پنجند کے مقام پر 12 لاکھ کیوسک تک ریلے سے بچاؤ کی تیاری مکمل
اشاعت کی تاریخ: 5th, September 2025 GMT
اسلام آباد:حکومت نے پنجند کے مقام پر 10 سے 12 لاکھ کیوسک ریلے سے بچاؤ کی تیاری مکمل کرلی جب کہ ریلے کی اصل مقدار 6 لاکھ کیوسک تک ہے۔
وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت حالیہ طوفانی بارشوں و سیلابی صورتحال اور جاری امدادی سرگرمیوں و بحالی کیلئے جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔
اجلاس کو متاثرہ علاقوں میں نقصانات اور ریسکیو و ریلیف کی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سیلابی ریلے کی موجودہ صورتحال پر آگاہ کیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ مون سون کا آخری اسپیل ختم ہونے کے بعد متاثرین کی بحالی کا کام شروع کیا جائے گا جبکہ موجودہ طور پر تمام تر وسائل و افرادی قوت ریسکیو، ریلیف و انخلاء میں مصروف عمل ہے۔
سیلابی ریلے کے حوالے سے بتایا گیا کہ دریائے راوی، ستلج اور چناب میں سیلابی ریلہ اس وقت وسطی اور جنوبی پنجاب میں پہنچ چکا ہے جو جلد پنجند سے گزرے گا، پنجند پر 10 سے 12 لاکھ کیوسک ریلے سے بچاؤ کی تیاری مکمل کی گئی جبکہ سیلابی ریلے کی اصل مقدار 6 لاکھ کیوسک کے لگ بھگ ہوگی جو توقع سے کم ہے، ملتان میں اس وقت انتظامیہ، پاک فوج اور ریسکیو ادارے سیلابی ریلے کو بغیر کسی بند کو توڑے گزارنے کی بھرپور کوشش میں مکمل تیاری سے مصروف عمل ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں بجلی کے متاثرہ نظام میں سے 80 فیصد کو بحال کیا جا چکا ہے جبکہ متاثرہ پُلوں و شاہراہوں کو روابط کی بحالی کیلئے مرمت کرکے ٹریفک کیلئے کھولا جاچکا ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ مجموعی طور پر پورے ملک میں 20 لاکھ سے زائد لوگوں کی بروقت نقل مکانی کروائی گئی جبکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے 4100 سے زائد پھنسے ہوئے افراد کو ریسکیو کیا گیا۔
وفاقی حکومت کی جانب سے متاثرین کیلئے 6300 ٹن سے زائد امدادی سامان پہنچایا گیا۔ مزید بتایا گیا کہ لوگوں کو طبی امداد کی فراہمی کیلئے 2400 سے زائد میڈیکل کیپس قائم کئے گئے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک بھر میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد اور مالی نقصانات کے حوالے سے وفاقی حکومت کی جانب سے مالی معاونت کی فراہمی ترجیحی بنیادوں پر نادرا کے ذریعے مکمل کی جا رہی ہے۔
اجلاس میں گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر سمیت چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز نے بھی اپنے اپنے صوبوں کے حوالے سے جائزہ پیش کیا۔
وزیرِ اعظم نے صوبائی حکومتوں کو وفاقی حکومت کی جانب سے ہر قسم کی معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں وفاقی وزرا احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، سردار اویس خان لغاری، چیئرمین این ڈی ایم اے، چیئرمین نادرا اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ بارشوں و سیلاب کے متاثرین کی بحالی ترجیح ہے، ملک کے جنوبی حصوں میں دریاؤں سے ملحقہ علاقوں کے حوالے سے تیاری یقینی بنائی جائے، وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کی ہر قسم کی معاونت کیلئے ہمہ وقت تیار ہے، لوگوں کے بروقت انخلاء اور امدادی سرگرمیوں کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی یقینی بنائی جائے۔
شہباز شریف نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی مکمل بحالی تک وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گی، ایسے متاثرین جو نادرا کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں، ان تک مالی معاونت پہنچانے کیلئے کمیٹی قائم کی جائے، وزارت موسمیاتی تبدیلی آئندہ برس کی مون سون کیلئے ابھی سے تیاری کرے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات بشمول موسلادھار بارشیں و سیلاب سے بچانے اور انکے نقصانات کو کم سے کم کرنے کیلئے دو ہفتے میں ایک جامع لائحہ عمل پیش کرے، این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم ایز، پاک فوج اور ریسکیو و ریلیف کے وفاقی و صوبائی اداروں کی لوگوں کے ریسکیو و ریلیف کیلئے کاروائیاں قابل تحسین ہیں۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وفاقی حکومت سیلابی ریلے کے حوالے سے لاکھ کیوسک متاثرین کی
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔