100 سالہ شہری، ڈیجیٹل گرفتاری اور ایک کروڑ سے زائد روپے کا فراڈ
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر لکھنؤ میں 100 سالہ ریٹائرڈ مرچنٹ نیوی افسر کو سائبرنوسربازوں نے ’ڈیجیٹل گرفتاری‘ میں رکھ کر ایک کروڑ 29 لاکھ روپے سے محروم کردیا۔
پولیس کے مطابق گزشتہ ہفتے ہردیو سنگھ نامی بزرگ کو ایک نامعلوم نمبر سے فون آیا، کال کرنے والوں نے خود کو سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن کا افسر ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ منی لانڈرنگ کیس میں ملوث ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’ ڈیجیٹل گرفتاری‘، دوا خریدنے کے چکر میں خاتون 77 لاکھ سے کیسے محروم ہوئی؟
ملزمان نے انہیں ’ڈیجیٹل حراست‘ میں لے لیا اور مسلسل فون پر مصروف رکھتے ہوئے تنہائی اختیار کرنے پر مجبور کیا تاکہ وہ کسی کو اطلاع نہ دے سکیں۔
بعدازاں جب ہردیو سنگھ کا بیٹا گھر پہنچا تو والد نے اسے سارا واقعہ بتایا، بیٹے نے بھی ملزمان سے بات کی تو انہوں نے اسے بھی ڈرا دھمکا کر مختلف بینک اکاؤنٹس میں رقم بھیجنے پر مجبور کیا اور یقین دلایا کہ رقم بعد میں تصدیق کے بعد واپس کردی جائے گی۔
مزید پڑھیں: واٹس ایپ ہیکنگ سے وائس کلوننگ تک، آن لائن فراڈ کے نت نئے طریقے
خوف کے باعث بیٹے نے مجموعی طور پر ایک کروڑ 29 لاکھ روپے منتقل کر دیے، تاہم جب رقم واپس نہ ملی تو متاثرہ خاندان نے قومی سائبر ہیلپ لائن 1930 پر شکایت درج کرائی۔
پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کردی ہے اور متاثرین کی جانب سے فراہم کردہ موبائل نمبر کی بنیاد پر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اتر پردیش بھارتی ریاست ڈیجیٹل ڈیجیٹل حراست سائبر ہیلپ لائن لکھنؤ نوسرباز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اتر پردیش بھارتی ریاست ڈیجیٹل ڈیجیٹل حراست سائبر ہیلپ لائن لکھنؤ
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ