عمران خان کی ہدایت کے باوجود 26 ارکان نے قائمہ کمیٹیوں سے استعفیٰ نہیں دیا، فہرست سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کی واضح ہدایات کے باوجود سنی اتحاد کونسل سے تعلق رکھنے والے 26 اراکینِ قومی اسمبلی نے تاحال پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹیوں سے استعفیٰ نہیں دیا۔
یاد رہے کہ عمران خان نے گزشتہ منگل کو پارٹی سے وابستہ تمام اراکین قومی اسمبلی کو قائمہ کمیٹیوں کی رکنیت چھوڑنے کی ہدایت کی تھی۔ ان ہدایات کے تحت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین جنید اکبر سمیت پی ٹی آئی کے 51 ارکان نے اپنی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا تاہم پارلیمانی ذرائع کے مطابق 26 اراکین نے پارٹی قیادت کی ہدایت پر عمل نہیں کیا اور بدستور پارلیمانی کارروائیوں اور کمیٹی اجلاسوں کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ ارکان ابھی تک قائمہ کمیٹیوں کے باقاعدہ رکن ہیں اور ان کا کوئی تحریری استعفیٰ موصول نہیں ہوا۔
استعفیٰ نہ دینے والے ارکان کی فہرست میں سلیم رحمان، سہیل سلطان، محمد بشیر خان، محمد نواز خان، محمد عاطف، شیر علی ارباب، ذوالفقار علی، نسیم علی شاہ، شیر افضل خان،محمد مبین عارف،اسامہ احمد میلا،محمد مقداد علی خان، غلام محمد، علی افضل ساہی، محمد سعد اللہ، عمر فاروق، محمد ریاض خان فتیانہ،محمد محبوب سلطان،سردار محمد لطیف خان کھوسہ،عائشہ نذیر،میاں غوث محمد،محمد معظم علی خان،فیاض حسین، عنبر مجید، خواجہ شیراز محمودشامل ہیں۔
اندرونی اختلافات کی نشاندہی
سیاسی مبصرین اور پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اراکین کا فیصلہ پارٹی کے اندرونی اختلافات کو نمایاں کر رہا ہے۔ بظاہر یہ ارکان پارلیمانی سیاست میں مؤثر کردار ادا کرنے کے خواہش مند ہیں اور کمیٹیوں سے الگ ہو کر خود کو غیر مؤثر بنانے سے گریزاں ہیں۔ یہ صورت حال نہ صرف عمران خان کی سیاسی حکمت عملی کے لیے چیلنج ہے بلکہ سنی اتحاد کونسل اور پی ٹی آئی کے اتحاد میں موجود پالیسی اختلافات کو بھی نمایاں کر رہی ہے۔
سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت سے زیر بحث ہے کہ آیا پارٹی ڈسپلن کو نظرانداز کرنے والے ان اراکین کے خلاف کوئی کارروائی ہوگی یا قیادت انہیں آئندہ بھی برداشت کرتی رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔