وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین نے زراعت، الیکٹرک وہیکلز، شمسی توانائی، صحت، کیمیکل و پیٹرو کیمیکلز، آئرن و سٹیل سمیت مختلف شعبوں میں 4.2 ارب ڈالر مالیت کی 21 مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں، جو دونوں ممالک کی اقتصادی ترقی کے لیے ’لانگ مارچ‘ ثابت ہوں گے۔

بیجنگ میں پاکستان چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے چینی سرمایہ کاروں کو خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور یقین دلایا کہ پاکستان میں چینی صنعتوں کو منتقلی سے سستی لیبر اور دیگر سہولیات میسر ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں چینی بھائیوں کی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا اور سرمایہ کاروں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: چینی سرمایہ کاری کے لیے پاکستان میں تمام سہولیات دستیاب ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

شہباز شریف نے کہا کہ پاک چین تعلقات ہمالیہ سے بلند، سمندروں سے گہری اور فولاد و شہد سے مضبوط اور میٹھی ہیں، اور یہ دوستی دیانتداری، باہمی احترام اور تعاون پر مبنی ہے۔

انہوں نے سی پیک کے ذریعے پاکستان کی توانائی، زراعت، صنعت اور انفراسٹرکچر میں ترقی کو اجاگر کیا، اور بتایا کہ چین کی سرمایہ کاری سے توانائی بحران پر قابو پایا گیا، صنعتیں بحال ہوئیں، اور معیشت مستحکم ہوئی۔

وزیراعظم نے اعلان کیا کہ پاکستان سی پیک 2.

0 کے ذریعے بی ٹو بی سرمایہ کاری کے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے، جس میں زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، کان کنی اور دیگر شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف نے چینی صنعت کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دے دی

انہوں نے چینی سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ خصوصی اقتصادی زونز کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور مشترکہ وینچرز کے ذریعے پاکستان میں سرمایہ کاری کریں۔

شہباز شریف نے کہا کہ مفاہمت کی یادداشتوں پر عمل درآمد دونوں ممالک کے لیے اقتصادی ترقی کا لانگ مارچ ہوگا، جو پاکستان کو اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، لاکھوں منافع بخش روزگار کے مواقع اور مضبوط معیشت والا ملک بنائے گا۔

انہوں نے یقین دلایا کہ بی ٹو بی کانفرنس پاکستان کی ترقی میں سنگ میل ثابت ہوگی اور اقتصادی اہداف کے حصول کے لیے حکومت دن رات یکجا محنت کرے گی۔

پاکستان اور چین کے درمیان 21 مفاہمت کی یادداشتوں کی فہرست

01: زراعت: زرعی پیداوار، فارمنگ ٹیکنالوجی اور زرعی برآمدات میں تعاون

02: الیکٹرک وہیکلز: پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری اور ٹیکنالوجی منتقلی

03: شمسی توانائی: سولر پاور پلانٹس اور قابل تجدید توانائی منصوبے

مزید پڑھیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز کا دورہ بیجنگ، چینی کمپینیاں پاکستان میں کتنے ارب روپے کی سرمایہ کاری کریں گی؟

04: صحت: اسپتالوں اور میڈیکل سہولیات میں سرمایہ کاری

05: کیمیکل: کیمیکل صنعت میں سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی اشتراک

06: پیٹرو کیمیکلز: پیٹرولیم مصنوعات اور کیمیکل پروسیسنگ میں تعاون

07: آئرن اور سٹیل: اسٹیل پلانٹس، مینوفیکچرنگ اور خام مال کے شعبے

08: تانبے: کان کنی، پروسیسنگ اور برآمدات میں تعاون

09: ہائی ٹیک صنعتیں: آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری

مزید پڑھیں: چین پاکستان تجارتی کانفرنس، نئی شراکت داری اور سرمایہ کاری کا آغاز

10: بی ٹو بی جوائنٹ وینچرز: مشترکہ کاروباری منصوبے اور صنعتی شراکت داری

11: صنعتی ترقی: پاکستان میں مینوفیکچرنگ یونٹس اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی

12: انفراسٹرکچر: سڑکیں، پل، اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے منصوبے

13: انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی): ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی منتقلی

14: مصنوعی ذہانت: (AI) اے آئی کے شعبے میں تعاون اور اسکل ڈویلپمنٹ

15: کان کنی: معدنی وسائل کی دریافت اور صنعتی استعمال میں سرمایہ کاری

مزید پڑھیں: چین کا بڑا گروپ پاکستان میں 7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے ٹیکسٹائل پارکس قائم کرے گا، عطا تارڑ

16: توانائی کے منصوبے: پاور پلانٹس اور بجلی کی پیداوار میں سرمایہ کاری

17: ٹریڈ اور برآمدات: پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی روابط کو فروغ

18: خصوصی اقتصادی زونز: سرمایہ کاری کے لیے پرکشش اور جدید صنعتی زونز

19: ٹیکسٹائل اور چمڑا صنعت: پاکستان میں ٹیکسٹائل اور چمڑے کی صنعتوں کی منتقلی

20: نوجوانوں کی تربیت: ہنر مند افرادی قوت کی ترقی اور ٹیکنالوجی میں تربیت

مزید پڑھیں: مہنگائی اور سیاسی عدم استحکام: کیا چینی سرمایہ کاری سے پاکستانی معیشت بچ سکے گی؟ غیرملکی میڈیا رپورٹ

21: سرمایہ کاری کی سہولت کاری: چینی سرمایہ کاروں کے لیے قانون سازی، سیکیورٹی اور دیگر سہولیات

کانفرنس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزرا اور پاکستانی و چینی کمپنیوں کے نمایاں نمائندے بھی موجود تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ سرمایہ کاری کے نئے معاہدے پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کریں گے اور دونوں ممالک کو عالمی اقتصادی میدان میں اہم مقام دلوائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

21 معاہدے اربوں ڈالرز پاکستان چین سرمایہ کاری کانفرنس وزیراعظم محمد شہباز شریف

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 21 معاہدے اربوں ڈالرز پاکستان چین سرمایہ کاری کانفرنس وزیراعظم محمد شہباز شریف میں سرمایہ کاری پاکستان اور چین سرمایہ کاری کی سرمایہ کاری کے کی سرمایہ کاری شہباز شریف نے سرمایہ کاروں چینی سرمایہ پاکستان میں مزید پڑھیں کہ پاکستان نے کہا کہ اور دیگر انہوں نے بی ٹو بی کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار