2025 شنگھائی تعاون تنظیم سربراہ اجلاس کے تناظر میں سیمینار
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
اسلام آباد :چائنا میڈیا گروپ اور ایشین انسٹیٹیوٹ آف ایکو سولائزیشن، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے اشتراک سے اسلام آباد میں ایک اہم سیمینار منعقد ہوا جس کا عنوان تھا:
’’ 2025 شنگھائی تعاون تنظیم سربراہ اجلاس: معاشی اور ترقیاتی مواقعــ‘‘
مقررین نے صدر شی جن پھنگ کے گلوبل گورننس انیشٹو کے وژن کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک منصفانہ اور متوازن عالمی نظام کی تشکیل کی جانب ایک اہم قدم ہے جو تمام ممالک کو بااختیار بناتا ہے اور حقیقی کثیرالجہتی تعاون کو فروغ دیتا ہے۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی، وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے ایس سی او کے فریم ورک میں علاقائی تعاون کی اہمیت پر سیر حاصل گفتگو کی ۔ انہوں نے چینی صدر شی جن پھنگ کے گلوبل گورننس انیشیٹو کو دیگر اہم اقدامات کی طرح پائیدار ترقی اور عالمی استحکام کی کلید قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس سی او ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک ایسا موقع ہے جہاں وہ باہمی تعاون، روابط اور مشترکہ اقتصادی منصوبوں کے ذریعے ترقی کی نئی راہیں کھول سکتے ہیں۔
اس موقع پر پاکستان میں چینی سفارت خانے کے ڈپٹی چیف آف مشن، شی یوان چھیانگ نے باہمی فائدے پر مبنی تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چین بین الاقوامی تعلقات میں انصاف، برابری اور بین الاقوامی قوانین و مہذب اصولوں کی پاسداری کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او کا وژن رکن ممالک کو باہمی احترام، مساوات اور پرامن ترقی کے رشتے میں جوڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین سبز ٹیکنالوجی، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھتے ہوئے خطے کے تمام ممالک کے ساتھ دیرپا اور نتیجہ خیز شراکت داری کے لیے پُرعزم ہے۔
وزیراعظم پاکستان کی معاونِ خصوصی برائے ماحولیاتی تبدیلی خورشید عالم نے اپنے خطاب میں ماحولیاتی تبدیلی، سبز ترقی اور پاک-چین تعلقات کے فروغ پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او جیسے علاقائی پلیٹ فارم موسمیاتی انصاف اور پائیدار ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے نہایت موزوں ہیں۔
اس موقع پر ممتاز تجزیہ کار اور اے آئی ای آر ڈی کے سی ای او شکیل احمد رامے نے چین کے صدر شی جن پھنگ کے 2025 شنگھائی تعاون تنظیم سربراہ اجلاس میں خطاب کو بصیرت افروز اور عالمی قیادت کا عکاس قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر شی کا گلوبل گورننس انیشیٹو ایک ایسا وژن ہے جو دنیا کو مشاورت، شراکت داری اور مساوی مفادات پر مبنی حکمرانی کی طرف لے جانے کی سنجیدہ اور پائیدار کوشش ہے۔
سیمینار میں شرکاء کی جانب سے صدر شی جن پھنگ کے 2025 شنگھائی تعاون تنظیم سربراہ اجلاس میں پیش کردہ کلیدی اقدامات کو بھی خصوصی طور پر سراہا گیا، ماہرین نے ان اقدامات کو علاقائی ترقی، فلاح اور تعاون کی جانب ایک عملی قدم قرار دیا۔
یہ سیمینار اس حقیقت کا مظہر تھا کہ ایس سی او اب محض ایک علاقائی تنظیم نہیں بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم بن چکا ہے جو امن، ترقی اور باہمی انحصار پر مبنی مستقبل کی راہ ہموار کر رہا ہے۔صدر شی جن پھنگ کا گلوبل گورننس انیشیٹو دراصل اسی وژن کی توسیع ہے، جو دنیا کو انصاف، مساوات، شراکت داری اور پائیدار ترقی پر مبنی ایک نئے عالمی نظام کی طرف لے جا رہا ہے۔یہ انیشیٹو نہ صرف رکن ممالک کو مضبوط باہمی تعاون اور اعتماد کے رشتے میں جوڑتا ہے بلکہ عالمی برادری کے لیے ایک ایسا عملی خاکہ بھی پیش کرتا ہے جو مشترکہ خوشحالی، موسمیاتی انصاف اور کثیرالطرفہ تعاون کو یقینی بناتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
روم: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔