Express News:
2026-06-03@03:22:47 GMT

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والے ﷺ

اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT

اﷲ رب العالمین نے انسانیت کی راہ نمائی کے لیے اپنے انبیاء و رسلؑ مبعوث فرمائے۔ جنہوں نے مریضان شرک و ضلالت کو توحید ربانی کے چشمۂ صافی سے سیراب کرکے حیات جاودانی سے ہم کنار کرنے کی سعی و جہد کی۔

تاہم ہر نبی و رسولؑ کی دعوت محدود اثرات کی حامل تھی۔ اس پر ستم یہ کہ اکثر لوگوں نے نہ صرف اپنے انبیاء کی تکذیب کی بل کہ انہیں ناحق قتل تک کر ڈالا۔ اسی طرح صدیوں کا سفر جاری تھا کہ انبیاء کی تعلیمات مسخ کردی گئیں اور سرزمین عرب بالخصوص شرک و بت پرستی کا گڑھ بن گئی اور اﷲ کے بندے اپنے معبود حقیقی کو چھوڑ کر اپنے ہاتھوں سے تراشیدہ اصنام کی پوجا پاٹ میں مصروف ہوگئے۔

بیت اﷲ جسے سیدنا ابراہیم خلیل اﷲ اور ان کے فرزند سیدنا اسمعیل ذبیح اﷲ علیہم السلام نے خالص اﷲ کی عبادت کے لیے تعمیر کیا تھا وہ 360 معبودان باطلہ کی آماج گاہ بن چکا تھا۔ غرض یہ کہ ہر طرف کفر و شرک کی آندھیاں چل رہی تھیں۔ کہیں ستاروں کی پوجا ہورہی تھی تو کہیں آتش پرستی سے قلوب و اذہان بھسم کیے جارہے تھے۔ گویا انسانیت تباہی کے دہانے پر کھڑی تھی کہ اﷲ کی رحمت کو جوش آیا اور مکہ مکرمہ کی اسی سرزمین سے کہ جہاں اﷲ کا گھر اس کے خلیلؑ نے تعمیر کیا تھا اور دعا کی تھی، مفہوم: ’’اے ہمارے رب! ان میں انھی میں سے ایک رسول بھیج جو ان کے سامنے تیری آیتیں پڑھے انہیں کتاب و حکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے۔

بے شک! تو غلبے والا اور حکمت والا ہے۔‘‘ اور اسی طرح سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے بھی بشارت دی اور جب مریم کے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ اے میری قوم بنی اسرائیل میں تم سب کی طرف اﷲ کا رسول ہوں، اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی بھی تصدیق کرنے والا ہوں اور اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی خوش خبری سنانے والا ہوں‘ جن کا نام احمد ہے‘ پر جب وہ ان کے پاس کھلی دلیلیں لائے تو یہ کہنے لگے کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔ دیگر انبیاء کرامؑ نے بھی بشارتیں دی تھیں کہ ایک رسول رحمتؐ آنے والے ہیں تو وہ ابر رحمت قریش کے سردار عبدالمطلب کے گھر عبداﷲ کی بیوہ آمنہ کے بطن سے ہویدا ہوا اور اس کی (نبی مکرم ﷺ) پیدائش پر رب کائنات نے یہ معجزہ دکھایا کہ نور کی تجلیات و عرفان سے شام کے محلات روشن ہوگئے۔

 بیت اﷲ میں رکھے گئے بت سرنگوں ہوگئے، آتش کدہ ایران جو صدیوں سے روشن چلا آ رہا تھا بجھ گیا اور پوری کائنات ارضی کو یہ پیغام ربانی دیا گیا کہ اب وہ ہستیؐ کائنات میں تشریف لاچکی جو ہر قسم کی شرک و ضلالت کو اپنے پائے استحقار تلے روندنے والی ہے۔ عبدالمطلب کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ تھا۔

وہ اپنے حسین و جمیل پوتے کو گود میں لیے بیت اﷲ میں آئے اور ولادت کا اعلان عام کیا۔ لوگوں نے جب پوچھا کہ بچے کا نام کیا رکھا ہے تو عبدالمطلب نے برجستہ کہا: محمدؐ۔ سب لوگ حیران ہوگئے کہ یہ نام عرب میں مانوس نہیں تھا۔ عبدالمطلب نے کہا کہ اس نام کے معنی بہت زیادہ تعریف کیے گئے ہیں۔ یہ نام اﷲ ہی نے رکھوایا کہ تاقیامت جب تک اﷲ کا نام بلند ہوگا۔ اس کے محبوبؐ کا نام بھی بلند ہوتا رہے گا۔ اﷲ رب العالین نے ارشاد فرمایا: ہم نے آپؐ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ جہاں تک میں رب العالمین ہوں وہاں تک میرا پیارا رحمۃ للعالمینؐ ہے۔

نبی مکرم ﷺ کی پیدائش کی بشارت عالم ارواح میں تمام انبیاء سے عہد لینے کی صورت میں بھی واضح کردی گئی ہے۔ قرآن مجید میں مالک کائنات ارشاد فرماتا ہے، مفہوم: اﷲ تعالیٰ نے (عالم ارواح میں) نبیوں سے عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب و حکمت دوں پھر تمہارے پاس وہ رسول آئے جو تمہارے پاس کی چیز کو سچ بتائیں (یعنی تمہاری کتابوں کی تصدیق کرے) تو تمہیں ان پر ایمان لانا اور ان کی نصرت کرنا ضروری ہے۔ کیا تم اس کے اقراری ہو اور اس پر میرا ذمہ لے رہے ہو؟ سب نے کہا: ہاں ہمیں اقرار ہے۔ فرمایا: تو اب تم گواہ رہو اور خود میں تمہارے ساتھ گواہ ہوں پس اس کے بعد جو بھی پلٹ جائیں وہ یقیناً پورے نافرمان ہیں۔ (آل عمران)

سیدنا آدمؑ سے لے کر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام تک تمام نبیوں سے روز اول ہی اﷲ تعالیٰ نے یہ قول و قرار اور وعدہ لے لیا تھا کہ اگر میں اپنے محبوب محمد رسول اﷲ ﷺ کو تمہارے زمانے میں بھیجوں تو تم پر فرض ہوگا کہ تم ان پر ایمان لاؤ اور ان کی مدد کرو اگر تم اس کا اقرار کرتے ہو تو تمہیں نبی اور رسول بنا کر بھیجیں گے اور کتاب و حکمت بھی عطا کریں گے‘ تو تمام انبیاء و رسل نے اس کا اقرار کیا اور جب وہ انبیاء دنیا میں مبعوث ہوئے تو انہوں نے اپنی امت کو یہ نصیحت فرمائی کہ اگر تم محمد ﷺ کا زمانہ پاؤ تو ان پر ایمان لانا اور ان کی نصرت کرنا۔ گویا تمام انبیاء نے رسالت محمدی ﷺ کا اقرار کیا اور ان کا امتی ہونے کی خواہش ظاہر کی۔

نبی کریم ﷺ ابراہیمؑ کی دعا اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہیں۔ یہی نہیں بل کہ آپؐ کے اندر اﷲ تعالیٰ نے تمام اوصاف حمیدہ اتمام و اکمال کے ساتھ پیدا فرما دیے تھے‘ آپؐ محمد ہیں‘ محمود ہیں‘ احمد ہیں‘ بشیر و نذیر‘ حبیب و حلیم‘ رشید و عادل‘ خازن و قاسم‘ سید الخلق‘ امام الانبیاء‘ سید المرسلین‘ رحمۃللعالمینؐ بھی ہیں۔ آپؐ صادق و مصدوق اور امین بھی ہیں۔

طیب و طاہر‘ حامی و حاشر و عاقب ‘ مدثر و مزمل بھی ہیں۔ آپؐ کی عظمت و رفعت پوری کائنات میں افضل و اعلیٰ ہے۔ جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا: ’’اور ہم نے تیرا ذکر بلند کر دیا۔‘‘ چوں کہ آپ خاتم النبینؐ بن کر آئے لہٰذا آپؐ کی ذات بابرکات میں جمیع اوصاف و کمال مجتمع کر دیے گئے تھے۔ تمام انبیاء و رسلؑ میں جو اوصاف و کمالات موجود تھے وہ سب آپ ﷺ کی ذات والا صفات میں اکمل و اجمل پیدا کردیے گئے تھے۔

امام کائناتؐ کی پاکیزہ زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو کسی بدترین دشمن کو بھی آپؐ کی سیرت مبارکہ میں زندگی کے کسی بھی موڑ پر کہیں بھی انگشت نمائی کی جرات نہیں ہو سکتی۔ آپؐ صدق و صفا کے پیکر‘ علم و تواضع کے خوگر‘ نرم گفتار‘ ملن سار‘ خلیق‘ باحیا اور مصائب و آلام پر صبر کا کوہ گراں ثابت ہوئے۔ کفار مکہ نے ہر طرح سے آپؐ کو آپ کے مشن سے باز رکھنے کے جتن کر لیے مگر آپؐ کے پائے استقامت میں ذرّہ بھر بھی جنبش نہیں آئی بل کہ آپؐ نے اپنے چچا ابوطالب سے فرمایا کہ اگر یہ میرے ایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے ہاتھ پر چاند رکھ دیں تب بھی میں اپنی دعوت سے باز آنے والا نہیں۔ یہی وجہ تھی کہ آپؐ اور آپ کے ساتھیوں کو ڈھائی سال تک شعب ابی طالب میں سماجی مقاطعے کے نتیجے میں محصور رہنا پڑا اور اس دوران ہر طرح کی مصیبتیں جھیلیں مگر اف نہ کی۔

یہاں تک کہ آپؐ کو مدینہ منورہ ہجرت کا حکم ہُوا اور اﷲ کا کلمہ بلند ہوکر رہا اور رحمت کائنات ؐ نے انسانی تاریخ کی سب سے مثالی ریاست قائم کرکے دکھا دی جو رہتی دنیا تک کے لیے منارۂ نور ہے۔ غلاموں، یتیموں، بیواؤں اور مسکینوں، مہمانوں حتیٰ کہ جان کے دشمنوں کے ساتھ بھی صلۂ رحمی، عفو و درگزر اور رواداری جیسے اوصاف حمیدہ کے ذریعے برتاؤ کسی عام آدمی کے بس کی بات نہیں بل کہ ایسا حسن سلوک وہی کر سکتا ہے جس میں اﷲ نے صبر و استقامت اور رحمت و شفقت کوٹ کوٹ کر بھردی ہو۔ رحمۃ للعالمین ﷺ نے جہاں کائنات میں توحید ربانی کا علم بند کیا اور بیت اﷲ کو معبودان باطلہ سے پاک کر کے قیامت تک کے لیے خالص اﷲ کی عبادت کے لیے خاص کردیا۔ وہیں اپنی سیرت مبارکہ کے ایسے مقدس و پاکیزہ گہر ہائے نقوش چھوڑے جو پوری انسانیت کے لیے منبعٔ رشد و ہدایت اور دنیاوی و اخروی فوز و فلاح کے ضامن ہیں۔

ماہ ربیع الاول کی ان ساعتوں میں ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ اپنی پوری زندگی کو خالص قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالیں گے اور اپنے اخلاق و کردار‘ عقائد و اعمال کی درستی کا اہتمام کرتے ہوئے اسلام کے آفاقی نظریۂ حیات پر عمل پیرا رہ کر دنیا و آخرت کی کام یابیوں اور کام رانیوں سے ہم کنار ہونے کی بھرپور سعی و جہد کریں گے۔ اﷲ تعالیٰ ہم سب کو صحیح معنوں میں قرآن و سنت پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: تمام انبیاء علیہ السلام اﷲ تعالی بیت اﷲ کے لیے اور اس کا نام اور ان

پڑھیں:

ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا

ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟

سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔

یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔

تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔

مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔

تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔

تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید

ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق