وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان پیدا ہونے والے مسائل کو عمران خان نے خود حل کرنا ہے، اس حوالے سے کوئی اختیار ان کے پاس نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست واپس

میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کی رہائی کے راستے میں دو بڑی رکاوٹیں موجود ہیں، پہلی رکاوٹ یہ ہے کہ ملک میں آئین و قانون کی عمل داری نہیں ہے۔

It’s between IK and the establishment: Ali Amin Gandapur pic.

twitter.com/J4PopGeLFw

— Murtaza Ali Shah (@MurtazaViews) September 2, 2025

’اگر قانون فعال ہو جائے تو خان صاحب فوری رہا ہو سکتے ہیں۔ دوسری رکاوٹ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ جاری مسئلہ ہے، جو خان صاحب نے خود حل کرنا ہے، اس معاملے میں ان کے پاس کوئی اختیار نہیں۔‘

مزید پڑھیں:پاکستان میں حقیقی آزادی سمیت کئی جنگیں لڑنی باقی ہیں، وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور

وزیرِاعلیٰ علی امین گنڈا پورکا مزید کہنا تھا کہ عمران خان قوم کی جنگ لڑ رہے ہیں اور موجودہ حالات سب کے سامنے ہیں۔ ’ہم اپنے نظریے کے ساتھ کھڑے ہیں اور جب تک اپنا مقصد حاصل نہیں کر لیتے، جدوجہد جاری رہے گی۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسٹیبلشمنٹ خیبر پختونخوا رہائی علی امین گنڈاپور عمران خان وزیر اعلی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسٹیبلشمنٹ خیبر پختونخوا رہائی علی امین گنڈاپور وزیر اعلی علی امین گنڈا

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن