سہ فریقی ٹی 20 سیریز: افغانستان کے خلاف پاکستان کا پہلے بیٹنگ کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
شارجہ کے تاریخی میدان میں سہ فریقی ٹی 20 سیریز کا آغاز جمعے سے ہوگیا ہے جہاں افتتاحی میچ میں پاکستان نے افغانستان کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سیریز میں پاکستان، افغانستان اور متحدہ عرب امارات کی ٹیمیں مدمقابل ہیں۔ سیریز کا پہلا میچ دیکھنے کے لیے شائقین کی بڑی تعداد اسٹیڈیم میں موجود ہے جہاں افغانستان کے حامیوں کی تعداد پاکستانی شائقین سے زیادہ دیکھی گئی ہے۔ حیران کن طور پر کچھ بھارتی شائقین بھی افغان ٹیم کی حمایت میں اسٹیڈیم پہنچے ہیں۔
انتظامیہ نے شائقین کی سہولت اور سیکیورٹی کے پیش نظر پاکستانی اور افغان فینز کے لیے الگ الگ اسٹینڈز، پویلینز اور داخلی راستے مختص کیے ہیں۔ یہاں تک کہ ٹکٹوں کے رنگ بھی مختلف رکھے گئے ہیں۔ پاکستانی شائقین کے لیے ہرا اور افغان شائقین کے لیے نیلا رنگ مخصوص کیا گیا ہے۔
قومی ٹیم کی قیادت آغا سلمان کے سپرد
پاکستانی ٹیم کی قیادت آغا سلمان کر رہے ہیں جب کہ دیگر کھلاڑیوں میں صاحبزادہ فرحان، صائم ایوب، فخر زمان، حسن نواز، محمد نواز، محمد حارث، فہیم اشرف، شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف اور صفیان مقیم شامل ہیں۔
یہ سیریز نہ صرف نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک اہم موقع ہے بلکہ ٹیم کمبینیشن کو آزمانے اور اگلے بڑے ٹورنامنٹس کی تیاری کے لیے بھی ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔