Daily Mumtaz:
2026-07-24@10:11:15 GMT

2025 شنگھائی تعاون تنظیم سربراہ اجلاس کے تناظر میں سیمینار

اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT

2025 شنگھائی تعاون تنظیم سربراہ اجلاس کے تناظر میں سیمینار

 

اسلام آباد :چائنا میڈیا گروپ اور ایشین انسٹیٹیوٹ آف ایکو سولائزیشن، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے اشتراک سے اسلام آباد میں ایک اہم سیمینار منعقد ہوا جس کا عنوان تھا:
’’ 2025 شنگھائی تعاون تنظیم سربراہ اجلاس: معاشی اور ترقیاتی مواقعــ‘‘
مقررین نے صدر شی جن پھنگ کے گلوبل گورننس انیشٹو کے وژن کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک منصفانہ اور متوازن عالمی نظام کی تشکیل کی جانب ایک اہم قدم ہے جو تمام ممالک کو بااختیار بناتا ہے اور حقیقی کثیرالجہتی تعاون کو فروغ دیتا ہے۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی، وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے ایس سی او کے فریم ورک میں علاقائی تعاون کی اہمیت پر سیر حاصل گفتگو کی ۔ انہوں نے چینی صدر شی جن پھنگ کے گلوبل گورننس انیشیٹو کو دیگر اہم اقدامات کی طرح پائیدار ترقی اور عالمی استحکام کی کلید قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس سی او ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک ایسا موقع ہے جہاں وہ باہمی تعاون، روابط اور مشترکہ اقتصادی منصوبوں کے ذریعے ترقی کی نئی راہیں کھول سکتے ہیں۔
اس موقع پر پاکستان میں چینی سفارت خانے کے ڈپٹی چیف آف مشن، شی یوان چھیانگ نے باہمی فائدے پر مبنی تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چین بین الاقوامی تعلقات میں انصاف، برابری اور بین الاقوامی قوانین و مہذب اصولوں کی پاسداری کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او کا وژن رکن ممالک کو باہمی احترام، مساوات اور پرامن ترقی کے رشتے میں جوڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین سبز ٹیکنالوجی، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھتے ہوئے خطے کے تمام ممالک کے ساتھ دیرپا اور نتیجہ خیز شراکت داری کے لیے پُرعزم ہے۔
وزیراعظم پاکستان کی معاونِ خصوصی برائے ماحولیاتی تبدیلی خورشید عالم نے اپنے خطاب میں ماحولیاتی تبدیلی، سبز ترقی اور پاک-چین تعلقات کے فروغ پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او جیسے علاقائی پلیٹ فارم موسمیاتی انصاف اور پائیدار ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے نہایت موزوں ہیں۔
اس موقع پر ممتاز تجزیہ کار اور اے آئی ای آر ڈی کے سی ای او شکیل احمد رامے نے چین کے صدر شی جن پھنگ کے 2025 شنگھائی تعاون تنظیم سربراہ اجلاس میں خطاب کو بصیرت افروز اور عالمی قیادت کا عکاس قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر شی کا گلوبل گورننس انیشیٹو ایک ایسا وژن ہے جو دنیا کو مشاورت، شراکت داری اور مساوی مفادات پر مبنی حکمرانی کی طرف لے جانے کی سنجیدہ اور پائیدار کوشش ہے۔
سیمینار میں شرکاء کی جانب سے صدر شی جن پھنگ کے 2025 شنگھائی تعاون تنظیم سربراہ اجلاس میں پیش کردہ کلیدی اقدامات کو بھی خصوصی طور پر سراہا گیا، ماہرین نے ان اقدامات کو علاقائی ترقی، فلاح اور تعاون کی جانب ایک عملی قدم قرار دیا۔
یہ سیمینار اس حقیقت کا مظہر تھا کہ ایس سی او اب محض ایک علاقائی تنظیم نہیں بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم بن چکا ہے جو امن، ترقی اور باہمی انحصار پر مبنی مستقبل کی راہ ہموار کر رہا ہے۔صدر شی جن پھنگ کا گلوبل گورننس انیشیٹو دراصل اسی وژن کی توسیع ہے، جو دنیا کو انصاف، مساوات، شراکت داری اور پائیدار ترقی پر مبنی ایک نئے عالمی نظام کی طرف لے جا رہا ہے۔یہ انیشیٹو نہ صرف رکن ممالک کو مضبوط باہمی تعاون اور اعتماد کے رشتے میں جوڑتا ہے بلکہ عالمی برادری کے لیے ایک ایسا عملی خاکہ بھی پیش کرتا ہے جو مشترکہ خوشحالی، موسمیاتی انصاف اور کثیرالطرفہ تعاون کو یقینی بناتا ہے۔

Post Views: 3.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے

امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • پاکستان 2027 میں ایس سی او سربراہانِ مملکت اجلاس کی میزبانی کرے گا، رکن ممالک کو دعوت
  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا