بیرون ملک مقیم پاکستانی قیمتی سرمایہ ہیں، ہر ممکن سہولت فراہم کرنا ترجیحات میں شامل ہے، وزیر اعظم
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمارے ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
وزیراعظم نے یہ بات چیئرمین اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن قمر رضا اور مینیجنگ ڈائریکٹر او پی ایف افضال بھٹی سے ملاقات کے دوران کہی۔
ملاقات میں وزیراعظم کو معرکہ حق میں پاکستان کی فتح کے حوالے سے بیرون ملک منعقد ہونے والی تقریبات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
اس موقع پر چیئرمین او پی ایف اور ایم ڈی او پی ایف نے وزیراعظم کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل اور ان کو حل کرنے کے لیے حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں بیرون ملک مقیم پاکستانی ایک قوی افرادی قوت کے طور پر اہم خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے حکومت ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بیرون ملک مقیم پاکستانی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔