یو اے ای نیول فورسز کے کمانڈر کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات،علاقائی سلامتی اور فوجی تعاون پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
یو اے ای نیول فورسز کے کمانڈر کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات،علاقائی سلامتی اور فوجی تعاون پر تبادلہ خیال WhatsAppFacebookTwitter 0 8 September, 2025 سب نیوز
راولپنڈی(سب نیوز)پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق یو اے ای نیول فورسز کے کمانڈر میجر جنرل حمید محمد عبداللہ الرمیتھی کی ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد آمد ہوئی۔آئی ایس پی آر کے مطابق یو اے ای نیول فورسز کے کمانڈر کی پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات ہوئی۔
ملاقات میں علاقائی سلامتی اور مشترکہ تربیتی اقدامات اور فوجی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا، سربراہ پاک فضائیہ نے جدید، ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ فضائیہ بنانے کے ویژن پر بریفنگ دی۔ملاقات کے دوران سائبر، سپیس، اے آئی اور الیکٹرانک وارفیئر میں اپ گریڈیشن پروگرامز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔سربراہ پاک فضائیہ نے دونوں ممالک کے درمیان گہرے مذہبی اور تاریخی تعلقات کو اجاگر کیا، فوجی تعاون، بالخصوص تربیت اور مشترکہ آپریشنل مشقوں کے شعبوں میں پاکستان کے غیر متزلزل عزم پر زور دیا۔
کمانڈر یو اے ای نیول فورسز نے پرتپاک استقبال اور شاندار مہمان نوازی پر ایئر چیف کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا، کمانڈر یو اے ای نیول فورسز نے پاک فضائیہ کی ٹیکنالوجی اور استعداد کار کی تعریف کی۔آئی ایس پی آر کے مطابق معزز مہمان نے پاک فضائیہ کے ساتھ مشترکہ مشقوں اور تربیتی تعاون میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور کہا کہ پی اے ایف کا آپریشنل فریم ورک اور جنگی نظریہ علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کیلئے انمول ہے۔
کمانڈر یو اے ای نیول فورسز نے کہا کہ یو اے ای فضائیہ، پاکستان میں مشترکہ تربیتی اقدامات میں حصہ لینے کے لیے بے تاب ہے۔معزز مہمان نے اس اقدام کو دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں ایک اہم سنگ بنیاد قرار دیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں ممالک کی افواج نے دفاعی اور فوجی تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنواز شریف، مریم نواز سے بنگلہ دیش کے مشیر مذہبی امور کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر گفتگو نواز شریف، مریم نواز سے بنگلہ دیش کے مشیر مذہبی امور کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر گفتگو پنجاب میں سیلابی صورت حال شدت اختیار کرگئی، پنجند اور تریموں پر اونچا سیلاب، بستیاں زیرآب، ہزاروں ایکڑ فصلیں تباہ عمران خان اور بشری بی بی کیخلاف توشہ خانہ ٹو کیس میں 3گواہوں کے بیانات پر جرح مکمل پاکستان نے بہت کچھ دیا، اب لوٹانے کاوقت ہے، شاہد آفریدی کاسیلاب متاثرین کیلئے فنڈریزنگ تقریب سے خطاب سوئس سیاح پاکستان کو بین الاقوامی سیاحوں کے لیے محفوظ مقام قرار دیتے ہیں دعوتِ اسلامی کی تعلیمی کونسل کی جانب سے اسلام آباد میں عظیم الشان میلاد اجتماع اور ایوارڈز تقریبCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سربراہ پاک فضائیہ پر تبادلہ خیال فوجی تعاون کے مطابق اور فوجی
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔