بالی وڈ اداکار سیف علی خان نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ انہیں اپنی پہلی فلم بےخودی (1992) سے اس لیے نکال دیا گیا تھا کیونکہ ہدایتکار راہول رویل نے ان سے کہا کہ یا تو اپنی گرل فرینڈ کو چھوڑ دیں یا پھر فلم چھوڑیں۔

سیف علی خان، جو اس وقت انگلینڈ کے بورڈنگ اسکول سے فارغ ہو کر بالی ووڈ میں قدم رکھ رہے تھے، نے بتایا کہ وہ فطری طور پر ایک اداکار نہیں تھے۔ انہوں نے انڈسٹری میں داخل ہوتے وقت کوئی باضابطہ تربیت حاصل نہیں کی تھی۔ وہ اسکول کے بعد سیدھا فلمی دنیا میں آئے۔ انہیں کئی بار مسترد کردیا گیا جس نے انہیں اپنی اداکاری پر محنت کرنے پر مجبور کیا۔

یہ بھی پڑھیے سیف علی خان 15 ہزار کروڑ کی جائیداد سے محروم ہو جائیں گے؟

انہوں نے بتایا کہ ان کا جدوجہد کا سفر دوسروں سے مختلف تھا:
’میری جدوجہد یہ تھی کہ مجھے اپنی پہلی فلم ہی سے نکال دیا گیا کیونکہ ڈائریکٹر نے کہا گرل فرینڈ کو  چھوڑ دو یا پھر فلم۔‘

سیف علی خان نے بتایا کہ فلم کی شوٹنگ کے دوران ان پر یہ الزامات بھی لگائے گئے کہ وہ شراب پی کر سیٹ پر آتے ہیں اور شوٹنگ کے دوران سوتے رہتے ہیں۔

ایک اور انٹرویو میں انہوں نے کہا:
’ان الزامات کے بعد کوئی میرے ساتھ کام نہیں کرنا چاہتا تھا۔ مجھے کافی دکھ ہوا۔ جب کہ ڈائریکٹر کو محسوس ہوا کہ مجھے فلموں میں دلچسپی ہی نہیں ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے کیا کرینہ کپور اور سیف علی خان میں بات طلاق تک پہنچ گئی؟

آخرکار ہدایتکار راہول رویل نے سیف کو فلم ’بےخودی‘ سے نکال کر کمل سدنا کو کاجول کے مدمقابل کاسٹ کیا۔

بعدازاں سیف علی خان نے سخت محنت سے اپنا کیریئر بنایا۔ وہ آج بالی ووڈ کے کامیاب اداکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بالی ووڈ سیف علی خان فلم بے خودی کاجول.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بالی ووڈ سیف علی خان فلم بے خودی کاجول سیف علی خان

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف