لاہور:

پنجاب کے مختلف علاقوں میں دریاؤں میں پانی کے مسلسل بڑھتے ہوئے بہاؤ نے سیلابی خطرے کو سنگین بنا دیا ہے۔

دریائے راوی میں پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے جبکہ کوٹ مومن میں شدید سیلابی صورتحال کے باعث تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں۔

کمشنر لاہور محمد آصف بلال لودھی کے مطابق دریائے راوی میں پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 55 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے جبکہ آج صبح 9 سے 10 بجے کے دوران شاہدرہ کے مقام پر 1 لاکھ 60 ہزار کیوسک پانی کا ریلا گزرنے کا امکان ہے، تاہم صورتحال تاحال قابو میں ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق آج دوپہر تک دریائے راوی سے 2 لاکھ کیوسک کا ریلا گزرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سیلاب کے خطرے کے پیش نظر لاہور کی 5 تحصیلوں کے 22 دیہات خالی کرا لیے گئے ہیں، جبکہ دریائے راوی کے بیڈ سے مکمل انخلاء بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔

لاہور پولیس، ریسکیو 1122، محکمہ انہار، لائیو اسٹاک، سول ڈیفنس سمیت تمام ادارے ہائی الرٹ پر متحرک ہیں۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر سرگودھا نے کوٹ مومن تحصیل میں تمام نجی و سرکاری تعلیمی ادارے 2 ستمبر تک بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جس کے مطابق سیلابی خطرے کے پیش نظر طلبہ کو فوری چھٹیاں دے دی گئی ہیں۔

طالب والا پل سے 6 لاکھ کیوسک پانی کا گزر ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔

ایکسین اریگیشن اور اسسٹنٹ کمشنر فیصل شہزاد چیمہ نے ہیڈ قادرآباد کے بعد پانی کے بہاؤ کا جائزہ لیا اور بتایا کہ ابھی پانی کی سطح بلند ترین سطح پر نہیں پہنچی، مگر احتیاطی اقدامات جاری ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: دریائے راوی پانی کی سطح گیا ہے

پڑھیں:

لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا

فوٹو: آن لائن 

لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا، ڈی ايچ اے اور ہربنس پورہ انڈر پاس پانی سے بھر گئے، ٹریفک کے لیے بند کردیے گئے۔

 تاج پورہ اور ایئرپورٹ کے قریب علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، گاڑیاں ڈوب گئیں، موٹرسائيکلیں بند ہوگئیں، فیروز پور روڈ پر موٹرسائیکل پھسل کر کھمبے سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں دو بھائی جاں بحق ہوگئے، چھت گرنے کے واقعات میں چار افراد زخمی ہوئے۔

بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث 99 فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔

گوجرانوالا میں مسلسل تیسرے دن بھی بارش برسی، نکاسِ آب کے لیے لاہور سے مشینری طلب کرلی گئی، شکر گڑھ میں تیسرے روز بھی موسلادھار بارش ہوئی، نالہ بئیں اور بسنتر سے ملحقہ نشیبی دیہات میں پانی داخل ہوگیا۔

منڈی بہاء الدین میں بارش سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی دھان اور چارے کی فصلیں تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب دریائے چناب میں نچلے سے درمیانے درجے کا ریلا گزرنے کا خطرہ ہے، تریموں بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے لگی، سرگودھا میں طالب والا کے مقام پر اکتالیس دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پانی کا دباؤ بڑھ گیا،چنیوٹ میں شگاف پڑنے سےکئی ایکڑ فصلیں متاثر
  • دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب، زرعی اراضی اور فصلیں زیرِ آب
  • دریائے چناب میں سیلاب، تریموں ہیڈ پر پانی کی سطح بلند، چنیوٹ میں نہر میں شگاف سے فصلیں زیر آب
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا