اسلام آباد ہائیکورٹ نے معمولی اکثریت سے نئے رولز منظور کرلیے
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
اسلام آباد ہائی کورٹ کے فل کورٹ اجلاس نے بدھ کو سینئر ججز کی سخت مخالفت کے باوجود ’ہائی کورٹ اسٹیبلشمنٹ (اپائنٹمنٹ اینڈ کنڈیشنز آف سروس) رولز، 2025‘ منظور کر لیے۔
نجی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق یہ رولز معمولی اکثریت سے منظور ہوئے جبکہ 2 ججز کی جانب سے اجلاس کے ایجنڈے میں تبدیلی کی تجویز مسترد کر دی گئی۔
ایجنڈے کے مطابق فل کورٹ کو 3 کلیدی امور پر غور کے لیے طلب کیا گیا تھا جن میں تعدد ازدواج سے متعلق قانون میں ترمیم، ہائی کورٹ بلڈنگ میں ڈھانچہ جاتی نقائص اور سروس رولز کی منظوری شامل تھی۔
اجلاس میں تمام 11 ججز شریک ہوئے جن میں چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر، جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس ارباب محمد طاہر، جسٹس سردار اعجاز اسحٰق خان، جسٹس خادم حسین سومرو، جسٹس ثمن رفعت امتیاز، جسٹس محمد اعظم خان، جسٹس محمد آصف اور جسٹس راجا انعام امین منہاس شامل تھے۔
تعدد ازواج اور بلڈنگ کے نقائص
ذرائع نے بتایا کہ فل کورٹ نے متفقہ طور پر تعدد ازواج سے متعلق قانون میں ترمیم کی منظوری دی، جس کے تحت اب ایسے مقدمات ایگزیکٹو مجسٹریٹس کے بجائے فیملی کورٹس میں سنے جائیں گے۔
اس کے علاوہ فیصلہ کیا گیا کہ ہائی کورٹ بلڈنگ سے متعلق معاملہ وفاقی حکومت کو بھیجا جائے تاکہ دیرینہ مسائل کی مکمل چھان بین ہو سکے، محکمہ پبلک ورکس کی جانب سے کی گئی انکوائری میں لفٹس کے کئی نقائص کی نشاندہی کی گئی تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ لفٹس میں وہ خصوصیات موجود ہی نہیں جن کا پروٹوٹائپ اور اسپیسفیکیشن میں وعدہ کیا گیا تھا، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ناقص تنصیب اور دیکھ بھال کا ذمہ دار کون ہے۔
لفٹس کے علاوہ آئی ایچ سی بلڈنگ میں کئی اور مسائل بھی موجود ہیں، جن میں ناقص کولنگ سسٹم اور وکلا و سائلین کے لیے ناکافی پارکنگ کی سہولت شامل ہے۔
ججز نے رائے دی کہ معاملے کو براہِ راست قومی احتساب بیورو (نیب) یا وفاقی تحقیقاتی ایجنسی(ایف آئی اے) کو بھیجنے کے بجائے وفاقی حکومت کو کہا جائے کہ وہ جامع تحقیقات کر کے اصلاحی اقدامات کرے۔
چیف جسٹس کے اختیارات
ان دو ایجنڈا آئٹمز کے برعکس، مجوزہ آئی ایچ سی رولز 2025 نے ججز کو تقسیم کر دیا، چیف جسٹس نے ان رولز کی بھرپور حمایت کی جبکہ سینئر ججز جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے ان کی مخالفت کی اور ترامیم کا مطالبہ کیا۔
اجلاس سے ایک روز قبل جسٹس بابر ستار اور جسٹس سردار اعجاز اسحٰق خان نے اپنے ساتھی ججز کو خط لکھا تھا، جس میں انہوں نے خدشات ظاہر کیے کہ انتظامی اختیارات کو اختلاف کرنے والے ججز کو نظر انداز کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
دونوں ججز نے نئے سرکلر پر شدید اعتراض کیا جس کے تحت ججز کو غیر ملکی سفر کے لیے چیف جسٹس سے این او سی لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مقدمات کی تقسیم اس انداز سے کی جا رہی ہے کہ وہ ججز فائدے میں ہوں جو چیف جسٹس کے ساتھ اسلام آباد ہائی کورٹ منتقل ہوئے جبکہ ان کے تبادلے کی مخالفت کرنے والے مستقل ججز کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
خط میں یہ اعتراض بھی کیا گیا کہ چیف جسٹس نے ’ماسٹر آف دی روسٹر‘ کے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے زیرِ سماعت مقدمات دوسرے بینچز کو منتقل کر دیے۔
جسٹس سردار اعجاز اسحٰق خان نے نئے ’پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز (پی پی آر)‘ پر بھی اعتراض کیا اور ساتھی ججز کو یاد دلایا کہ پی پی آر پہلے ہی بغیر منظوری اور فل کورٹ میں باقاعدہ بحث کے گزٹ میں شائع ہو چکے ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ 600 سے زائد صفحات پر مشتمل یہ ضخیم دستاویز اجلاس سے صرف ڈیڑھ دن پہلے فراہم کی گئی، جس سے مشاورت ایک رسمی کارروائی بن گئی اور بامعنی رائے دینے کا موقع نہیں ملا۔
جسٹس سردار اعجاز اسحٰق خان نے مطالبہ کیا کہ 5 اضافی نکات بشمول یہ اعتراضات ایجنڈے میں شامل کیے جائیں تاکہ فل کورٹ اجلاس میں ان پر باقاعدہ بحث ہو سکے، اور انہوں نے یہ عندیہ دیا کہ وہ اس تنازع کو نظرانداز نہیں ہونے دیں گے۔
ووٹنگ اور اعتراضات
ذرائع کے مطابق چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ایجنڈے میں کسی تبدیلی کو مسترد کرتے ہوئے ووٹنگ کرائی، 6 ججز بشمول چیف جسٹس نے رولز کی حمایت کی جبکہ 5 نے مخالفت کی اور طے کیا کہ وہ اپنے اختلافات تحریری طور پر ریکارڈ کرائیں گے۔
کارروائی کے دوران مخالف ججز نے سوال اٹھایا کہ کیا رولز کے حق میں ووٹ دینے والے ججز نے واقعی نئی دستاویز پڑھی ہے؟ ذرائع کے مطابق جواب نفی میں آیا۔
کچھ ججز نے اس ضخیم دستاویز کے باعث اجلاس مؤخر کرنے کی درخواست بھی کی، مگر ان کی تجویز مسترد کر دی گئی، بالآخر ’ہائی کورٹ اسٹیبلشمنٹ (اپائنٹمنٹ اینڈ کنڈیشنز آف سروس) رولز، 2025‘ نہایت معمولی اکثریت سے منظور ہو گئے، جس سے فل کورٹ گہرے اختلافات کا شکار ہو گیا۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ہائی کورٹ کے مطابق چیف جسٹس کیا گیا فل کورٹ کے لیے گیا کہ ججز کو
پڑھیں:
حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
حج 2026 کی ادائیگی کے بعد پاکستانی حجاج کرام کی وطن واپسی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ سعودی ائیرلائن کی پرواز ایس وی 5724 کے ذریعے 370 حجاج کرام آج اسلام آباد پہنچ گئے۔
مزید پڑھیں: سعودی وزارت حج و عمرہ کی حجاج کرام کے لیے مثالی انتظامات کرنے پر پاکستانی حج مشن کو خراج تحسین
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے اسلام آباد ہوائی اڈے پر حجاج کرام کا استقبال کیا اور انہیں فریضۂ حج کی سعادت حاصل کرنے پر مبارکباد دی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امسال قریباً ایک لاکھ 80 ہزار پاکستانیوں نے حج کی سعادت حاصل کی، جن میں ایک لاکھ 20 ہزار عازمین سرکاری حج اسکیم کے تحت سعودی عرب گئے۔
پاکستانی حجاج کرام کی وطن واپسی کا سلسلہ شروع۔ سعودی ائیرلائن کے ذریعے 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے۔ وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے اسلام آباد ہوائی اڈے پر حجاج کا استقبال کیا اور انہیں فریضۂ حج کی سعادت حاصل کرنے پر مبارکباد دی۔@iamabidmalik @AmirSaeedAbbasi @KulAalam pic.twitter.com/zBqJGjKIEa
— Media Talk (@mediatalk922) June 1, 2026
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حجاج کرام نے حج 2026 کے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزارتِ مذہبی امور نے عازمین حج کو ہر ممکن سہولت فراہم کی۔
مزید پڑھیں:سعودی عرب، حجاج کرام میں قرآن پاک کے نسخوں کی تقسیم
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وفاقی وزیر مذہبی امور اور ان کی ٹیم کو حج کے بہترین انتظامات پر مبارکباد بھی پیش کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد آئیرپورٹ حجاج کرام طارق فضل چوہدری وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری