محبت کی انتہا: محبوبہ سے ناراضی پر نوجوان نے پورے گاؤں کی بجلی کاٹ دی، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
محبت کی کہانیوں میں اکثر ڈرامہ ضرور ہوتا ہے لیکن ایک نوجوان نے غصے میں ایسا قدم اٹھایا کہ انٹرنیٹ پر لوگوں کو ہنسی بھی آئی اور حیرت بھی ہوئی۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں انڈیا میں ایک شخص کو بجلی کے کھمبے پر چڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جس کے ہاتھ میں ایک بڑی کٹر موجود ہے۔ چند لمحوں بعد وہ تاریں کاٹتا ہے اور مبینہ طور پر اپنی محبوبہ کے گاؤں کو اندھیرے میں ڈبو دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: محبوبہ کے گھر والوں سے بچنے کی کوشش میں نوجوان بھارتی سرحد عبور کرگیا
رپورٹس کے مطابق نوجوان اس بات پر برہم تھا کہ اس کی محبوبہ کا فون مسلسل مصروف رہتا تھا۔ مسئلہ بات چیت سے حل کرنے کے بجائے اُس نے غصے میں بجلی کی تاریں ہی کاٹ ڈالیں۔
ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد جلد ہی مختلف پلیٹ فارمز پر تیزی سے وائرل ہوگئی اور صارفین نے اس پر مختلف قسم کے تبصرے کیے۔ کسی نے اسے اس شخص کی بیوقوفی کہا تو کسی نے محبت کی انتہا۔
View this post on Instagram
A post shared by TV1 INDIA खबरों का नया अड्डा* (@tv1indialive)
انسٹاگرام پر ایک صارف نے طنزیہ کہا: ‘بھائی! یہ ٹیلی فون لائن نہیں ہے اور نہ ہی وہ لینڈ لائن استعمال کر رہی ہے۔ اسی لیے تعلیم ضروری ہے۔’
ایک اور صارف نے تبصرہ کیا: ‘صرف اس لڑکی کی وجہ سے پورا گاؤں اندھیرے میں ہے۔’
تیسرے صارف نے مذاق میں کہا: ‘میں تو انتظار کر رہا تھا کہ وہ غلط تار کاٹ کر خود ہی جھٹکا کھا لے گا۔’
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انٹرنیٹ عشق محبت محبوبہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انٹرنیٹ
پڑھیں:
بلوچستان: رواں ماہ بارشوں سے 8 افراد جاں بحق، 41 گھروں کو نقصان
---فائل فوٹوصوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی بلوچستان نے بارشوں کے دوران ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی۔
رپورٹ کے مطابق یکم جون سے اب تک بارشوں، آسمانی بجلی گرنے اور دیگر حادثات کے نتیجے میں 8 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 4 بچے بھی شامل ہیں جبکہ 13 بچوں اور 2 خواتین سمیت 16 افراد زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق ضلع کوہلو میں آسمانی بجلی اور دیوار گرنے سے 1 خاتون سمیت 2 افراد جان سے گئے۔
خضدار میں آسمانی بجلی گرنے اور چھت گرنے کے واقعات میں 1 بچے سمیت 2 افراد جاں بحق ہوئے۔
ژوب میں آسمانی بجلی اور چھتیں گرنے سے 3 بچوں سمیت 4 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔
بلوچستان بھر میں بارشوں اور سیلابی ریلوں سے 41 گھروں کو نقصان پہنچا۔
خضدار، ژوب، ہرنائی اور بارکھان میں 17 گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ 24 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔