بینائی سے محروم مگر حوصلے سے نہیں، سبی کے اللہ بخش سولنگی کی کہانی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
ہاتھوں میں ویٹ مشین اور چھڑی تھامے 30 سالہ اللہ بخش سولنگی اندھی آنکھوں کے باوجود زندگی کی روشنی کو اپنے عزم اور محنت سے جگمگا رہا ہے۔ وقت نے اس کی بینائی تو چھین لی لیکن دانائی اور عزتِ نفس سے بھرپور یہ نوجوان کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا بلکہ اپنی محنت سے روزی کماتا ہے۔
مشکل حالات کے باوجود اللہ بخش نے تعلیم کا سفر بھی ترک نہیں کیا۔ 2013 میں ایک دوست کی رہنمائی سے تعلیم کی طرف واپس لوٹے اور ایف اے کا امتحان پاس کر کے یہ ثابت کیا کہ بینائی سے محرومی علم کی روشنی حاصل کرنے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔
قوت بینائی سے محروم لیکن حوصلے پہاڑسے بلند،کوئٹہ کے نابینا اللہ بخش کی حیران کن کہانی pic.
— WE News (@WENewsPk) September 3, 2025
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اللہ بخش نے بتایا کہ وہ دن میں 6 سے 7 سو روپے کما لیتا ہے جن میں سے تقریباً 4 سو روپے کھانے اور رہائش پر خرچ ہو جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہاں لوگ اکثر مجھے تنگ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں نابینا نہیں ہوں، لیکن میں چاہتا ہوں کہ لوگ حقیقت کو دیکھیں۔ میری آنکھوں نے روشنی کھو دی ہے مگر میرے ارادے اب بھی روشن ہیں۔
اللہ بخش نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس کی تعلیم اور معذوری کو مدِنظر رکھتے ہوئے معذور کوٹے میں اسے نوکری دی جائے تاکہ وہ دربدر سڑکوں پر گھومنے کے بجائے ایک باعزت روزگار کما سکے۔
اللہ بخش سولنگی کی کہانی اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ اصل روشنی آنکھوں میں نہیں بلکہ ارادے اور دل میں ہوتی ہے۔ وہ نہ صرف حوصلے اور خودداری کی مثال ہیں بلکہ معذور افراد کے لیے ایک روشن رہنمائی بھی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اللہ بخش
پڑھیں:
طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
افغان طالبان رجیم کی مرکزی قیادت اور بدخشاں کے مقامی کمانڈروں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔
طالبان رجیم کے خلاف بغاوت کے اشارے ملنے پر ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے نیا حکم جاری کردیا گیا ہے۔ بدخشاں کے معدنی وسائل پر لڑائی اور عوامی بغاوت کے بعد امیر ہبت اللہ نے حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک سخت حکم نامہ جاری کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشاں کے ناراض طالبان کمانڈروں اور حکام کے اثاثوں کی تفتیش کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد مقرر کردیاگیا ہے۔ طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ کا حکم نہ ماننے والے مقامی کمانڈروں کو فوراً گرفتار کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بدخشاں میں جاری عوامی احتجاج اور بڑھتی ہوئی اندرونی بغاوت کو دبانے کے لیے خصوصی فوجی دستہ بھی تعینات کر دیاگیا ہے۔ قندھار گروپ نے بدخشاں گروپ کے ناراض طالبان رہنماؤں پر دباو ڈالنے کے لیے گرفتاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ اس دوران مقامی طالبان کمانڈر موسیٰ کاکے اور سابق مائنز ڈائریکٹر اسلام الدین کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیا۔
عالمی ماہرین کے مطابق بدخشاں میں جاری لڑائی افغان طالبان کے اندر گہرے ہوتے ہوئے نسلی اور سیاسی اختلافات کا واضح ثبوت ہے۔ طالبان رجیم کیخلاف ملک کے اندر اور باہر شروع ہونے والی نئی تحریکیں،ان کے مکمل کنٹرول اور عوامی حمایت کے جھوٹے دعووں کی پول کھول رہی ہیں۔