ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل، سب ڈویژنز کے اسسٹنٹ کمشنرز، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز (میل و فیمیل)، ڈسٹرکٹ خزانہ آفیسر سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین کے زیر انتظام قائم اسکولوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ یہ اسکول افغان شہریوں نے قائم کیے ہیں جہاں اساتذہ اور طلبا بھی افغان ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں مقیم افغان باشندوں کی اپنے وطن واپسی کم کیوں؟

شرکا نے بتایا کہ ان اسکولوں کی اکثریت ہزارہ ٹاؤن، پشتون آباد، علمدار روڈ، کرانی اور قمبرانی کے علاقوں میں واقع ہے۔ متعلقہ افسران نے ان اداروں کا معائنہ کرکے اساتذہ اور طلبا کے حوالے سے مکمل ڈیٹا جمع کیا ہے۔

اجلاس میں حکومتی فیصلے کے مطابق ان اسکولوں کو سیل کرنے اور افغان اساتذہ و طلبا کو ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ساتھ ہی نئے تعینات ہونے والے اساتذہ کی تنخواہوں کی ادائیگی سے متعلق معاملات بھی زیر غور آئے۔

مزید برآں اجلاس میں کوئٹہ کے مختلف اسکولوں میں تجاوزات کے مسئلے پر بھی بات چیت کی گئی۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ چشمہ اچوزئی اسکول اور نواب اکبر خان بگٹی اسکول سے تمام تجاوزات ختم کر دی گئی ہیں جبکہ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ باقی اسکولوں سے بھی ایک ہفتے کے اندر تجاوزات کا خاتمہ یقینی بنایا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اساتذہ اسکول افغان کوئٹہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اساتذہ اسکول افغان کوئٹہ

پڑھیں:

افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی

افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔

مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور

بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔

یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔

کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ