Express News:
2026-07-24@12:28:15 GMT

سلمان اور حارث بھی اپنے ہیں

اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT

کراچی:

انٹرویو لینے والے نے سوال کیا ’’ کیا آپ کو لگتا ہے بابر اعظم کو اپنے ٹی20 بیٹنگ اسٹائل میں تبدیلی لانی چاہیے‘‘

محمد حارث کا جواب تھا ’’یس‘‘

اگلا سوال سامنے آیا ’’ تیز یا سلو‘‘

’’ تیز‘‘ حارث نے یہ جواب دیا

میں نے یہ کلپ دیکھی اس میں ’’ریپڈ فائر‘‘ قسم کے سوال کے مختصر جواب دیے گئے، بظاہر کوئی ایسی غیرمعمولی بات نہیں تھی لیکن اس پر بابر اعظم کے جانثاروں اور سوشل میڈیا آرمی نے طوفان برپا کر دیا، انھوں نے محمد حارث کی ایسی ٹرولنگ کی کہ وہ بیچارہ اب فرسٹریشن کا شکار ہو چکا، ’’خود کو دیکھو  کیسی بیٹنگ کرتے ہو، تم نے بابر کے بارے میں کیسے یہ کہہ دیا، تم کو سینئر کا احترام کرنا نہیں آتا‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ 

پہلی بات یہ کہ ہم ایک آزاد ملک میں رہتے ہیں جہاں آپ کو شائستہ انداز میں اظہار رائے کا حق حاصل ہے، یہ انٹرویو کوئی چند دن پہلے نہیں لیا گیا لیکن کلپ اب وائرل ہوئی، ہنسی مذاق کے انداز میں بات چیت میں اگر کوئی بات کہہ دی تو اسے ویسے ہی لیتے طوفان برپا کرنے کی کیا ضرورت تھی، اس طرح تو سوشل میڈیا پر مجھے یا آپ کو بھی کسی کرکٹر پر تنقید نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ہم نے کون سے 100 ٹیسٹ کھیلے ہیں۔ 

ہمارے یہاں مسئلہ یہی ہے کہ ہم نے سیاست میں بھی بعض لوگوں کو اس مقام پر بٹھایا ہوا ہے جہاں ان کیخلاف کوئی بات نہیں سن سکتے  اور اگر کسی نے ایسی کوئی غلطی کر دی تو سوشل میڈیا پر اس کی خیر نہیں،بابر تو خیر کرکٹر ہیں لیکن ان  سے بھی بعض لوگوں کی عقیدت ویسی ہی ہوتی جا رہی ہے جہاں چاہنے والے ان کے خلاف ایک لفظ بھی برداشت نہیں کرتے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ موجودہ دور کے سب سے بڑے اسٹار ہیں،ان کے بارے میں بات کریں تو ویوز زیادہ ملتے ہیں، اب تو ٹویٹر (ایکس) بھی مونیٹائز ہے، اگر آپ کا کوئی دوست بیرون ملک رہتا ہے تو اس کا اکاؤنٹ نمبر دیں اور پیسے کمائیں لیکن اس کیلیے ویوز درکار ہیں، لہذا بابر کی تعریف کریں، ویڈیو لگائیں اور ڈالر کمائیں، یو ٹوبرز بھی یہی کرتے ہیں۔ 

بھارت میں پاکستانی اکاؤنٹس بند ہو چکے لہذا اب صرف بابر ہی  کی بات کر کے پیسے کمائے جا سکتے ہیں، یہ آج کی بات نہیں چند برس قبل جب وسیم اکرم نے بھی بابر کے بیٹنگ اسٹائل پر بات کی تو ان کی بھی بڑی ٹرولنگ ہوئی تھی، حالانکہ وہ تو بابر سے بہت بڑے کرکٹر رہے اور  عالمی سطح پر کئی ریکارڈز کے مالک ہیں۔

آپ نے محمد حارث کو دیکھا ہوگا کیسے وہ یو اے ای کیخلاف آؤٹ ہونے پر بیٹ کو توڑ کر غصہ نکال رہے تھے،اس وقت چار اوورز باقی تھے حارث کون سی سنچری بنا لیتے لیکن یہ فرسٹریشن تھی جس نے ایسا کروایا، آج کے دور میں سوشل میڈیا کا کھلاڑیوں پر خاصا اثر پڑتا ہے۔ 

یہ درست ہے حارث کی فارم اچھی نہیں لیکن وہ کس نمبر پر کھیل رہے ہیں اسے بھی فراموش نہ کریں، اگر آپ کو کوئی کھلاڑی پسند نہیں تو ٹیم سے نکال دیں لیکن کسی کی ذہنی صحت خراب کرنے کا کسی کو حق نہیں۔سلمان علی آغا کے ساتھ بھی شائقین کا رویہ اچھا نہیں ہے، کیا وہ خود کپتان بنے ؟ کیا انھوں نے بابر اعظم کو کپتانی سے ہٹایا یا ٹیم سے نکالا؟ نہیں ناں ،انھیں بورڈ نے یہ ذمہ داری سونپی لہذا اب ہمیں سپورٹ کرنا چاہیے، وہ کوئی بھارت کا کرکٹر نہیں وہ بھی پاکستانی ہے۔ 

کبھی اسٹرائیک ریٹ تو کبھی اوسط کا بابر کے ساتھ موازنہ کیا جاتا ہے، ایک بات سب کو سمجھ لینی چاہیے کہ  بابر اعظم  جیسے کھلاڑی برسوں میں سامنے آتے ہیں، ان کا موازنہ کسی سے بنتا ہی نہیں، البتہ خراب فارم  کا کوئی بھی شکار ہو سکتا ہے،بابر آج باہرہیں تو ضروری نہیں ہمیشہ ایسا ہو، وہ دوبارہ واپس آ کر ماضی کی طرح رنز کے ڈھیر لگا سکتے ہیں  لیکن فی الحال جو پلیئرز کھیل رہے ہیں انھیں بھی دشمن نہ سمجھیں۔

یہ بابرستان نہیں پاکستان کی ٹیم ہے بھائی، جب ہم زمبابوے، آئرلینڈ، افغانستان اور امریکا سے ہارے تب بابر بھی تو ٹیم میں تھے، پہلے بھی تو ہار رہے تھے ، اب زمانہ بدل گیا ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں تیز کھیلنے والوں کی ضرورت ہے، نوجوانوں کو موقع دیں گے تب ہی تو وہ پرفارم کریں گے۔ 

حسن  نواز کو دیکھیں انھیں  مواقع ملے  تو اب کتنا اچھا کھیل رہے ہیں، ایسے ہی مزید نوجوان بھی سامنے آئیں گے، صاحبزادہ فرحان اور صائم ایوب کو دیکھیں، انھوں نے بھی تو خود کو منوایا، سلمان علی آغا بھی  بہتر پرفارم کر رہے ہیں۔

میں نے کئی کھلاڑیوں اور آفیشلز سے بات کی سب کا یہ کہنا ہے کہ موجوودہ ٹیم بہت متحد ہے اور کھلاڑی ایک دوسرے کو مکمل سپورٹ کر رہے ہیں، ہمیں بھی ایسا کرنا چاہیے،  یقین مانیے چند ماہ میں یہی پلیئرز متواتر فتوحات حاصل کرنے لگیں گے، ایک کھلاڑی سے محبت کا مطلب دوسرے سے نفرت کرنا نہیں ہے، سب ہمارے اپنے ہیں،  کل کوئی اسٹار تھا، آج کوئی اور بنے گا۔

 ان کو وقت تو دیں، جب یہ بھی 100،200 میچز کھیل لیں تو ضرور کارکردگی کا موازنہ کیجئے گا، ابھی تو یہ منصفانہ بات نہیں ہے، یہ کرکٹرز بھی آپ کی طرح موجودہ نسل سے تعلق رکھتے ہیں، فارغ وقت میں موبائل فون ہی دیکھتے رہتے ہیں، ان کو جب سوشل میڈیا پر اپنے موازنے اور کلپس نظر آتی ہیں تو خود صلاحیتوں پر اعتماد کھو بیٹھتے ہیں۔ 

آج کے دور میں ہم کسی سے یہ توقع نہیں کر سکتے کہ وہ خود کو فون سے دور رکھے گا، اگر کوئی سوشل میڈیا استعمال نہیں کر رہا تو اہل خانہ یا دوست ہی ایسی کلپس بھیج دیتے ہیں کہ دیکھو تمہارے بارے میں کیا بات ہو رہی ہے،کیا اس سے ان کا اعتماد بڑھے گا یا کم ہوگا؟ اپنے ہی کھلاڑیوں کی ٹرولنگ سے کوئی فائدہ نہیں ہونا ، اگر کارکردگی اچھی نہیں تو ضرور تنقید کریں مگر الفاظ کا چناؤ سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے،  ہاں اگر کوئی یہ ضمانت دے کہ فلاں کھلاڑی کو واپس لے آؤ وہ ٹیم کو نمبر ون بنا دے گا تو ضرور ایسا کریں لیکن اس سے قبل سابقہ اعدادوشمار ضرور دیکھ لیجئے گا۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا بات نہیں رہے ہیں تو ضرور نہیں کر ہیں تو بھی تو

پڑھیں:

عاطف اسلم کا نیا البم ’صبح آئے نہ‘ کب ریلیز ہو گا؟ گلوکار نے بڑی اپڈیٹ دے دی

پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ گلوکار عاطف اسلم نے اپنے نئے میوزک البم ’صبح آئے نہ‘ کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

گلوکار عاطف اسلم کے مطابق آٹھ گانوں پر مشتمل اس البم میں ’صبح آئے نہ‘، ’سفر میں ہوں‘، ’عشق‘، ’لیٹس ہیو سو فن‘، ’سن سجنا‘، ’ہوں عشق میں‘، ’چار یار‘ اور ’سچے وعدے‘ شامل ہیں اور اس البم کو 31 جولائی کو دنیا بھر کے مختلف میوزک اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر ریلیز کیا جائے گا۔

اپنے نئے البم کے حوالے سے عاطف اسلم کا کہنا تھا کہ ’صبح آئے نہ‘ ان کے ذاتی سفر کی عکاسی کرتا ہے، جس میں انہوں نے اندرونی کشمکش سے نکل کر اپنی اصل شخصیت کو دریافت کیا۔

انہوں نے کہا، ’’یہ البم میری اس جدوجہد کی نمائندگی کرتا ہے جس میں میں نے اندرونی انتشار سے نکل کر اپنے حقیقی وجود کو پایا۔ میں بے حد پرجوش ہوں کہ آخرکار اسے اپنے مداحوں کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔‘‘

        View this post on Instagram                               View this post on Instagram                      

 

عاطف اسلم کے گانوں کو 8 ارب بار سنا جا چکا ہے:
دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط اپنے شاندار موسیقی کے سفر کے دوران عاطف اسلم جنوبی ایشیا کے مقبول ترین گلوکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔

تازہ اسپاٹیفائی اعداد و شمار کے مطابق، ان کے گانوں کو اب تک تقریباً 8 ارب بار سنا جا چکا ہے، جبکہ ہر ماہ 3 کروڑ سے زائد افراد 184 ممالک میں ان کی موسیقی سنتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران عاطف اسلم کی 96 فیصد اسٹریمنگز پاکستان سے باہر ہوئیں، جو مشرقِ وسطیٰ، شمالی امریکا، یورپ اور ایشیا پیسیفک سمیت مختلف خطوں میں ان کی مقبولیت کا ثبوت ہے۔

رپورٹ کے مطابق، عاطف اسلم کی موسیقی نوجوان نسل میں بھی بے حد مقبول ہے، جہاں جنریشن زیڈ ان کے 85 فیصد سامعین پر مشتمل ہے۔ گزشتہ ایک سال میں 4 کروڑ 10 لاکھ سے زائد نئے اور پرانے سامعین نے ان کے گانے سنے، جبکہ ان کے گانوں کو دنیا بھر میں 3 کروڑ 75 لاکھ سے زائد ذاتی پلے لسٹس میں شامل کیا گیا۔

 

متعلقہ مضامین

  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • پی ڈی ایم اے کا دورہ : انتظامیہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے، خواجہ سلمان رفیق
  • 20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
  • عاطف اسلم کا نیا البم ’صبح آئے نہ‘ کب ریلیز ہو گا؟ گلوکار نے بڑی اپڈیٹ دے دی
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت