راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (روڈا)، جو دریائے راوی کے کناروں پر نئی شہری ترقیاتی منصوبوں کی بنیاد رکھنے والا اہم ادارہ ہے، کا قیام 2016 میں پنجاب حکومت کی جانب سے ایک آرڈیننس کے تحت عمل میں آیا تھا۔

اس اتھارٹی کا بنیادی مقصد لاہور اور آس پاس کے علاقوں میں ماحولیاتی طور پر پائیدار شہری ڈویلپمنٹ کو فروغ دینا، آبادی کی دباؤ کو کم کرنا اور دریائے راوی کے قدرتی وسائل کو بہتر بنانا ہے۔

مزید پڑھیں: پنجاب میں جدید شہری ترقی کے لیے مریم نواز کا جاپانی ماڈل اپنانے کا فیصلہ

ابتدائی طور پر یہ منصوبہ 2020 میں لاہور ہائیکورٹ کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے باوجود جاری رہا، اور 2022 میں عدالت نے اسے غیر آئینی قرار دیا تھا، تاہم حکومت کی اپیلز کے بعد یہ فعال رہا۔

حال ہی میں، 2025 کے مون سون موسم میں بھارتی ڈیموں سے پانی کے اخراج اور شدید بارشوں کی وجہ سے دریائے راوی، چناب اور ستلج میں غیر معمولی سیلابی ریلے آئے ہیں، جس سے پنجاب کے کئی اضلاع شدید متاثر ہوئے ہیں۔

شاہدرہ، نارووال، گوجرانوالہ اور لاہور کے شمالی مضافات میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جہاں دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر 1 لاکھ 80 ہزار کیوسک سے زائد پانی کا بہاؤ ریکارڈ ہوا ہے۔

اس تناظر میں، راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (روڈا) نے اپنے تمام پروجیکٹس کی حفاظت کو یقینی بنانے کا اعلان کیا ہے۔ روڈا اتھارٹی کے مطابق، ان کے کسی بھی پروجیکٹ کو سیلاب سے کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔

مزید پڑھیں: پنجاب کابینہ نے اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کی منظوری دیدی

پارک ویو آؤٹ لیٹ میں جو اعلانات اور احتیاطی تدابیر کی گئیں، وہ محض حفاظتی اقدامات تھے، کیونکہ اس علاقے کے قریب این ٹی ڈی کی 220 کے وی بجلی کی لائن گزر رہی ہے جو روڈا کے دائرہ کار میں آتی ہے۔ اس لائن کی حفاظت کے لیے ایک خاص بند تعمیر کیا گیا ہے تاکہ کوئی ممکنہ نقصان نہ ہو۔

روڈا  اتھارٹی نے بتایا کہ بابا قوال، شاہدرہ، سگیاں برج، کالا خطائی اور پارک ویو جیسے حساس علاقوں میں سیلابی پانی آنے کا کافی خطرہ تھا، لیکن اب تک ان علاقوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ تمام روڈا پروجیکٹس محفوظ ہیں، اور اتھارٹی کی ٹیمیں سائٹس پر موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایک یا ڈیرھ لاکھ کیوسک کا ریلہ اگر مزید آتا ہے تو بھی یہ پروجیکٹس کو نقصان نہیں پہنچے گا، حالانکہ یہ پروجیکٹس دریائے راوی کے اوپری حصوں پر واقع ہیں۔

راوی اربن اتھارٹی نے پانی کے بہاؤ کے لیے الگ راستے تعمیر  بنائے ہیں، جس کی بدولت لاہور شہر بھی محفوظ ہے۔ یہ پرواجیکٹ عمران خان کے دور میں شروع ہوا تھا یہ 46 کلومیٹر تک طویل پرواجیکٹ ہے یہاں پر ٹارگٹ تھا کہ 2030 تک 10 لاکھ لوگوں یہاں پر آباد ہوں گے۔

مزید پڑھیں: حکومت پنجاب کا روڈا پراجیکٹس کی تکمیل کے لیے چین اورعالمی اداروں سے اشتراک کا فیصلہ

روڈا نے بڑی تیزی کی ساتھ اپنے پرواجیکٹس مکمل کیے ہیں، سوشل میڈیا پر روڈا پر تنقید کی جارہی ہے لیکن ہمارے کسی بھی پرواجیکٹ کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔ سیلابی صورتحال میں صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں نے ریسکیو آپریشنز کو تیز کر دیا ہے، اور این ڈی ایم اے نے مزید الرٹ جاری کیے ہیں۔ شہریوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ نشیبی علاقوں سے دور رہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: دریائے راوی نقصان نہیں راوی اربن کے لیے

پڑھیں:

گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔

(جاری ہے)

حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔                                                              

متعلقہ مضامین

  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان