بیورو 10 کے قریب افراد پر مشتمل تھا اسے 4 سے 5 افراد تک محدود کیا گیا ہے۔
اب تو آئے روز کوئٹہ میں کوئی نہ کوئی بیورو مکمل طور پر بند ہونے کی اطلاع آتی ہے۔ کے ٹی این نیوز کا بیورو ہمیشہ کے لیے بند کردیا گیا، جہاں ایک شخص بھی بہت اچھا کام کر رہا تھا۔
حال ہی میں بول نیوز کے بیورو کو مکمل طورپر بند کردیا گیا۔ ڈان نیوز کا بیورو بند کر دیا گیا اور اس طرح سے کافی بیورو میں سیلری کٹ لگایا جاتا رہا اور صحافی بے روزگار ہوتے چلے گئے۔
آج سے 5 سال پہلے جو الیکٹرونک میڈیا کا بیورو 10 سے بارہ افراد پر مشتمل ہوا کرتا تھا وہ سکڑ کر 3 سے 4 افراد پر جا کے ٹہرا ہے، بلکہ اس میں ذیادہ تر چینلز کے بیورو آفیسز بند کر دیے گئے۔
پہلے اسائنمنٹ ایڈیٹر اور رپورٹرز کی پوسٹیں ہوا کرتی تھیں، اب تو رپورٹر ہی اسائنمنٹ ایڈیٹر ہے اور این ایل ای کا کام کرتا دیکھائی دیتا ہے، بعض بیورو کو تو صرف ایک رپورٹر اور ایک کیمرہ مین پر روک دیا گیا۔
ون مین آرمی کا تصور ایک انسان کا ذہنی سکون حرام کر دیتا ہے۔ ایک انسان اپنی صلاحیت کے مطابق ہی کام کر سکتا ہے، لیکن اس کے اوپر بے وجہ کام کا برڈن ڈالنا بار بار اس کی سرزنش کرنا اور بہت تیزی سے کام کرے کی تلقین کرنا اسے کئی امراض میں مبتلا کرکے رکھ دیتے ہیں۔
اس میں صحافی نفسیاتی امراض کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ کام بھی اچھے انداز میں نہیں کرپاتا اور ذہنی کوفت میں مبتلا ہوکر رہ جاتا ہے۔
ابرار احمد دنیا نیوز سے وابستہ ہیں، کہتے ہیں کہ ’میرا ہمیشہ سے خواب تھا کہ میں سچ کو سامنے لانے میں اپنا کردار ادا کروں۔ میں نے صحافت کا انتخاب اس لیے کیا کہ مجھے لگا کہ یہ شعبہ سماجی تبدیلی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
کچھ حد تک، لیکن حقیقی دنیا کے چیلنجز توقعات سے زیادہ سخت ہیں۔ میں نے سوچا تھا کہ صحافی کو مکمل آزادی ہوتی ہے، مگر عملی طور پر کئی مشکلات اور ادارتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
میرا سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ مجھے حقیقت کو پیش کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ، تنخواہ اور نوکری کا استحکام بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے بھی خدشات موجود ہیں، کیونکہ کچھ مواقع پر شدید دباؤ یا خطرات کا سامنا ہوتا ہے۔
میں یہی کہوں گا کہ صحافت ایک جذبے اور عزم کا نام ہے۔ اگر آپ سچائی کی تلاش میں ہیں اور اپنے کام میں ایمانداری برتنے کو تیار ہیں، تو یہ شعبہ آپ کے لیے بہترین ہے۔ لیکن آپ کو ذہنی دباؤ کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘
سینئر صحافی اور کوئٹہ پریس کلب کے جنرل سیکرٹری ایوب ترین کہتے ہیں کہ ’میرا سفر کافی چیلنجنگ رہا ہے۔ جب میں نے صحافت میں قدم رکھا، تو تحقیق اور حقائق کی تصدیق پر زیادہ زور دیا جاتا تھا۔ اب نیوز روم میں رفتار اور فوری خبر رسانی کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔
پہلے نیوز روم میں تحقیق اور صحافتی آزادی کو زیادہ اہمیت دی جاتی تھی، لیکن اب اکثر ادارتی مداخلت اور سنسر شپ کا سامنا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، سوشل میڈیا کے باعث خبریں زیادہ تیزی سے پھیلتی ہیں، جس سے صحافیوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ فوراً رپورٹنگ کریں، چاہے حقائق مکمل طور پر تصدیق شدہ نہ ہوں۔
صحافت کا معیار متاثر ہو رہا ہے کیونکہ تحقیق اور وقت کی کمی کے باعث بعض اوقات غیر تصدیق شدہ خبریں بھی نشر ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ، بعض ادارے ریٹنگز اور اشتہاری آمدنی کی خاطر سنسنی خیز خبریں زیادہ نشر کرتے ہیں، جس سے صحافتی اصولوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔
میرا مشورہ ہوگا کہ وہ تحقیق اور حقائق کی تصدیق کو اولین ترجیح دیں۔ صحافت کے اصولوں پر کاربند رہیں، چاہے حالات جیسے بھی ہوں۔ اور سب سے اہم بات، اپنے ذہنی دباؤ کا خیال رکھیں، کیونکہ یہ شعبہ نہایت چیلنجنگ ہے۔‘
ذہنی صحت اور صحافی — ماہرین کی نظر میںماہر نفسیات ڈاکٹر عائشہ بیدار کے مطابق، صحافیوں میں سب سے عام ذہنی مسائل اینزائٹی، ڈپریشن، برن آؤٹ، اعتماد میں کمی اور غصہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’صحافی، ڈاکٹر اور پولیس جیسے پیشے وہ ہیں جن میں دباؤ بہت زیادہ ہوتا ہے، لیکن ان پر توجہ کم دی جاتی ہے۔‘
سینٹر آف ایکسیلینس فار جرنلزم (CEJ) کی تحقیق کے مطابق: 45%صحافی بے چینی کا شکار تھے 22% کو ذہنی دباؤ 14% کو اعتماد میں کمی 13% کو شدید اسٹریس 6% کو غصہ 22% دیگر مسائل سے دوچار تھے نیوز رومز کا ماحول اور ذہنی اثراتماہر نفسیات ڈاکٹر خالد مفتی کے مطابق، نیوز رومز میں وقت کی قلت، فوری خبر رسانی، اور ادارتی دباؤ صحافیوں کو شدید ذہنی تناؤ میں مبتلا کر دیتا ہے۔ پشاور اور کوئٹہ کے 60 فیصد سے زائد صحافی نیند، خوراک، اور یادداشت جیسے مسائل کا شکار ہیں۔
ماہرین کی تجاویز — ذہنی سکون کے لیے اقداماتماہرین کے مطابق صحافیوں کے لیے درج ذیل اقدامات مددگار ثابت ہو سکتے ہیں:
ون آن ون کونسلنگ سیشنز کی فراہمی سائیکولوجیکل سیفٹی پر مبنی نیوز رومز ورکشاپس اور تربیتی پروگرامز کا انعقاد مراقبہ، یوگا، اور جسمانی سرگرمیاں سپورٹ گروپس اور فیملی تھراپی4 ذہنی دباؤ کا اثر گھر والوں پرCEJ کراچی نے 2018 میں صحافیوں کے لیے مفت تھیراپی سیشنز کا آغاز کیا، جس سے 100 سے زائد صحافی مستفید ہو چکے ہیں۔
قراقرم یونیورسٹی دیامر کیمپس میں صحافیوں کے لیے ذہنی صحت اور خودکشی سے متعلق ذمہ دارانہ رپورٹنگ پر سیمنار منعقد ہوا۔
صحافیوں کی بہبود کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ میڈیا ادارے ذہنی صحت کے مشاورتی پروگرامز متعارف کروائیں، جہاں ماہرین نفسیات صحافیوں کی ذہنی پریشانیوں کو سن سکیں اور انہیں دباؤ سے نمٹنے کے مؤثر طریقے سکھا سکیں۔
نیوز رومز میں آرام دہ ماحول کی فراہمی، باقاعدہ ورکشاپس، اور ذہنی سکون کے لیے مختص مقامات بھی اہم ہیں، تاکہ صحافیوں کو روزمرہ کے دباؤ سے نکلنے کا موقع ملے۔
اس کے ساتھ ساتھ، حکومت اور متعلقہ اداروں کو ایسے قوانین نافذ کرنے چاہئیں جو صحافیوں کو غیر ضروری سنسر شپ، دباؤ، اور ہراسانی سے محفوظ رکھیں، تاکہ وہ آزادانہ طور پر اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکیں۔
اس کے علاوہ، کام کی منصفانہ تقسیم اور مالی استحکام بھی صحافیوں کی ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ صحافیوں کے لیے مناسب وقفے، تنخواہوں میں بہتری، اور ٹیم ورک کے اصولوں پر عمل درآمد کے ذریعے کام کے بوجھ کو متوازن رکھا جا سکتا ہے، تاکہ ہر فرد اپنی ذمہ داریوں کو زیادہ مؤثر طریقے سے نبھا سکے۔
اس طرح کی اصلاحات نہ صرف صحافیوں کی بہبود کو یقینی بنائیں گی بلکہ صحافتی معیار کو بھی بلند کریں گی، اور ایک آزاد، متوازن اور صحت مند میڈیا انڈسٹری کو فروغ دینے میں مدد کریں گی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: صحافیوں کے لیے اس کے علاوہ صحافیوں کی تحقیق اور نیوز رومز کرتے تھے کے مطابق کا سامنا دیا گیا دباؤ کا نیوز کا کے ساتھ کام کر ہیں کہ
پڑھیں:
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں میڈیا انڈسٹری، پیکا قوانین اور صحافیوں کے فلاحی امور سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں سینیٹر عبدالشکور، سینیٹر سید وقار مہدی، سینیٹر پرویز رشید اور سینیٹر جان محمد نے شرکت کی۔
کمیٹی کو این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
کمیٹی نے فلم "بلھا" میں حضرت بابا بلھ شاہ کے امن کے پیغام کی مبینہ غلط ترجمانی کا بھی نوٹس لیا، اور مشاہدہ کیا کہ فلم نے معروف صوفی بزرگ کی پرامن تعلیمات کو مرکزی کردار کے ذریعے تشدد اور بندوقوں سے جوڑ کر مسخ کیا ہے۔ اراکین نے اس بنیاد پر سوال اٹھایا کہ سینٹرل بورڈ آف فلم سنسرز نے اس فلم کی منظوری کس طرح دی۔ اگرچہ سنسر بورڈ کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ فلم پنجاب اور سندھ کے سنسر بورڈز سے بھی منظور شدہ ہے، تاہم کمیٹی نے اس توجیہہ کو مسترد کر دیا۔ اراکین نے سنسر بورڈ کے ارکان کی تقرری کے معیار پر بھی سوال اٹھایا اور وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس طرح کی تقرریوں کے لیے ایک شفاف اور میرٹ پر مبنی طریقہ کار وضع کرے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
تفصیلی غوروخوض کے بعد، کمیٹی نے سفارش کی کہ فلم "بلھا" کے پروڈیوسرز کو کہا جائے کہ وہ اس کا نام تبدیل کریں اور وہ قابلِ اعتراض مکالمہ ہٹائیں جس میں مرکزی کردار نے خود کا موازنہ بابا بلھ شاہ سے کیا ہے، بصورت دیگر فلم کی ریلیز پر پابندی عائد کی جائے جس میں یوٹیوب سے اس کا ممکنہ اخراج بھی شامل ہو۔
کمیٹی کو وفاقی حکومت کے ملازمین ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA) کی طرف سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے فلیٹس اور پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ میڈیا ورکرز کے کوٹے کے تحت الاٹمنٹ کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ صحافیوں کے کوٹے سے متعلق مسائل ابھی تک حل طلب ہیں۔ اس طویل تاخیر پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، کمیٹی نے اپنی سفارشات پر عمل درآمد کی نگرانی اور مسئلے کے حل کو آسان بنانے کے لیے سینیٹرز پرویز رشید، وقار مہدی اور عبدالشکور پر مشتمل ایک مانیٹرنگ سب کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔
سینیٹر سرمد علی نے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی کہ معاملے کا جائزہ لینے، موجودہ پالیسی پر نظرثانی کرنے اور ایک ماہ کے اندر الاٹمنٹس کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک ہفتے کے اندر صحافیوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔ کمیٹی نے مستقبل کی ہاؤسنگ سکیموں میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے کوٹے میں اضافے کی بھی سفارش کی اور ایک مخصوص ہاؤسنگ لون سکیم متعارف کرانے یا موجودہ وفاقی حکومت کے ہاؤسنگ فنانس کے اقدامات کے تحت صحافیوں کو ترجیح دینے کی تجویز دی۔
پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) نے بھی کمیٹی کو علاقائی اخبارات کے اشتہاری کوٹے کے بارے میں بریفنگ دی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ موجودہ پالیسی کے تحت سرکاری اشتہارات کا 25 فیصد حصہ علاقائی اخبارات کے لیے مخصوص ہے۔ تاہم، اراکین نے اس پالیسی پر عمل درآمد نہ ہونے کی شکایات کا نوٹس لیا، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان سے۔ قائم مقام چیئرمین نے پی آئی ڈی کو ہدایت کی کہ وہ 25 فیصد کوٹے کی سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے، جس میں عوامی سطح پر معلومات کی ترسیل میں ان کے اہم کردار کے اعتراف میں لسانی اخبارات بھی شامل ہوں۔
کمیٹی نے ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کو درپیش مسائل پر بھی مزید تبادلہ خیال کیا۔ یہ بتایا گیا کہ 353 کمیوٹیشن کیسز تحال زیر التوا ہیں اور ریڈیو پاکستان وفاقی حکومت کے گران্ট-اِن-ایڈ کے ذریعے چل رہا ہے۔ حکام نے کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم پہلے ہی ریڈیو پاکستان، پی ٹی وی اور اے پی پی سے متعلقہ بقایا مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے چکے ہیں۔ قائم مقام چیئرمین نے ہدایت کی کہ ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کے مطالبات بھی وزیراعظم کی کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں اور اس معاملے کے جلد از جلد حل کا مطالبہ کیا۔
مزید :