اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان کے معاشی حالات میں بہتری آرہی ہے، نواز شریف
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کے معاشی حالات میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بہتری آرہی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر محمد نواز شریف اوروزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے لاہور میں ملاقات کی اس موقع پر قونصل جنرل مہران موحد فر بھی موجود تھے۔
نواز شریف اور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا معزز ایرانی سفیر اور قونصل جنرل کا پر تپاک و پر خلوص خیرمقدم کیا جبکہ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال،توانائی اور تجارت کے فروغ پر تبادلہ خیال اور پاک ایران تعلقات کو بلندیوں کے نئے افق تک لے جانے پر اتفاق کیا گیا۔
شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ایران کے صدر کی پاکستان آمد پرلاہور میں خیرمقدم کرنا خوشگوار تجربہ تھا، ایرانی صدر دوراندیش، معتبر اور دانا شخصیت کے مالک ہیں۔
نواز شریف نے کہا کہ ایران کے ساتھ تعلقات کو بہتری کی اعلیٰ ترین سطح تک لیکر جانا چاہتے ہیں، اسرائیل کیخلاف جنگ کے دوران ہماری دعائیں اور ہمدریاں ایران کے ساتھ تھیں، اسرائیل کے خلاف جنگ جیتنے پر ایرانی بھائیوں کو گلے لگا کر مبارکباد دیتے ہیں۔
مسلم لیگ ن کے صدر نے کہا کہ ایرانی صدر فسنجانی کے دور میں ایران کا پہلادورہ کیا اور تعلقات قائم کیے، ایران کے رہبر اعلیٰ کی شخصیت متاثر کن ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ ایرانیوں کا علامہ اقبال کو اقبال لاہوری کہنااچھا لگتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معاشی حالات میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بہتری آرہی ہے، بد قسمتی سے سابقہ دور میں ہمسائیوں کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں تھے مگر اب اچھا تعلقات چاہتے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز
اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا کہ ایرانی صدر کے دورے نے باہمی شراکت داری کو مزید فروغ دیا ہے، پاکستان سیلاب سے شدید متاثر ہے، اس موقع پر ایرانی عوام اور حکومت کی ہمدردی و یکجہتی دیرینہ رشتے کی عکاس ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں سیلاب پر ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لئے کام کررہے ہیں، صوبے میں سیلاب کی وجہ سے بہت نقصان ہوا، لیکن بروقت اقدامات کی وجہ سے ہزاروں جانوں کو بچانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
مریم نواز نے اسرائیل کے خلاف جنگ میں ایران کی بہادری کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے بہادری سے جنگ لڑی، والد محمد نواز شریف بھی ہمیں ایران کے لئے دعا کرنے کا کہتے رہے۔
ایران اور پاکستان کے باہمی تعلقات متاثرکن ہیں۔ ایرانی سفیر
ایرانی سفیر نے حکومت اور عوام کی طرف سے 12روزہ جنگ کے دوران بھرپور حمایت پر پاکستانی قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات دن بدن مضبوط ہورہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران سے پاکستان آنے والا وفد سب سے پہلے لاہور کا دورہ کرتا ہے، لاہور ریجنل ہب کے طور پر سامنے آرہا ہے۔ سیاحت اورثقافت کے فروغ کے لئے وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کے متاثر کن اقدامات کی بدولت لوگ پنجاب کا رخ کررہے ہیں۔
ایرانی سفیرنے کہا کہ 9 نومبر کو ایران میں اقبال ڈے منایا جائے گا، ایران کے میوزیکل بینڈ پاکستان کا دورہ بھی کریں گے۔ 300 سے زائد ایرانی طلبہ پاکستانی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں، ایرانی طلبہ میاں محمد نواز شریف کو والد کی مانند احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کے مسئلے پر پاکستان اور پاکستان کے عوام کا موقف قابل تحسین و تقلید ہے، جب عہدہ سنبھالا تو پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 3ارب روپے تھے، آج 20ارب روپے سے بھی زائد ہیں۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ مہنگائی کی شرح 40 فیصد تھی، اب پانچ فیصد سے بھی کم ہوچکی ہے۔ سیلاب کے دوران وزیراعلیٰ مریم نواز شریف اپنے عوام کے ساتھ کھڑی ہیں اور بہت محنت کررہی ہیں، وزیراعلی مریم نواز شریف کی طرف سے سیلاب زدہ عوام کو ریلیف کی کوششیں قابل تحسین ہیں۔
ایرانی سفیر نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو ایران کے عوام عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ہماری درخواست ہے کہ فارسی زبان کو پنجاب کی جامعات میں مزید فروغ دیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نواز شریف نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ مریم نواز شریف ایرانی سفیر پاکستان کے ایران کے کے ساتھ کے صدر
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔