افغانستان زلزلہ: جاں بحق افراد کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز، ہزاروں گھر تباہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
افغانستان میں 6 شدت کے خطرناک زلزلے کے نتیجے میں اموات کی تعداد 1124 تک جا پہنچی ہے جبکہ 3251 افراد زخمی ہوئے ہیں اور 8 ہزار سے زائد مکانات ملبے کا ڈھیر بن گئے۔
افغان ہلال احمر کے مطابق زلزلے سے سب سے زیادہ نقصان صوبہ کنڑ میں ہوا ہے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز صوبہ ننگرہار کے شہر جلال آباد کے قریب تھا اور اس کی گہرائی 8 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق زلزلہ رات 11 بجکر 47 منٹ پر آیا، اور تقریباً 20 منٹ بعد اسی علاقے میں 4.
یہ حالیہ برسوں میں افغانستان میں آنے والا سب سے تباہ کن زلزلہ قرار دیا جارہا ہے، جس نے ہزاروں خاندانوں کو بے گھر کردیا ہے اور بڑے پیمانے پر امداد کی فوری ضرورت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نہایت قریب انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں خوبصورت ہمالیائی پہاڑی سلسلے کے درمیان واقع ون دجی گاؤں کی 19 سالہ کلثومہ کے لیے جدید زمانہ صرف ایک محاورہ ہی ہے، کیونکہ ان کی زندگی قدیم انسانوں جیسی ہی ہے۔ون دجی گاؤں کی پانچ نسلوں نے آج تک بجلی کی روشنی نہیں دیکھی ہے اور نئی نسل بھی باورچی خانے میں چولہے کی آگ اور روشنی کے لیے مشعل کے دھویں میں پروان چڑھ رہی ہے۔اس گاؤں کو صدیوں سے بجلی کا انتظار ہے کیونکہ اسے ابھی تک بجلی کے گرڈ کے ساتھ نہیں جوڑا گیا ہے۔
ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں
ون دجی کی طرف جانے والے صرف راستے ہی دشوار نہیں ہیں، یہاں کی زندگی بھی مشکلات کے بیچ گھِری ہوئی ہے۔ دن بھر مشقت کے بعد جب شام ہوتی ہے، تو یہاں کے لوگ ایک نئی جدوجہد شروع کرتے ہیں۔کلثومہ کہتی ہیں کہ ’یہاں خواتین زیادہ پریشان ہیں، کیونکہ دن میں چولہے کا دھواں ہوتا ہے اور رات میں پڑھائی کے وقت مشعل کا دھواں انھیں بیمار کر دیتا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ گاؤں سے باہر جاتے ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ انسانی تہذیب کا حصہ نہیں ہیں۔جب ہم کپواڑہ مارکیٹ میں جاتے ہیں تو لوگوں کو سمارٹ فون پر مصروف پا کر ہمیں کمتری کا احساس ہوتا ہے، کسی رشتہ دار کے یہاں جاتے ہیں تو وہاں ہیٹر، بوائلر، گیزر وغیرہ دیکھ کر ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے لیے وقت اُدھر ہی رُک گیا جب انسان آگ سے ہی کھانا پکاتا تھا اور آگ سے ہی رات میں روشنی کرتا تھا۔
’ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں۔‘