سیلاب اور موسمیاتی تبدیلیوں کا حل: پنجاب میں جنگلات کا رقبہ بڑھانا ناگزیر
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور سیلاب جیسے خطرناک اثرات سے نمٹنے کے لیے صوبے میں جنگلات کا رقبہ بڑھانا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت یہ کام اکیلے نہیں کر سکتی، بلکہ اس مشن میں عوام، نجی شعبے اور جدید ٹیکنالوجی کا شامل ہونا ضروری ہے۔
یہ بات انہوں نے محکمہ جنگلات پنجاب اور انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کے اشتراک سے منعقدہ دو روزہ ’’فاریسٹ ورکشاپ‘‘ کے افتتاحی اجلاس میں کہی۔
مریم اورنگزیب نے اعتراف کیا کہ ماضی کے ’’بلین ٹری‘‘ منصوبے کے باوجود جنگلات کے رقبے میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر اب جنگلات کے نظام کو جدید ٹیکنالوجی اور مستند ڈیٹا کی بنیاد پر ازسرنو تشکیل دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت ان علاقوں میں بھی شجرکاری کی کوشش کر رہی ہے جہاں درخت لگانا ممکن نہیں، ساتھ ہی غیر قانونی تجاوزات کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پہلی بار جنگلی حیات کا مکمل سروے کیا جا رہا ہے اور تمام ترقیاتی منصوبوں میں کم از کم ایک فیصد رقبہ “گرین کور” کے لیے مخصوص کر دیا گیا ہے۔
مری میں حکومت ایک نیا نظام متعارف کروا رہی ہے جس کے تحت مقامی لوگ خود جنگلات کی نگرانی کریں گے، تاکہ انہیں اس عمل کا حصہ بنایا جا سکے۔ مریم اورنگزیب کے مطابق محکمہ جنگلات کا بجٹ جو پہلے 50 سے 60 کروڑ روپے تھا، اب بڑھا کر 50 ارب روپے کر دیا گیا ہے، جو اس شعبے کی ترجیحی حیثیت کا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پہلی مرتبہ جھینگا فارمنگ پر بھی بڑے پیمانے پر کام شروع ہوا ہے، جس سے مستقبل میں 1.
IUCN پاکستان کے کنٹری ہیڈ محمود اختر چیمہ نے زور دیا کہ موجودہ جنگلات کی حفاظت اور ان میں اضافہ وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورکشاپ میں ماہرین کی سفارشات کو صوبائی پالیسی کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ جنگلات کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
IUCN کے ڈائریکٹر پراجیکٹس عاصم جمال نے کہا کہ نئی شجرکاری کے لیے سرکاری اراضی کو استعمال میں لانا ہوگا، جبکہ سڑکوں، نہروں اور دریاؤں کے کنارے بھی بڑے پیمانے پر درخت لگانے کی ضرورت ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ کمیونٹیز کی شمولیت کے بغیر یہ ہدف حاصل کرنا ناممکن ہے۔
سیکرٹری جنگلات، جنگلی حیات و فشریز مدثر ریاض ملک نے بتایا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں اس شعبے میں خاصی پیش رفت ہوئی ہے۔ وائلڈ لائف فورس قائم کی جا چکی ہے، اور شفاف حکمت عملی کے تحت جھینگا برآمدات کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ماضی میں اس شعبے کو وہ اہمیت نہیں دی گئی جو دی جانی چاہیے تھی۔
IUCN کے ٹیکنیکل ایڈوائزر ڈاکٹر جاوید احمد نے زور دیا کہ پنجاب کے لیے 2025 تک ایک جامع ’’فاریسٹ ویژن‘‘ تیار کیا جائے تاکہ جنگلات کے مستقبل کی سمت واضح ہو۔
ماہر جنگلات بدر منیر نے کہا کہ عوام کو جنگلات کی معاشی، ماحولیاتی اور صحت سے متعلق اہمیت کے بارے میں آگاہی دینا وقت کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ایسی پالیسیاں بنانی چاہییں کہ لوگ خود درخت لگانے میں دلچسپی لیں، جس سے نہ صرف انہیں مالی فائدہ ہوگا بلکہ صوبے کا سبز احاطہ بھی بڑھے گا۔
محکمہ جنگلات کے ڈائریکٹر جنرل اظفر ضیاء نے ایکسپریس نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ پنجاب کے 5 کروڑ ایکڑ رقبے میں سے صرف ساڑھے 16 لاکھ ایکڑ محکمہ جنگلات کے پاس ہے، جن میں ساڑھے 12 لاکھ ایکڑ پر درخت موجود ہیں۔ باقی تقریباً 5 کروڑ ایکڑ زمین نجی ملکیت میں ہے، اس لیے مقامی افراد اور کمیونٹیز کی شمولیت کے بغیر جنگلات کا دائرہ بڑھانا ممکن نہیں۔
ان کے مطابق دریاؤں کے کنارے “بفر زونز” قائم کرنا ضروری ہیں جو زمین کے کٹاؤ کو روکنے اور سیلابی اثرات کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
ورکشاپ میں محکمہ جنگلات کے افسران، WWF کی نمائندہ ڈاکٹر عظمیٰ خان، موٹیویشنل اسپیکر قاسم علی شاہ، “فرینڈز آف فاریسٹ” کے ممبران اور حیاتیاتی تنوع کے طلبہ و طالبات نے بھی شرکت کی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت مقامی لوگوں کو شراکت دار بنائے، غیر قانونی کٹائی پر قابو پائے اور نجی شعبے کو ترغیبات دے تو نہ صرف پنجاب میں جنگلات میں اضافہ ممکن ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے بھی بہتر طور پر نمٹا جا سکتا ہے۔ Post Views: 6
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: محکمہ جنگلات جنگلات کا جنگلات کے انہوں نے کے مطابق بتایا کہ نے کہا کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔