Express News:
2026-07-24@06:32:54 GMT

33نئے صوبے بنائے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا، میاں عامر

اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT

لاہور:

ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز آف پاکستان (APSUP) کے زیر اہتمام 2030 کا پاکستان چیلنجز، امکانات اور نئی راہیں کے عنوان سے یونیورسٹی آف لاہور میں خصوصی لیکچر منعقد کیا گیا جس میں چیئرمین پنجاب گروپ میاں عامر محمود نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

تقریب میں چیئرمین ایپ سپ چوہدری عبدالرحمن، چیئر مین بورڈ آف گورنرز دی یونیورسٹی آف لاہور اویس رؤف، ایگزیکٹو ڈائریکٹر پنجاب گروپ سہیل افضل،ریکٹر یونیورسٹی آ ف لاہور پروفیسر ڈاکٹر محمد اشرف ، ڈین آفس آف سٹوڈنٹس افیئرز عمارہ اویس سمیت فیکلٹی ممبران اور طلبہ کی بڑی تعداد نے بھرپور شرکت کی۔

مہمان خصوصی میاں عامر محمود نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں 33نئے صوبے بننے چاہئیں، اسکے بغیر پاکستان ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا۔عوامی مسائل کا حل صرف اور صرف مضبوط اور با اختیار مقامی حکومتوں اور چھوٹے صوبوں کی تشکیل میں ہے۔

پاکستان میں گورننس ماڈل اب فرسودہ ہو چکا ہے۔ پنجاب کی آبادی 1951 میں دو کروڑ تھی جو آج 17 کروڑ تک پہنچ چکی ہے مگر گورننس کے ڈھانچہ کو اپڈیٹ نہیں کیا جا سکا۔ دنیا میں آبادی کے بڑھنے کے ساتھ گورننس کے ماڈلز بھی تبدیل ہوئے مگر پاکستان میں ایسا نہیں ہوا۔

اگر ہر ڈویژن کو صوبہ بنا دیا جائے تو ملک میں 33 صوبے بن سکتے ہیں جس سے اخراجات بھی کم ہوں گے اور عدالتی نظام بھی موثر ہوگا۔اس وقت جو عدالتی نظام چل رہا ہے اس میں بہتری کی بہت گنجائش ہے، ایک جج کے پاس ایک دن میں سینکٹروں کیسز لگے ہوتے ہیں جنکو ایک دن میں سننا کسی بھی جج کے لئے ممکن نہیں ہوتا۔

عدالتوں میں لاکھوں کی تعداد میں کیسز التوا کا شکار ہیں، اگر پاکستان میں نئے صوبے بنائے جائیں تو یہ کیسز بھی جلدی نپٹائے جا سکیں گے۔میاں عامر محمود نے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں لوکل گورنمنٹ کو کبھی سنجیدہ نہیں لیا گیا حالانکہ شہریوں کے مسائل کے حل کا واحد پلیٹ فارم مقامی حکومت ہے، بدقسمتی سے وفاقی اور صوبائی حکومتیں اختیارات اپنے پاس رکھتی ہیں۔

تعلیم میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے، اسوقت پاکستان میں پچیس ملین بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور صرف 38 فیصد عوام کو صاف پانی دستیاب ہے۔اگر تعلیم اور ہنر پر توجہ نہ دی گئی تو یہ بچے آئندہ دہائیوں میں معیشت پر بوجھ ثابت ہوں گے۔ 

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لیڈرشپ کے مواقع محدود ہیں، بڑے صوبوں کی وجہ سے سیاسی قیادت چند خاندانوں اور اشرافیہ تک محدود ہو گئی ہے، چھوٹے صوبوں سے مڈل کلاس کے نوجوانوں کو سیاست اور قیادت میں آگے آنے کا موقع ملے گا۔میاں عامر محمود نے کہا کہ میں نے لاہور میں بطور میئر کام کیا ہے، لوکل گورنمنٹ ہمارے ملک کا سب سے کمزور ادارہ ہے، حکومت کو زیادہ تر جو بھی کام ہوتا ہے وہ لوکل گورنمنٹ سے منسلک ہوتا ہے بدقسمتی سے ہم نے اس ملک میں بلدیات کو کبھی بھی مضبوط نہیں ہونے دیا۔

ملکوں میں سات بڑے پوائنٹس کی وجہ سے حکومت بنائی جاتی ہے، ان سب میں پبلک ویلفیئر سب سے زیادہ اہم ہے، لوکل گورنمنٹ کے کام صوبائی حکومتیں کر رہی ہیں، صوبائی حکومتوں کے حالات ہم سب کے سامنے ہیں۔سٹینڈرڈ ڈویلپمنٹ کے معاملے پر دنیا کے ایک سو ساٹھ ممالک میں ہم ایک سو چالیس پر کھڑے ہیں جبکہ لا اینڈ آرڈر کے معاملے پر دنیا میں ایک سو بیالیس ممالک میں سے ایک سو انتیس پوزیشن پر ہیں۔

بچوں کی سٹنٹڈ گروتھ میں ہم   ایک سو ستائیس میں سے ایک سو نویں نمبر پر ہیں ۔کچھ لوگوں کے مفادات کی وجہ سے مزید صوبے نہیں بن پا رہے۔ ملتان،بہاولپور،ہزارہ، پوٹھوہار،مہاجر بھی اپنا صوبہ چاہتے ہیں جو بننے چاہئے۔

چیئرمین بورڈ آف گورنرز دی یونیورسٹی آف لاہور اویس رؤف نے کہا کہ پاکستان میں ہائر ایجوکیشن میں نجی شعبہ فیصلہ کن کردار ادا کر رہا ہے۔ اس سال سرکاری یونیورسٹی سے زیادہ سٹوڈنٹس نے پرائیویٹ یونیورسٹیز میں داخلے لئے ہیں جو پرائیویٹ نظام تعلیم پر اعتماد کا مظہر ہے۔

آج ملک کے پچاس فیصد طلبہ نجی جامعات میں تعلیم حاصل کررہے ہیں تقریب میں سوال و جواب کا سیشن بھی رکھا گیا جس میں طلبہ نے چیئرمین پنجاب گروپ  میاں عامر سے مختلف موضوعات پر سوالات کئے۔تقریب کے اختتام پر چیئرمین یونیورسٹی آف لاہور اویس رؤف اور چیئر مین ایپ سپ چوہدری عبد الرحمان نے مہمان خصوصی میاں عامر محمود کو شیلڈ پیش کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: یونیورسٹی آف لاہور میاں عامر محمود نے کہا کہ پاکستان میں لوکل گورنمنٹ ایک سو

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے