شنگھائی تعاون تنظیم کا پلیٹ فارم: پاکستان کا مثبت کردار، بھارت کا منفی پروپیگنڈا بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 31st, August 2025 GMT
شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو رکن ممالک کے درمیان اجتماعی سلامتی، معاشی ترقی اور علاقائی تعاون کو فروغ دینے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ مگر حالیہ اجلاس میں بھارت نے اس کے اصل مقصد سے ہٹ کر ایک بار پھر پاکستان مخالف پروپیگنڈا کرنے کی کوشش کی، جسے نہ صرف رکن ممالک نے مسترد کیا بلکہ پاکستان کے مؤقف کو بھی سراہا۔
بھارتی میڈیا کا گمراہ کن بیانیہ
بھارتی میڈیا نے ایک بار پھر دہشت گردی کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہوئے گمراہ کن دعوے کیے، حالانکہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی اور اس کی روک تھام پہلے سے ہی SCO کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بھارت کی جانب سے اصل علاقائی مسائل — جیسے غربت، انتہا پسندی اور اقتصادی تعاون — سے توجہ ہٹانے کی ایک دانستہ چال ہے۔
پاکستان کا تعمیری اور ہم آہنگ مؤقف
پاکستانی وفد نے اجلاس میں واضح کیا کہ خطے کو درپیش بڑے چیلنجز میں معاشی بدحالی، نوجوانوں میں انتہا پسندی، اور ترقی کی کمی شامل ہیں۔ پاکستان کا زور الزام تراشی کے بجائے عملی تعاون پر رہا، جو SCO کے بنیادی مقاصد کے عین مطابق ہے۔
رکن ممالک کی حمایت
چین سمیت دیگر رکن ممالک نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی اور کہا کہ تنظیم کو کسی بھی ملک کے یک طرفہ بیانیے یا پروپیگنڈے کا پلیٹ فارم نہیں بننے دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ SCO کا مقصد امن، روابط اور شراکت داری کو فروغ دینا ہے، نہ کہ علاقائی کشیدگی یا الزام تراشی۔
بھارت کی عالمی سطح پر تنہائی
مبصرین کا ماننا ہے کہ بھارت کی حالیہ پالیسیوں نے اسے نہ صرف علاقائی تعاون سے دور کر دیا ہے بلکہ عالمی سفارتی سطح پر بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چین میں ہونے والے اس اجلاس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی پالیسیوں پر بھی سوالات اٹھے، جنہیں ناکام اور تقسیم پیدا کرنے والی قرار دیا گیا۔
Post Views: 8.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: رکن ممالک
پڑھیں:
پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم
اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے جو دہشت گردوں کو وسائل مہیا کررہا ہے۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارت کا کردار واضح ہے جو دہشت گردوں کو وسائل فراہم کررہا ہے، افغان عبوری حکومت دہشت گردی کو روکنے میں بالکل ناکام ہے، افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکے،ہم نے افغانستان کو سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ دہشت گرد گروہوں کو کنٹرول کرے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ میں صرف عوام قربانیاں نہیں دے رہے بلکہ اس میں ہماری لا اینڈ انفورسمنٹ ایجنسیز شامل ہیں، اس میں ہماری افواج پاکستان کے کڑیل جوان اور افسران شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ میں اب تک ہمارے 90 ہزار پاکستانی شہید ہوچکے ہیں اس جنگ کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے جو انہیں وسائل بھی مہیا کررہا ہے اور اس میں دیگر فیکٹرز بھی ملوث ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بلوچستان پاکستان کا جغرافیائی اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ ہے، بہادر بلوچوں اور پختونوں نے پاکستان کے قیام میں بڑا کردار ادا کیا، ترقی کے دوڑ میں جب تک چاروں صوبے مساویانہ طور پر شریک نہیں ہوں گے پاکستان ترقی نہیں کرسکے گا اور میں یہ بات دل کی اتھاہ گہرائیوں سے قبول کرتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ بلوچستان کی ترقی میں وفاقی حکومت کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔
کوہاٹ میں ایکسائز اہلکاروں پر حملے کی مذمت
دریں اثنا وزیرِاعظم نے کوہاٹ میں ایکسائز اہلکاروں پر دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ وزیرِ اعظم نے واقعے میں سب انسپکٹر سجاد الاسلام اور کسٹم کانسٹیبل جواد کی شہادت پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا، شہدا کے اہل خانہ کے لیے صبر اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
وزیرِ اعظم نے متعلقہ اہلکاروں کو ذمہ داران کا تعین کرکے انہیں قرار واقعہ سزا دلوانے کی ہدایت کی اور کہا کہ دہشت گردوں کے عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے، شرپسند عناصر کو کسی صورت ملک کا امن تباہ کرنے نہیں دیں گے۔