سرینگر کی درگاہ حضرت بل کے احاطے میں اشوکا کا نشان نصب، کشمیر میں شدید غم و غصہ، نشان توڑ ڈالا
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں قابض انتظامیہ نے سرینگر کی مشہور درگاہ حضرت بل کے احاطے میں موریہ خاندان کے آخری عظیم حکمران اشوکا کا نشان نصب کر دیا، جس پر شدید تنازع کھڑا ہو گیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر وقف بورڈ کی چیئرپرسن درخشاں اندرابی نے جھیل ڈل کے کنارے واقع اس درگاہ کی تزئین و آرائش کے منصوبے کا افتتاح کیا، جہاں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا موئے مقدس محفوظ ہے۔
اطلاعات کے مطابق درگاہ کے صحن میں نصب کیے گئے بورڈ کے اوپر اشوکا کا نشان بھی شامل کیا گیا تھا۔ گزشتہ روز نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے آنے والے کشمیری مسلمان یہ نشان دیکھ کر برہم ہو گئے اور اسے اکھاڑ کر توڑ دیا۔
موقع پر نمازیوں نے سخت غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نیشنل کانفرنس کے رہنما تنویر صادق نے ایکس پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ درگاہ میں اشوکا کا نشان لگانا توحید کے بنیادی اسلامی عقیدے سے متصادم ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام بلاجواز ہے اور مجسمہ سازی کے زمرے میں آتا ہے، جو اسلام کی بنیادی تعلیمات کے
خلاف ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: اشوکا کا نشان کے مطابق
پڑھیں:
حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سکیورٹی ٹیم سے وابستہ ایک خفیہ سروس اہلکار کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اہلکار پر الزام ہے کہ اس نے نائب صدر کے سفری انتظامات سے متعلق حساس معلومات میڈیا تک پہنچائیں۔
امریکی خفیہ سروس کے ترجمان انتھونی گگلیلمی نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ نائب صدر کے حفاظتی یونٹ کے ایک رکن کے خلاف انتظامی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ممکنہ طور پر فوجداری تحقیقات بھی کی جا سکتی ہیں۔
ترجمان کے مطابق اہلکار پر آپریشنل اور معلوماتی سکیورٹی سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ایسی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو کسی اعلیٰ سرکاری شخصیت کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتی ہو۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک امریکی نشریاتی ادارے نے رپورٹ شائع کی کہ نائب صدر جے ڈی وینس اپنی سکیورٹی ٹیم سے بعض ذاتی نوعیت کے سفری انتظامات کی درخواست کرتے رہے ہیں، جس پر بعض اہلکار ناراضی کا اظہار کر رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ان درخواستوں میں ایک واقعہ یہ بھی شامل تھا جس میں جے ڈی وینس مبینہ طور پر اپنے بیٹے کو گالف کی تربیت کے لیے ایک محفوظ گالف کورس تک فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے لے جانا چاہتے تھے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے ’میرین ٹو’ نامی ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کی تجویز زیر غور تھی۔ میرین ٹو وہ سرکاری ہیلی کاپٹر ہے جو امریکی نائب صدر کے سفر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
تاہم بعد ازاں خراب موسم اور گرج چمک کے باعث یہ پرواز منسوخ کر دی گئی اور منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔
تاحال جے ڈی وینس کے دفتر کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے تک خفیہ سروس نے مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف سرکاری وسائل کے استعمال بلکہ حساس سکیورٹی معلومات کے افشا سے متعلق بھی اہم سوالات اٹھا رہا ہے۔