پنجاب میں تباہی مچانے کے بعد بپھرا ریلا سندھ میں داخل ہوگیا ہے۔ ہیڈ پنجند پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

پنجند بیراج پر پانی میں 97 ہزار 706 کیوسک اضافہ ہوا ہے۔ آمد اور اخراج اس وقت 4 لاکھ 46 ہزار 820 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

محکمہ اطلاعات سندھ کے مطابق تریموں بیراج پر پانی کی آمد اور اخراج 5 لاکھ 8 ہزار 371 کیوسک ریکارڈ جبکہ گڈو بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 66 ہزار 151 کیوسک ہے۔

ادھر سکھر بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 29 ہزار 990 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ کوٹری بیراج پر 2 لاکھ 45 ہزار کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 26 ہزار 497 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

پراونشل رین اینڈ فلڈ ایمرجنسی مانیٹرنگ سیل نے دریاؤں اور بیراجوں میں پانی کی آمد و اخراج کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔

محکمہ اطلاعات سندھ کے مطابق تریموں بیراج پر گذشتہ 12 گھنٹوں میں 1 لاکھ 12 ہزار 576 کیوسک کا شدید اضافہ ہوا ہے، آمد اور اخراج 4 لاکھ 88 ہزار 169 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

پنجند بیراج پر پانی کی آمد اخراج 3 لاکھ 45 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے، گڈو بیراج پر آمد 3 لاکھ 66 ہزار 151 کیوسک اور اخراج 328487 کیوسک رہا، سکھر بیراج پر آمد 3 لاکھ 29 ہزار 990 کیوسک جبکہ اخراج 2 لاکھ 81 ہزار 985 کیوسک رہا جبکہ کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 45 ہزار 452 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 26 ہزار 497 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

شرجیل انعام میمن کا بیان
سینئیر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کے مطابق گنڈا سنگھ والا، تریموں، پنجند اور بلوکی، راوی، سائفن، شاہدرہ، سدھنائی اور سلیمانکی پر اونچے درجے کا سیلاب ہے، گڈو کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے، جبکہ سکھر اور کوٹری پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔

سینئیر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ صوبے کی 15 اضلاع کی 166 یوسیز سے 1 لاکھ 28 ہزار 57 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔

شرجیل میمن کا کہنا ہے متاثرین کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جا رہی ہے، عوام حکومت کے ساتھ تعاون کریں، افواہوں پر کان نہ دھریں، سندھ حکومت سیلاب سے متاثرہ عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر تمام ضلعی انتظامیہ فیلڈ میں موجود ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 6 ہزار 288 افراد کومحفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے، 5 ہزار 772 افراد کا علاج کیا گیا ہے، مویشیوں کی منتقلی اور حفاظت کے لئے بھی انتظامات کئے ہیں جبکہ 24 گھنٹوں میں 9 ہزار 984 مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کئے گئے ہیں۔

دریائے چناب کی صورتحال
لیاقت پور میں دریائے چناب میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

ذرائع کے مطابق نوروالا شہر کا زمیندارہ بند ٹوٹنے سے پانی گھروں اور اسکول میں داخل ہوگیا ہے جس کے باعث فصلیں زیر آب آگئی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سیلابی پانی گھروں میں داخل ہونے سے لوگ محصور ہو کر رہ گئے ہیں، جس کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

ادھر شور کوٹ میں دریائے چناب کا اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں 4 لاکھ 88 ہزار 169 کیوسک کا ریلا باہو برج شورکوٹ سے گزر رہا ہے جس کے باعث 42 موضع جات کے 200 سے زائد دیہات زیر آب ہیں۔ لوگوں کے کچے مکانات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

جلالپور پیروالہ میں دریائے چناب میں سیلاب سے درجنوں موضعات ڈوب گئے ہیں، سیلابی پانی شہر جلالپور کے حفاظتی بند سے ٹکرا گیا شہر میں بھی سیلاب کے خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بیراج پر پانی کی آمد دریائے چناب اور اخراج آمد 3 لاکھ کے مطابق گئے ہیں

پڑھیں:

موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل

لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن