1965 کے تاریخ ساز معرکے میں سرخرو ہونے والے غازیوں کے احساسات
اشاعت کی تاریخ: 5th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
یوم دفاع کے موقع پر 1965 کے تاریخ ساز معرکے میں سرخرو ہونے والے غازیوں نے اپنے احساسات کا اظہار کیا ہے۔
1965 کی جنگ میں غازی بننے والے صوبیدار ریٹائرڈ میجر علی شان اور نائب رسالدار ریٹائرڈ غیاث محمد کا کہنا تھا کہ جب پتہ چلا کہ بھارت نے اپنی فوج لاہور اور سیالکوٹ بارڈر پر بھیجی ہے تو ہم نے بھی رائے ونڈ کی جانب واپسی اختیار کی۔
انہوں نے بتایا کہ جب ہمیں پتا چلا کہ بارڈر پر دشمن گڑبڑ کر رہا ہے تو ہم نے بھی اپنی تیاری پکڑ لی۔ چھمب جوڑیاں کے مقام پر دشمن کا بھرپور مقابلہ کیا اور پاکستان کا جھنڈا لہرایا، اس وقت صرف پاکستان آرمی نہیں بلکہ بچہ بچہ جوش میں تھا۔
نائب صوبیدار ریٹائرڈ عبدالحفیظ جہلم کے مقام پر ہمیں حکم ملا کہ فوراً حفاظتی اقدامات کے لئے تیار ہو جاؤ، اس وقت ہر پاکستانی میں نہایت جوش اور جذبہ تھا جس کی وجہ سے ہم نے جنگ جیتی، پوری قوم اس وقت بھی اپنی فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔
سپاہی ریٹائرڈ عبدالوحید نے کہا کہ ہمارے جوانوں نے وہ کر دکھایا جس کی مثال نہیں ملتی، ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے، پاک فوج نے دشمن کے تمام ٹینک تباہ کر دیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔